Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 89 · Chapter 971

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب

آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ

7 hadiths in this chapter

5653

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5653

Zaeef

۔ (۵۶۵۳۔) حَدَّثَنِی شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُکْثِرُ فِی دُعَائِہِ أَنْ یَقُولَ: ((اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ، قَالَ: ((نَعَمْ، مَا مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا أَنَّ قَلْبَہُ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ، فَإِنْ شَائَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَہُ وَإِنْ شَائَ اللّٰہُ أَزَاغَہُ، فَنَسْأَلُ اللّٰہَ رَبَّنَا أَنْ لَا یُزِیغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا، وَنَسْأَلُہُ أَنْ یَہَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْہُ رَحْمَۃً، إِنَّہُ ہُوَ الْوَہَّابُ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا تُعَلِّمُنِی دَعْوَۃً أَدْعُو بِہَا لِنَفْسِی؟ قَالَ: ((بَلٰی، قُولِی اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔))(مسند أحمد: ۲۷۱۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا)۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا دل بھی الٹ پلٹ ہو جاتے ہیں (کہ آپ کثرت سے یہ دعا کرتے ہیں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، بنو آدم میں سے ہر بشر کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو قائم رکھے گا اور چاہے تو ٹیڑھاکر دے گا، پس ہم اپنے رب سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرے اور ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر دے، بیشک وہ عطا کرنے والا ہے۔ میں (ام سلمہ) نے کہا: کیا آپ مجھے بھی کوئی دعا سکھلا دیں گے، تاکہ میں اس کے ساتھ اپنے نفس کے لیے دعا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا (اے اللہ! اے میرے ربّ! نبی محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کے غصے کو دور کر دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے)۔

5654

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5654

Sahih

۔ (۵۶۵۴۔) عن النَّوَّاس بْن سَمْعَانَ الْکِلَابِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا وَہُوَ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ رَبِّ الْعَالَمِینَ إِنْ شَائَ أَنْ یُقِیمَہُ أَقَامَہُ، وَإِنْ شَائَ أَنْ یُزِیغَہُ أَزَاغَہُ۔)) وَکَانَ یَقُولُ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ، وَالْمِیزَانُ بِیَدِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ یَخْفِضُہُ وَیَرْفَعُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نواس بن سمعان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر دل ربّ العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو راہ راست پر رکھے اور اگر چاہے تو ٹیڑھا کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلٰی دِینِکَ (اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ)۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رحمن کے ہاتھ میں ترازو ہے، وہ اس کو پست کرتا ہے اور بلند کرتا ہے۔

5655

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5655

Sahih

۔ (۵۶۵۵۔) عَن عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَعَوَاتٌ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَدْعُوَ بِہَا: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تُکْثِرُ تَدْعُو بِہٰذَا الدُّعَائِ، فَقَالَ: ((إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِیِّ بَیْنَ أُصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا شَائَ أَزَاغَہُ وَإِذَا شَائَ أَقَامَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۱۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول۱ آپ بھی یہ دعا کثرت سے کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اس کو ٹیڑھا کر دے اور چاہے تو سیدھا رکھے۔

5656

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5656

Sahih

۔ (۵۶۵۶۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ وَأَہْلُہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتَخَافُ عَلَیْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہِ، قَالَ: ((إِنَّ الْقُلُوبَ بِیَدِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یُقَلِّبُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۷۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی دِینِکَ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اور گھر والوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں، جبکہ ہم آپ کے ساتھ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔

5657

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5657

Sahih

۔ (۵۶۵۷۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ عَزَّ وَجَلَّ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ، یُصَرِّفُ کَیْفَ یَشَائُ۔)) ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: )

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بنو آدم کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ جیسے چاہے ان کو پھیر دیتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ اصْرِفْ قُلُوبَنَا إِلٰی طَاعَتِکَ (اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔

5658

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5658

Sahih

۔ (۵۶۵۸۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: مَا رَفَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ إِلَّا قَالَ: ((یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھایا تو یہ دعا کی: یَامُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ (اے دلوں کو پھیر دینے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے)۔

5659

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5659

Zaeef

۔ (۵۶۵۹۔) عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا سُمِّیَ الْقَلْبُ مِنْ تَقَلُّبِہِ إِنَّمَا مَثَلُ الْقَلْبِ کَمَثَلِ رِیشَۃٍ مُعَلَّقَۃٍ فِی أَصْلِ شَجَرَۃٍ یُقَلِّبُہَا الرِّیحُ ظَہْرًا لِبَطْنٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (عربی میں دل کو) قَلْب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے، دل کی مثال درخت کے تنے کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی مانند ہے، جس کو ہوا سیدھا اور الٹا کرتی رہتی ہے۔