Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 87 · Chapter 952

نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب

سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان

16 hadiths in this chapter

5532

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5532

Sahih

۔ (۵۵۳۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُولُ: یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا وَضَعَ جَنْبَہُ یَقُولُ: ((بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی فَإِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنا پہلو بسترپر رکھتے تو یہ دعا پڑھتے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی فَإِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ(اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا ، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔

5533

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5533

Sahih

۔ (۵۵۳۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ إِذَا أَوٰی إِلَی فِرَاشِہِ: ((اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ، اقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَأَغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ، اقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَأَغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ(اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے ربّ! زمین کے ربّ! ہر چیز کے ربّ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات و انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس شریر کے شرّسے کہ تو جس کی پیشانی پکڑنے والا ہے، تو اوّل ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو آخِر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں، تو میرا قرض اتار دے اور مجھے فقر سے غنی کر دے)۔

5534

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5534

Zaeef

۔ (۵۵۳۴)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ حِینَ یَأْوِی إِلٰی فِرَاشِہِ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ ذُنُوبَہُ، وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ، وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ، وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ عَدَدِ وَرَقِ الشَّجَرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بستر پر آ کر تین بار یہ دعا پڑھی: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ (میں اس اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر وہی، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں) تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں اور اگرچہ وہ (شام کی) عالج جگہ کی ریت کے برابر ہوں، بلکہ اگرچہ وہ درختوں کے پتوں کے برابر ہوں۔

5535

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5535

Sahih

۔ (۵۵۳۵)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا أَوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا وَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤْوِیَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا وَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤْوِیَ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہمیں کفایت کیا اور ہمیں جگہ دی، پس کتنے ہی لوگ ہیں کہ ان کی ضروریات کو پورا کرنے والا اور ان کو جگہ دینے والا کوئی نہیں)۔

5536

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5536

Sahih

۔ (۵۵۳۶)۔ عَنِ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ یَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ: ((اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِی إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک انصاری آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِی إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ(اے اللہ!میں نے اپنے نفس کو تیرے مطیع کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنی پشت تیری طرف جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، تجھ سے نہ کوئی پناہ لینے کی جگہ اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری طرف، میں تیری کتا ب پر ایمان لایا جو تونے نازل کی اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا۔) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا۔

5537

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5537

Sahih

۔ (۵۵۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَوَیْتَ إِلٰی فِرَاشِکَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلٰی شِقِّکَ الْأَیْمَنِ، وَقُلْ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ الْمُتَقَدِّمِ بِلَفْظِہِ اِلَّا اَنَّہٗ قَالَ: ((فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جگہ پکڑنے لگے تو وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر سو جا اور کہہ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ…، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، … البتہ اس کے آخری الفاظ یوں ہیں: پس اگر تو فوت ہو گیا تو فطرتِ اسلام پر وفات پائے گا۔

5538

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5538

Sahih

۔ (۵۵۳۸)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ وَقَالَ: فَتَوَضَّأْ وُضُوء َکَ لِلصَّلَاۃِ وَقَالَ: اجْعَلْہُنَّ آخِرَ مَا تَتَکَلَّمُ بِہِ، قَالَ: فَرَدَّدْتُہَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا بَلَغْتُ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، قُلْتُ: وَبِرَسُولِکَ، قَالَ: ((لَا، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی: ((فَاِنْ مِتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ مِتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ، وَاِنْ اَصْبَحْتَ اَصْبَحْتَ وَقَدْ اَصَبْتَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) سابقہ سند کے ساتھ سابق روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ یوں ہیں: پس تو نماز والا وضو کر، … اس دعا کو آخر میںپڑھ (یعنی اس کے بعد چپ ہو کر سو جا)۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ دعا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنائی، جب میں بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَکے لفظ تک پہنچا تو میں نے کہا: وَبِرَسُولِکَ، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ الفاظ ہیں: وَبِنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو اس رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا اور اگر صبح تک بقید ِ حیات رہا تو بہت زیادہ بھلائی پائے گا۔

5539

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5539

Sahih

۔ (۵۵۳۹)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا اضْطَجَعَ الرَّجُلُ فَتَوَسَّدَ یَمِینَہُ ثُمَّ قَالَ: اَللّٰھُمَّ إِلَیْکَ أَسْلَمْتُ نَفْسِی)) فَذَکرَ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ: ((وَمَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ أَوْ بُوِّئَ لَہُ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۸۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چوتھی سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی سوئے تو اپنے دائیں ہاتھ کو سر کے نیچے رکھے اور پھر یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِلَیْکَ أَسْلَمْتُ نَفْسِی…۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: اگر وہ اسی رات فوت ہو گیا تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔

5540

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5540

Sahih

۔ (۵۵۴۰)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَامَ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی خَدِّہِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے اللہ! اس دن میں اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندے کو اٹھائے گا)۔

5541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5541

Sahih

۔ (۵۵۴۱)۔ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ الْوَلِیدِ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنِّی أَجِدُ وَحْشَۃً قَالَ: ((إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَکَ فَقُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَنْ یَحْضُرُونِ، فَإِنَّہُ لَا یُضَرُّ وَبِالْحَرِیِّ أَنْ لَا یَقْرَبَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ولید بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں وحشت محسوس کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھا کر: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَنْ یَحْضُرُونِ۔(میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) تو پھر شیطان تجھے نقصان نہیں دے گا، بلکہ بہت لائق ہے کہ وہ تیرے قریب ہی نہ آئے۔

5542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5542

Sahih

۔ (۵۵۴۲)۔ عن أَبی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ حَدَّثَہُ قَالَ: أَخْرَجَ لَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قِرْطَاسًا وَقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُنَا یَقُولُ: ((اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ، وَإِلَہُ کُلِّ شَیْئٍ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُونَ، أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی إِثْمًا أَوْ أَجُرَّہُ عَلٰی مُسْلِمٍ۔)) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: کَانَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعَلِّمُہُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ یَقُولَ ذٰلِکَ حِینَ یُرِیدُ أَنْ یَنَامَ۔ (مسند أحمد: ۶۵۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عبد الرحمن حبلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمارے لیے ایک کاغذ نکالا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں یہ دعا سکھاتے تھے: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ، وَإِلَہُ کُلِّ شَیْئٍ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُونَ، أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی إِثْمًا أَوْ أَجُرَّہُ عَلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی یہ گواہی دیتے ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان سے اور اس کے شرک سے، اور میں تیرے پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس دعا کی تعلیم دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ سونا چاہے تو اس وقت یہ دعا پڑھا کرے۔

5543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5543

Sahih

۔ (۵۵۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ فَاطِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا شَکَتْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَثَرَ الْعَجِینِ فِی یَدَیْہَا، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْیٌ، فَأَتَتْہُ تَسْأَلُہُ خَادِمًا، فَلَمْ تَجِدْہُ فَرَجَعَتْ، قَالَ: فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، قَالَ: فَذَہَبْتُ لِأَقُومَ، فَقَالَ: ((مَکَانَکُمَا۔)) فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ حَتّٰی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَیْہِ، فَقَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکُمَا عَلٰی مَا ہُوَ خَیْرٌ لَکُمَا مِنْ خَادِمٍ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَکُمَا سَبَّحْتُمَا اللّٰہَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَحَمِدْتُمَاہُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَکَبَّرْتُمَاہُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آٹا پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑ جانے والے نشانات کا شکوہ کیا، اُدھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس قیدی آئے تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک خادمہ کا مطالبہ کرنے کے لیے آئیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر پر موجود نہیں تھے، اس لیے لوٹ گئیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس آئے، جبکہ ہم لیٹ چکے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاطر اٹھنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے ، جب تم سونے لگو، تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔

5544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5544

Sahih

۔ (۵۵۴۴)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا فِی حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھُمَا: ((تُسَبِّحَانِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرًا، وَتُحَمِّدَانِ عَشًْرا وَتُکَبِّرَانِ عَشْرًا، وَاِذَا اَوَیْتُمَا اِلٰی فِرَاشِکُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَّثلَاَثِیْنَ)) الخ (مسند أحمد: ۸۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک طویل حدیث بھی ہے، اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ، دس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور دس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو، اور جب اپنے بستروںپر آ جاؤ تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، …۔

5545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5545

Zaeef

۔ (۵۵۴۵)۔ عَنِ ابْنِ اَعْبُدٍ قَالَ: قَالَ لِیْ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَلَا اُخْبِرُکَ عَنِّیْ وَعَنْ فَاطِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، کَانَتْ ابْنَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَتْ مِنْ أَکْرَمِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ، وَکَانَتْ زَوْجَتِی، فَجَرَتْ بِالرَّحٰی حَتّٰی أَثَّرَ الرَّحٰی بِیَدِہَا، وَأَسْقَتْ بِالْقِرْبَۃِ حَتّٰی أَثَّرَتِ الْقِرْبَۃُ بِنَحْرِہَا، وَقَمَّتِ الْبَیْتَ حَتَّی اغْبَرَّتْ ثِیَابُہَا، وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقِدْرِ حَتّٰی دَنِسَتْ ثِیَابُہَا، فَأَصَابَہَا مِنْ ذٰلِکَ ضَرَرٌ، فَقُدِمَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْیٍ أَوْ خَدَمٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہَا: انْطَلِقِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْأَلِیہِ خَادِمًا یَقِیکِ حَرَّ مَا أَنْتِ فِیہِ، فَانْطَلَقَتْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدَتْ عِنْدَہُ خَدَمًا أَوْ خُدَّامًا، وَلَم تَسْأَلْہٗ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، فَقاَلَ: ((اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ لَکَ مِنْ خَادِمٍ؟ اِذَا اَوَیْتِ اِلٰی فِرَاشِکِ سَبِّحِی اللّٰہَ ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ، وَاحْمَدِیْ ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ، وَکَبِّرِی اَرْبَعًا وَّثَلَاثِیْنَ۔)) قَالَ: فَأَخْرَجَتْ رَأْسَھَا وَقَالَتْ: رَضِیْتُ عَنِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۳۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن اعبد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے اپنی اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بات بتلاؤں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل و عیال میں سے سب سے زیادہ معزز تھیں اور وہی میری بیوی بھی تھیں، انھوں نے اس قدر چکی چلائی کہ اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، انھوں نے مشکیزے کے ذریعے اتنا پانی لایا کہ ان کے گلے میں نشان پڑ گیا اور انھوں نے گھر میں جھاڑو دیا، یہاں تک کہ ان کے کپڑے خاک آلود ہو گئے، انھوں نے ہنڈیا کے نیچے اس قدر آگ جلائی کہ ان کے کپڑے میلے ہو گئے، ان کاموں سے ان کو تکلیف ہوئی، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس قیدی یا لونڈیاں لائی گئیں، میں نے سیدہ سے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور ایک غلام کا سوال کرو، جو تمہیں کام کی اس مشقت سے بچائے، پس وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئیں اور واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس غلام پائے، لیکن وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال نہ کر سکیں، …۔ پھر حدیث کا بقیہ حصہ ذکر کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے حق میں غلام سے بہتر ہے، جب اپنے بستر پر لیٹو تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر اس نے پردے سے اپنا سر نکالا اور دو بار کہا: میں اللہ اور رسول سے راضی ہوں۔

5546

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5546

Sahih

۔ (۵۵۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ اَمَرَ رَجُلًا اِذَا اَخَذَ مَضْجِعَہٗ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَوَفَّاھَا، لَکَ مَمَاتُھَا وَمَحْیَاھَا، اِنْ اَحْیَیْتَھَا فَاحْفَظْھَا، وَاِنْ اَمَتَّھَا فَاغْفِرْلَھَا، اَللّٰھُمَّ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ۔)) فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ: سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ عُمَرَ؟ فَقَالَ: مِنْ خَیْرٍ مِنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۵۵۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَوَفَّاھَا، …اَللّٰھُمَّ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ(اے اللہ! بیشک تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو نے ہی اس کو فوت کرنا ہے، اس کا مرنا اور جینا تیرے لیے ہے، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کرنا اور اگر اس کو موت دے دے تو اس کو بخش دینا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں)۔

5547

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5547

Sahih

۔ (۵۵۴۷)۔ (وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ اِذَا تَبَوَّأَ مَضْجِعَہُ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَفَانِیْ وَآوَانِیْ وَاَطْعَمَنِیْ وَسَقَانِیْ، وَالَّذِیْ مَنَّ عَلَیَّ وَاَفْضَلَ، وَالَّذِیْ اَعْطَانِیْ فَأَجْزَلَ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ،اَللّٰھُمَّ رَبَّ کَلِّ شَیْئٍ وَمَلِکَ کُلِّ شَیْئٍ، وَاِلٰہَ کُلِّ شَیْئٍ، وَلَکَ کُلُّ شَیْئٍ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۵۹۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَفَانِیْ وَآوَانِیْ ……اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ۔(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو مجھے کافی ہوا، مجھے جگہ دی، مجھے کھلایا ، مجھے پلایا، جس نے مجھ پر احسان کیا اور مجھ پر مہربان ہوا اور جس نے مجھے عطا کیا اور خوب دیا، ہر حال پر ساری تعریف اللہ کیلئے ہے، اے اللہ! تو ہر چیز کا ربّ، ہر چیز کا بادشاہ ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، ہر چیز تیرے لیے ہے، میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں)۔