Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5916
۔ (۵۹۱۶)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَفِیْ لَفْظٍ: مِنْ قُرَیْشٍ، لَایَزَالُیُغْبَنُ فِی الْبُیُوْعِ وَکَانَ فِیْ لِسَانِہِ لُوْثَۃٌ، فَشَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَا یَلْقٰی مِنَ الْغَبْنِ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِِذَا أَنْتَ بَایَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَۃَ۔)) قَالَ: یَقُوْلُ ابْنُ عُمَرَ: فَوَاللّٰہِ لَکَأَنِّیْ أَسْمَعُہُ یُبَایِعُ وَیَقُوْلُ: لَا خِلَابَۃَ،یُلَجْلِجُ بِلِسَانِہِ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۴)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری یا قریشی آدمی سودے میں دھوکہ کھاتا رہتا تھا، اس کی زبان میں اٹکن تھی، پس اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہونے والے خسارے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جب تو سودا کرنے لگے تو کہہ: دھوکہ نہ ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا اب بھی میں اس کو یہ اٹک اٹک کر بولتے ہوئے کہتے سن رہا ہوں کہ دھوکہ نہ ہو ۔