Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 9 · Chapter 85

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے

4 hadiths in this chapter

484

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #484

Sahih

۔ (۴۸۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْجُحْرِ، وَاِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوْا السِّرَاجَ، فَاِنَّ الْفَأْرَۃَ تَأْخُذُ الْفَتِیْلَۃَ فَتَحْرِقُ أَھْلَ الْبَیْتِ، وَأَوْکِئُوْا الْأَسْقِیَۃَ وَخَمِّرُوْالشَّرَابَ وَغَلِّقُوْا الْأَبْوَابَ بِاللَّیْلِ۔)) قَالُوْا لِقَتَادَۃَ: مَا یَکْرَہُ مِنَ الْبَوْلِ فِیْ الْجُحْرِ؟ قَالَ: یُقَالُ: اِنَّہَا مَسَاکِنُ الْجِنِّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن سرجس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی ہرگز بِل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔ لوگوں نے قتادہ سے کہا: بِل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟ انھوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔

485

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #485

Sahih

۔ (۴۸۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِیْ مُسْتَحَمِّہِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ فِیْہِ، فَاِنَّ عَامَّۃَ الْوِسْوَاسِ مِنْہُ)) (مسند أحمد: ۲۰۸۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی غسل خانے میں پیشاب نہ کیا کرے، پھر اس میں وضو کرے گا، پس عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔

486

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #486

Sahih

۔ (۴۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَبُوْلَ الرَّجُلُ فِیْ مُسْتَحَمِّہِ، فَاِنَّ عَامَّۃَ الْوِسْوَاسِ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے، کیونکہ عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔

487

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #487

Sahih

۔ (۴۸۷)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعَ سِنِیْنَ کَمَا صَحِبَہُ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ أَرْبَعَ سِنِیْنَ، قَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَمْتَشِطَ أَحَدُنَا کُلَّ یَوْمٍ وَأَنْ یَبُوْلَ فِیْ مُغْتَسَلِہِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ یَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ، وَلْیَغْتَرِفُوْا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلْیَغْتَرِفَا) جَمِیْعًا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

حُمید بن عبد الرحمن حِمْیَری کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ ؓکی طرح چار برسوں تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت کا شرف ملا تھا ، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یابیوی خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔