Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 9 · Chapter 87

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

492

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #492

Sahih

۔ (۴۹۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ وَکَانَ اِذَا أَتٰی حَاجَتَہُ أَبْعَدَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔

493

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #493

Zaeef

۔ (۴۹۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَتَی الْغَائِطَ فَلْیَسْتَتِرْ، فَاِنْ لَمْ یَجِدِ اِلَّا أَنْ یَجْمَعَ کَثِیْبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْیَسْتَدْبِرْہُ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِیْ آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے، وہ پردہ کرے، اور اگر اسے کوئی چیز نہ ملے تو وہ ریت کا ایک ڈھیر جمع کر کے اس کی طرف پیٹھ کر لے، کیونکہ شیطان بنوآدم کی دبروں سے کھیلتا ہے، جس نے ایسے کیا، اس نے اچھا کیا اور جس نے ایسے نہ کیا، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔

494

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #494

Sahih

۔ (۴۹۴)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَنَۃَؓ قَالَ: کُنْت أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَیْنِ، قَالَ: فخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ دَرَقَۃٌ أَوْ شِبْہُہَا فَاسْتَتَرَ بِہَا فَبَالَ جَالِسًا، قَالَ: فقُلْنَا: أَیَبُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا تَبُوْلُ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: فَجَائَ نَا فَقَالَ: ((أوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، کَانَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ اِذَا أَصَابَہُ شَیْئٌ مِنَ الْبَوْلِ قَرَضَہُ، فَنَہَاہُمْ عَنْ ذٰلِکَ فَعُذِّبَ فِیْ قَبْرِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عمرو بن عاص ؓبیٹھے ہوئے تھے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے پاس ایک ڈھال یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عورت کی طرح پیشاب کرتے ہیں؟ اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: کیا تم جانتے نہیں ہو کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب بنواسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس مقام کو کاٹتا تھا، لیکن ان کے ساتھی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا، پس اس وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا گیا۔

495

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #495

Sahih

۔ (۴۹۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوْا اِلَیْہِ یَبُوْلُ کَمَا تَبُوْلُ الْمَرْأَۃُ، قَالَ: فَسَمِعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمفَقَالَ: ((وَیْحَکَ، أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: بعض لوگوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف دیکھو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ بات سن لی اور فریایا: تیرا ناس ہو، کیا تو نہیں جانتا کہ بنو اسرائیل کے ساتھی کو کیا سزا ہوئی تھی۔

496

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #496

Sahih

۔ (۴۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایخَرُجِ الرَّجُلَانِ یَضْرِبَانِ الْغَائِطَ کَاشِفَیْنِ عَوْرَتَہُمَا یَتَحَدَّثَانِ فَاِنَّ اللّٰہَ یَمْقُتُ عَلَی ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو آدمی اس طرح نہ نکلیں کہ وہ دونوں پائخانہ کر رہے ہو، شرمگاہوں کو ننگا کر رکھا ہو اور اس حالت میں گفتگو بھی کر رہے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی صورت پر سخت ناراض ہوتا ہے۔