Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1009

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان

3 hadiths in this chapter

5916

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5916

Sahih

۔ (۵۹۱۶)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَفِیْ لَفْظٍ: مِنْ قُرَیْشٍ، لَایَزَالُیُغْبَنُ فِی الْبُیُوْعِ وَکَانَ فِیْ لِسَانِہِ لُوْثَۃٌ، فَشَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَلْقٰی مِنَ الْغَبْنِ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِِذَا أَنْتَ بَایَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَۃَ۔)) قَالَ: یَقُوْلُ ابْنُ عُمَرَ: فَوَاللّٰہِ لَکَأَنِّیْ أَسْمَعُہُ یُبَایِعُ وَیَقُوْلُ: لَا خِلَابَۃَ،یُلَجْلِجُ بِلِسَانِہِ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری یا قریشی آدمی سودے میں دھوکہ کھاتا رہتا تھا، اس کی زبان میں اٹکن تھی، پس اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ہونے والے خسارے کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: جب تو سودا کرنے لگے تو کہہ: دھوکہ نہ ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا اب بھی میں اس کو یہ اٹک اٹک کر بولتے ہوئے کہتے سن رہا ہوں کہ دھوکہ نہ ہو ۔

5917

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5917

Sahih

۔ (۵۹۱۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبْتَاعُ وَفِیْ عُقْْدَتِہِ یَعْنِیْ عَقْلِہِ ضَعْفٌ فَأَتٰی اَھْلُہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! اُحْجُرْ عَلٰی فُـلَانٍ، فَاِنَّہُ یَبْتَاعُ وَفِیْ عُقْدَتِہِ ضَعْفٌ، فَدَعَاہُ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَہَاہُ عَنِ الْبَیْعِ، فقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّیْ لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَیْعِ، فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ کُنْتَ غَیْرَ تَارِکِ الْبَیْعِ فَقُلْ: ھُوَ ھَائَ وَھَائَ وَلَا خِلَابَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ایک آدمی تجارت کیا کرتا تھا، اس کی عقل میں کچھ کمزور تھی، اس لیے اس کے گھروالے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! آپ اس آدمی پر پابندی لگا دیں، کیونکہ وہ سودے کرتا ہے اور اس کے عقل میں کمزوری ہے (اس طرح نقصان اٹھا بیٹھتا ہے)، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا اور تجارت کرنے سے منع کر دیا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تجارت کے بغیر نہیں رہ سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اِس لین دین کو نہیں چھوڑ سکتا تو سودا کرتے وقت کہا کر: لیجئے جناب اور دیجئے، لیکن دھوکہ نہ ہو۔

5918

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5918

Sahih

۔ (۵۹۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیْدِ الثَّقَفِیُّ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ مُحَمَّدٍ فَذَکَرَ قِصْۃً فِیْہَا قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ خُیِّرَ عَبْدُ اللّٰہِ بَیْنَ ثَلَاثِیْنَ اَلْفًا وَبَیْنَ آنِیَۃٍ مِنْ فِضَّۃٍ قَالَ: فَاخْتَارَ الْآنِیَۃَ، قَالَ: فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنْ دَارِیْنَ فَبَاعَہُمْ إِیَّاھَا الْعَشْرَۃَ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ ثُمَّ لَقِیَ أَبَابَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: أَ لَمْ تَرَکَیْفَ خَدَعْتُہُمْ، قَالَ: کَیْفَ؟ فَذَکَرَ لَہُ ذٰلِکَ، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَیْکَ أَوْ اَقْسَمْتُ عَلَیْکَ لَتَرُدَّنَّہَا فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی عَنْ مِثْلِ ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ محمد ایک قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب وہ آئے توعبداللہ کو تیس ہزار اورچاندی کے برتنوں کے درمیان اختیار دیاگیا، انہوں نے برتن کو اختیار کیا، پھر جب (بحرین کے علاقے) دارِ ین سے تا جر آئے تو عبداللہ نے ان کو اس چاندی کے دس برتن، تیرہ برتنوں کے عوض فروخت کر دیئے، پھر جب وہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے تو کہا: کیا تمہیں پتہ چلا ہے کہ میں نے ان کو کیسے دھوکہ دیا ہے؟ انھوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ پھر اس نے ساری تفصیل بتائی،یہ سن کر سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تجھ پر عزم کرتا ہوں یا تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو یہ سودا واپس کر دے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نےاس قسم کی تجارت سے منع کرتے تھے۔