Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 83 · Chapter 935

نذر کے ابواب

اس شخص کا بیان جس نے معین دن کے روزے کی نذر مانی اور وہ دن ، یومِ عید سے موافق ہو گیا

1 hadith in this chapter

5389

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5389

Sahih

۔ (۵۳۸۹)۔ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَجُلًا جَائَ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلَہُ فَقَالَ: إِنَّہُ نَذَرَ أَنْ یَصُومَ کُلَّ یَوْمِ أَرْبِعَائَ، فَأَتٰی ذٰلِکَ عَلٰی یَوْمِ أَضْحٰی أَوْ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَرَ اللّٰہُ بِوَفَائِ النَّذْرِ، وَنَہَانَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ النَّحْرِ۔ (مسند أحمد: ۴۴۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زیاد بن جبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ہر بدھ کو روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اور اب یہ دن عید الاضحی یا عید الفطر کو آ گیا ہے، اب میں کیا کروں؟ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تو نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی والے دن (یعنی دس ذوالحجہ کو) روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔