Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #484
۔ (۴۸۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((لَایَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْجُحْرِ، وَاِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوْا السِّرَاجَ، فَاِنَّ الْفَأْرَۃَ تَأْخُذُ الْفَتِیْلَۃَ فَتَحْرِقُ أَھْلَ الْبَیْتِ، وَأَوْکِئُوْا الْأَسْقِیَۃَ وَخَمِّرُوْالشَّرَابَ وَغَلِّقُوْا الْأَبْوَابَ بِاللَّیْلِ۔)) قَالُوْا لِقَتَادَۃَ: مَا یَکْرَہُ مِنَ الْبَوْلِ فِیْ الْجُحْرِ؟ قَالَ: یُقَالُ: اِنَّہَا مَسَاکِنُ الْجِنِّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۵۶)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبد اللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہرگز بِل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔ لوگوں نے قتادہ سے کہا: بِل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟ انھوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔