Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 84 · Chapter 937

اذکار اور دعاؤں کے مسائل

مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان

18 hadiths in this chapter

5397

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5397

Zaeef

۔ (۵۳۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ کَلَامٍ اَوِ امْرٍ ذِیْ بَالٍ لَا یُفْتَتَحُ بِذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَھُوَ اَبْتَرُ اَوْ قَالَ: اَقْطَعُ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر شرف والی گفتگو یا کام، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے شروع نہ کیا جائے، وہ ناقص اور ادھورا ہوتا ہے۔

5398

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5398

Zaeef

۔ (۵۳۹۸)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَمِلَ آدَمِیٌّ عَمَلًا قَطُّ أَنْجٰی لَہُ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ۔)) وَ قَالَ مُعَاذٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ أَعْمَالِکُمْ، وَأَزْکَاہَا عِنْدَ مَلِیکِکُمْ، وَأَرْفَعِہَا فِی دَرَجَاتِکُمْ، وَخَیْرٍ لَکُمْ مِنْ تَعَاطِی الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ، وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَہُمْ وَیَضْرِبُوا أَعْنَاقَکُمْ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((ذِکْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۹) (۵۳۹۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ اَعْمَالِکُمْ)) فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اس کو اللہ کے عذاب سے سب سے زیادہ نجات دلانے والا ہو، ما سوائے ذکر ِ الٰہی کے۔ مزید سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسے عمل کی خبر دوں، جو سب سے بہتر ہے، تمہارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیز ہ ہے، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کا صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے اس عمل سے بھی بہتر ہے کہ تمہاری اپنے دشمنوں سے ٹکر ہو اور تم ان کی گردنیں کاٹو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔

5399

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5399

Sahih

۔ (۵۳۹۹)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ اَعْمَالِکُمْ)) فَذَکَرَ مِثْلَہٗ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو وہ عمل بتلا دوں، جو سب سے بہتر ہے…۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔

5400

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5400

Sahih

۔ (۵۴۰۰)۔ عَنْ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوْ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ہُوَ شَکَّ یَعْنِی الْأَعْمَشَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِینَ فِی الْأَرْضِ، فَضْلًا عَنْ کُتَّابِ النَّاسِ، فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ تَنَادَوْا ہَلُمُّوا إِلٰی بُغْیَتِکُمْ، فَیَجِیئُونَ فَیَحُفُّونَ بِہِمْ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَیَقُولُ اللّٰہُ: أَیَّ شَیْئٍ تَرَکْتُمْ عِبَادِی یَصْنَعُونَ؟ فَیَقُولُونَ: تَرَکْنَاہُمْ یَحْمَدُونَکَ وَیُمَجِّدُونَکَ وَیَذْکُرُونَکَ، فَیَقُولُ: ہَلْ رَأَوْنِی؟ فَیَقُولُونَ: لَا، فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْنِی؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْکَ لَکَانُوا أَشَدَّ تَحْمِیدًا وَتَمْجِیدًا وَذِکْرًا، فَیَقُولُ: فَأَیَّ شَیْئٍ یَطْلُبُونَ؟ فَیَقُولُونَ: یَطْلُبُونَ الْجَنَّۃَ، فَیَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ قَالَ: فَیَقُولُونَ: لَا، فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ عَلَیْہَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَہَا طَلَبًا؟ قَالَ: فَیَقُولُ: وَمِنْ أَیِّ شَیْئٍ یَتَعَوَّذُونَ؟ فَیَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ، فَیَقُولُ: وَہَلْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَا، قَالَ: فَیَقُولُ: فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا؟ فَیَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْہَا کَانُوا أَشَدَّ مِنْہَا ہَرَبًا وَأَشَدَّ مِنْہَا خَوْفًا؟ قَالَ: فَیَقُولُ: إِنِّی أُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ، قَالَ: فَیَقُولُونَ: فَإِنَّ فِیہِمْ فُلَانًا الْخَطَّائَ لَمْ یُرِدْہُمْ إِنَّمَا جَائَ لِحَاجَۃٍ، فَیَقُولُ: ہُمْ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِہِمْ جَلِیسُہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو اہلِ ذکر کی تلاش میں زمیں میں گھومتے رہتے ہیں، جب وہ محوِ ذکر لوگوںکی جماعت کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو بآواز بلند پکارتے ہیں: اپنے مقصود کی طرف آ جاؤ۔ سو وہ آتے ہیںاور انھیں آسمان دنیا تک گھیر لیتے ہیں۔ (جب یہ فرشتے واپس جاتے ہیں تو)اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں: جب تم نے میرے بندوں کو الوداع کہا تو وہ کیا کر رہے تھے؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم نے ان کو چھوڑا تو وہ تیری تعریف کر رہے تھے، تیری بزرگی بیان کر رہے تھے اور تیرا ذکر کر رہے تھے۔ (آسانی کے لیے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی گفتگو مکالمے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے): اللہ تعالی: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو (ان کا رویہ کیا ہو گا)؟ فرشتے: اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو تیری تعریف کرنے، بزرگی بیان کرنے اورذکر کرنے میں زیادہ سختی اور پابندی کر یں گے۔ اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جو وہ طلب کر رہے تھے؟ فرشتے: وہ جنت کا مطالبہ کر رہے تھے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے جنت دیکھی ہے؟ فرشتے: نہیں۔ اللہ تعالی: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو ان کی حرص اور طلب بڑھ جائے گی۔اللہ تعالی: کون سی چیز ہے جس سے وہ پناہ طلب کرتے تھے؟ فرشتے: آگ سے۔اللہ تعالی: کیا انھوں نے آگ دیکھی ہے؟فرشتے: نہیں۔للہ تعالی: اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو؟ فرشتے: اگر وہ دیکھ لیں تو اس سے دور بھاگنے میں زیادہ سخت ہو جائیں گے اور اس سے زیادہ ڈریں گے۔اللہ تعالی: (فرشتو!) میں تمھیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا ہے۔ فرشتے: ان میں فلاں آدمی تو بہت خطاکا ر تھا، وہ کسی ضرورت کے لیے آیا تھا، اس کا مقصود ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں تھا (تو اسے کیسے بخش دیا گیا)؟اللہ تعالیـ: وہ ایسی قوم ہیں کہ ان کا ہم نشین بھی نامراد نہیں ہوتا۔

5401

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5401

Sahih

۔ (۵۴۰۱)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ: یَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَکَرْتَنِی فِی نَفْسِکَ ذَکَرْتُکَ فِی نَفْسِی، وَإِنْ ذَکَرْتَنِی فِی مَلَإٍ ذَکَرْتُکَ فِی مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ، أَوْ فِی مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْکَ ذِرَاعًا، وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّی ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْکَ بَاعًا، وَإِنْ أَتَیْتَنِی تَمْشِی أَتَیْتُکَ أُہَرْوِلُ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: فَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۴۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے نفس میں یاد کرے گا، تو میں بھی تجھے اپنے نفس میں یاد کروں گا، اگر تو مجھے کسی جماعت میںیاد کرے گا تو میں تجھے فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا، یا ایسی جماعت میں جو تیری جماعت سے بہتر ہو گی، اگر تو ایک بالشت میرے قریب ہو گا تو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہوں گا، اگر تو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤں کا فاصلہ تیرے قریب ہوں گا اور اگر تم چل کر میرے پاس آئے گا تو میں دوڑ کر تیرے پاس آؤں گا۔ امام قتادہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ بخشنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔

5402

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5402

Sahih

۔ (۵۴۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: أَنَا مَعَ عَبْدِیْ حِیْنَ یَذْکُرُنِیْ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی وَأَنَا مَعَہُ حَیْثُ یَذْکُرُنِی) فَإِنْ ذَکَرَنِی فِی نَفْسِہِ ذَکَرْتُہُ فِی نَفْسِیْ۔)) الحدیث۔ (مسند أحمد: ۷۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے، میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے ، اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں۔

5403

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5403

Sahih

۔ (۵۴۰۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔

5404

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5404

Sahih

۔ (۵۴۰۴)۔ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِی مُسْلِمٍ قَالَ: أَشْہَدُ عَلَی أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَبِی سَعِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا شَہِدَا لِی عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ (وَأَنَا أَشْہَدُ عَلَیْہِمَا ): ((مَا قَعَدَ قَوْمٌ یَذْکُرُونَ اللّٰہَ إِلَّا حَفَّتْ بِہِمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِینَۃُ، وَتَغَشَّتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ فِیمَنْ عِنْدَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو مسلم اغر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما پر گواہی دیتا ہوںکہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گواہی دی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ ذکر کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں کے سامنے ذکر کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں۔

5405

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5405

Sahih

۔ (۵۴۰۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِ اللّٰہِ یَتْلُونَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُونَہُ بَیْنَہُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِینَۃُ وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیمَنْ عِنْدَہُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعِ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کی تعلیم دیتے ہیں تو سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والی مخلوق کے سامنے ان کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کو اس کا نسب آگے نہیں لے جا سکے گا۔

5406

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5406

Zaeef

۔ (۵۴۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ:ٔٔ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟)) قَالَ: ((الذَّاکِرُونَ اللّٰہَ کَثِیرًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْغَازِی فِی سَبِیلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَوْ ضَرَبَ بِسَیْفِہِ فِی الْکُفَّارِ وَالْمُشْرِکِینَ حَتَّی یَنْکَسِرَ وَیَخْتَضِبَ دَمًا، لَکَانَ الذَّاکِرُونَ اللّٰہَ أَفْضَلَ مِنْہُ دَرَجَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۱۷۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے بندے روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے درجے کے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ کافروں اور مشرکوں پر اپنی تلوار چلائے، یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے اور خون سے لت پت ہو جائے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ایک درجہ اس سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے۔

5407

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5407

Sahih

۔ (۵۴۰۷)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَبِیتُ عَلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ طَاہِرًا، فَیَتَعَارُّ مِنَ اللَّیْلِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ خَیْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ إِلَّا أَعْطَاہُ إِیَّاہُ۔)) قَالَ حَسَنٌ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ: فَقَدِمَ عَلَیْنَا ہَاہُنَا فَحَدَّثَ بِہٰذَا الْحَدِیثِ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ: أَظُنُّہُ أَعْنِی أَبَا ظَبْیَۃ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان باوضوء ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرکے رات کو سو جاتا ہے، وہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کرجب بھی اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کاسوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دے دیتا ہے۔

5408

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5408

Sahih

۔ (۵۴۰۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ لَا یُرِیدُونَ بِذٰلِکَ إِلَّا وَجْہَہُ إِلَّا نَادَاہُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ: أَنْ قُومُوْا مَغْفُورًا لَکُمْ، قَدْ بُدِّلَتْ سَیِّئَاتُکُمْ حَسَنَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۴۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، آسمان سے ایک منادی دینے والا ان کو آواز دیتا ہے: چلے جاؤ، تم کو بخش دیا جا چکا ہے اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

5409

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5409

Zaeef

۔ (۵۴۰۹)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ، عَنْ أَبِیہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَفْضُلُ الذِّکْرُ عَلَی النَّفَقَۃِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِسَبْعِ مِائَۃِ أَلْفِ ضِعْفٍ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: بِسَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ۔ (مسند أحمد: ۱۵۷۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے سات لاکھ گُنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ ایک روایت میں سات سو گنا کے الفاظ ہیں۔

5410

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5410

Sahih

۔ (۵۴۱۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَلَمْ یَذْکُرُوا اللّٰہَ فِیہِ إِلَّا کَانَ عَلَیْہِمْ تِرَۃً، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشٰی طَرِیقًا فَلَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا کَانَ عَلَیْہِ تِرَۃً، وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ، فَلَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ إِلَّا کَانَ عَلَیْہِ تِرَۃً۔)) قَالَ أَبِی: حَدَّثَنَاہ رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ، وَلَمْ یَقُلْ: إِذَا أَوٰی إِلٰی فِرَاشِہِ۔ (مسند أحمد: ۹۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ایسی مجلس میں نہیں بیٹھتی جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا ہومگر وہ ان پر نقصان کا باعث ہو گا، جو آدمی جو کسی رستے میں چل رہا ہو اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے باعثِ تکلیف ہو گا اور جو آدمی اپنے بستر پر سونے لگے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو یہ اس کے لیے گھبراہٹ کا باعث ہو گا۔ ایک راوی نے بستر پر سونے کا ذکر نہیں کیا۔

5411

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5411

Sahih

۔ (۵۴۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْرَابِیَّانِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا: مَنْ خَیْرُ الرِّجَالِ یَا مُحَمَّدُ!؟ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ طَالَ عُمْرُہُ، وَحَسُنَ عَمَلُہُ۔)) وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ کَثُرَتْ عَلَیْنَا، فَبَابٌ نَتَمَسَّکُ بِہِ جَامِعٌ، قَالَ: ((لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اے محمد! مردوں میں سے بہترین کون ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو۔ دوسرے بدّو نے کہا: اسلام کے تقاضے تو بہت زیادہ ہیں، اگر کوئی ایک جامع سا عمل ہو جائے اور ہم پابندی سے اس پر عمل کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔

5412

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5412

Zaeef

۔ (۵۴۱۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ أَبِیہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَہُ فَقَالَ: أَیُّ الْجِہَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: ((أَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ذِکْرًا۔)) قَالَ: فَأَیُّ الصَّائِمِینَ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: ((أَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ذِکْرًا۔)) ثُمَّ ذَکَرَ لَنَا الصَّلَاۃَ وَالزَّکَاۃَ وَالْحَجَّ وَالصَّدَقَۃَ کُلُّ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((أَکْثَرُہُمْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ذِکْرًا)) فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : ((یَا أَبَا حَفْصٍ ذَہَبَ الذَّاکِرُونَ بِکُلِّ خَیْرٍ۔)) فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: کون سا جہاد زیادہ اجر والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنے والا ہو۔ اس نے کہا: کون سے روزے دار زیادہ اجر والے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ پھر اس نے نماز، زکاۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں اسی طرح کے سوالات کیے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی جواب دیا کہ جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو حفص! ذکر کرنے والے تو ہر قسم کی خیر لے گئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں بالکل۔

5413

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5413

Zaeef

۔ (۵۴۱۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَکْثِرُوْا ذِکْرَ اللّٰہِ حَتّٰی یَقُوْلْوْا مَجْنُوْنٌ)) (مسند أحمد: ۱۱۶۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کہ لوگ تم کو پاگل کہیں۔

5414

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5414

Sahih

۔ (۵۴۱۴)۔ عَنِ ابْنِ یَعْقُوبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْمُفَرِّدُونَ؟ قَالَ: ((الَّذِینَ یُہْتَرُونَ فِی ذِکْرِ اللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۸۲۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مفردون سبقت لے گئے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ رسول! مفردون کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دلدادہ ہوتے ہیں۔