Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 82 · Chapter 924

قسم اور نذر کے مسائل

جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان

9 hadiths in this chapter

5320

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5320

Sahih

۔ (۵۳۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِین یَقْتَطِعُ بِہَا مَالَ مُسْلِمٍ لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) وَقَرَأَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِصْدَاقَہُ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلّ: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا أُولٰئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ} [آل عمران: ۷۷] (مسند أحمد: ۳۵۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان کا مال ہتھیا لینے کے لیے قسم اٹھائی وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میںملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ …… لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ} … جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرے گا۔

5321

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5321

Sahih

۔ (۵۳۲۱)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَزَادَ قَالَ: فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ وَہُوَ یَقْرَؤُہَا، قَالَ: فِیَّ أُنْزِلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ، إِنَّ رَجُلًا ادَّعٰی رَکِیًّا لِی فَاخْتَصَمْنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((شَاہِدَاکَ أَوْ یَمِینُہُ؟)) فَقُلْتُ: أَمَا إِنَّہُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ صَبْرًا یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالًا لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا اشعث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے نکلے اور کہا: یہ آیت میرے بارے میںنازل ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے میرے کنویں کا دعوی کر دیا، پس ہم جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے دو گواہ ، یا اس کی قسم؟ میں نے کہا: اگر اس نے قسم اٹھائی تو یہ جھوٹی قسم اٹھائے گا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے آپ کو کسی کے مال کا مستحق ثابت کرنے کے لیے حاکم کے پاس قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔

5322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5322

Sahih

۔ (۵۳۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عَمِیرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ عَدِیٍّ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ یُقَالُ لَہُ امْرُؤُ الْقَیْسِ بْنُ عَابِسٍ رَجُلًا مِنْ حَضَرَمَوْتَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَرْضٍ، فَقَضٰی عَلَی الْحَضْرَمِیِّ بِالْبَیِّنَۃِ فَلَمْ تَکُنْ لَہُ بَیِّنَۃٌ، فَقَضٰی عَلَی امْرِئِ الْقَیْسِ بِالْیَمِینِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ: إِنْ أَمْکَنْتَہُ مِنَ الْیَمِینِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ذَہَبَتْ وَاللّٰہِ أَوْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ أَرْضِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ کَاذِبَۃٍ لِیَقْتَطِعَ بِہَا مَالَ أَخِیہِ لَقِیَ اللّٰہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) قَالَ رَجَائٌ: وَتَلَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} [آل عمران: ۷۷]، فَقَالَ امْرُؤُ الْقَیْسِ: مَاذَا لِمَنْ تَرَکَہَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْجَنَّۃُ۔)) قَالَ: فَاَشْہَدْ أَنِّی قَدْ تَرَکْتُہَا لَہُ کُلَّہَا (مسند أحمد: ۱۷۸۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کندہ کے ایک آدمی امرؤ القیس بن عابس کی حضرموت کے ایک باشندے سے کسی زمین کے بارے میں لڑائی ہو گئی، وہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا کہ حضرمی گواہی پیش کرے، لیکن اس کے پاس گواہی نہیں تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امرؤ القیس کے بارے میں فیصلہ دیا کہ وہ قسم اٹھائے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ نے اس سے قسم لینے کا مطالبہ کیا تو یہ زمین تو چلی جائے گی، جبکہ کعبہ کے ربّ کی قسم ہے کہ یہ میری زمین ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے بھائی کا مال ہتھیا لینے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غصے میں ہو گا۔ رجاء راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلًا} … بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں۔ امرء القیس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے اس زمین کو چھوڑ دیا، اس کے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جنت ہو گی۔ اس نے کہا: تو پھر آپ گواہ بن جائیں کہ میں نے یہ ساری زمین اس کے لیے چھوڑ دی ہے۔

5323

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5323

Sahih

۔ (۵۳۲۳)۔ عَنْ اَبِی مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِخْتَصَمَ رَجُلَانِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۹۷۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح کی روایت ذکر کی۔

5324

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5324

Sahih

۔ (۵۳۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْیَمِیْنُ الْکَاذِبَۃُ مُنْفِقَۃٌ لِلسِّلْعَۃِ مُمْحِقَۃٌ لِلْکَسْبِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((لِلْبَرْکَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم، مال کو تو بیچنے والی ہوتی ہے، لیکن کمائی کی برکت کو مٹا دیتی ہے۔ ‘

5325

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5325

Sahih

۔ (۵۳۲۵)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ کَاذِبَۃٍ مَصْبُوْرَۃٍ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ بِوَجْھِہِ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ)) (مسند أحمد: ۲۰۱۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے حاکم کی عدالت میں جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائی، وہ اپنے چہرے کے لیے آگ سے ٹھکانہ تیار کر لے۔

5326

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5326

Zaeef

۔ (۵۳۲۶)۔ عَنِ ابْنِ سُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْیَمِیْنُ الْفَاجِرَۃُ الَّتِیْ یَقْتَطِعُ بِھَا الرَّجُلُ مَالَ الْمُسْلِمِ تَعْقِمُ الرَّحِمَ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن سود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی جس جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان کے مال کو ہتھیا لیتا ہے، وہ صلہ رحمی اور لوگوں کے ما بین نیکی کو کاٹ دیتی ہے۔

5327

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5327

Sahih

۔ (۵۳۲۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَشْھَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ اَوْ اَمَۃٍ یَحْلِفُ عِنْدَ ھٰذَا الْمِنْبَرِ عَلٰی َمِیْنٍ آثِمَۃٍ وَلَوْ عَلٰی سِوَاکٍ رَطْبٍ اِلَّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو مر د و زن میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا، اگرچہ وہ تر مسواک پر قسم اٹھا رہا ہو، اس کے لیے آگ واجب ہو جائے گی۔

5328

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5328

Sahih

۔ (۵۳۲۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحْلِفُ اَحَدٌ عَلٰی مِنْبَرِیْ کَاذِبًا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَسْتَحِقُّ بِھَا حَقَّ مُسْلِمٍ) اِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے آپ کو کسی مسلمان کے حق کا حقدار ثابت کرنے کے لیے میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھائے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کرے۔