Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 89 · Chapter 964

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب

دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان

5 hadiths in this chapter

5605

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5605

Sahih

۔ (۵۶۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْقُلُوبُ أَوْعِیَۃٌ، وَبَعْضُہَا أَوْعٰی مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَیُّہَا النَّاسُ! فَاسْأَلُوہُ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَۃِ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَجِیبُ لِعَبْدٍ دَعَاہُ عَنْ ظَہْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ)) (مسند أحمد: ۶۶۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دل برتنوں کی طرح ہیں اور بعض دل بعض سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں، پس اے لوگو! جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس حال میں کہ تمھیں اس کی قبولیت کا یقین ہو، بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے کی دعا قبول نہیں کرتا، جو غافل اور بے پرواہ دل سے دعا کرتا ہے۔

5606

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5606

Sahih

۔ (۵۶۰۶)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) اَنَّ رَجُلًا قَالَ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ حَجَبْتَھَا عَنْ نَاسٍ کَثِیْرِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی نے یوں دعا کی: اے اللہ! صرف مجھے اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو بخش، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس کو بہت زیادہ لوگوں سے روک دیا ہے۔

5607

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5607

Sahih

۔ (۵۶۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ أُبَیٍّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا ذَکَرَ الْأَنْبِیَائَ بَدَأَ بِنَفْسِہِ فَقَالَ: ((رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلٰی ہُودٍ وَعَلٰی صَالِحٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۴۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی ّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب انبیائے کرامhکا ذکر کرتے تو اپنی ذات سے شروع کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی رحمت ہو ہم پر، ہود علیہ السلام پر اور صالح علیہ السلام پر۔

5608

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5608

Sahih

۔ (۵۶۰۸)۔ عن طَلْحَۃَ بْن عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ کَرِیزٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ یُسْتَجَابُ لِلْمَرْئِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ لِأَخِیہِ، فَمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِدَعْوَۃٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَکُ: وَلَکَ بِمِثْلٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں جب وہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسے ہی ہو۔

5609

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5609

Sahih

۔ (۵۶۰۹)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَتْ تَحْتَہُ أُمُّ الدَّرْدَائِ فَأَتَاہُمْ فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَائِ فَقَالَتْ لَہُ: أَتُرِیدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْعُ لَنَا بِخَیْرٍ، فَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((إِنَّ دَعْوَۃَ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَۃٌ لِأَخِیہِ بِظَہْرِ الْغَیْبِ عِنْدَ رَأْسِہِ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ بِہِ، کُلَّمَا دَعَا لِأَخِیہِ بِخَیْرٍ قَالَ آمِینَ وَلَکَ بِمِثْلٍ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ إِلَی السُّوقِ فَلَقِیتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَحَدَّثَنِی عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۸۱۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا صفوان بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کی بیوی سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، ابو زبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا، لیکن سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو گھر پایا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو اس سال حج کرنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تو پھر ہمارے لیے بھی خیر و بھلائی کی دعا کرنا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا مقبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لے خیر و بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہہ کر کہتا ہے: اور تجھے بھی ایسی ہی (خیر وبھلائی) نصیب ہو۔ جب میں بازار کی طرف نکلا تو سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، انھوں نے بھی مجھے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔