Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 81 · Chapter 914

آزادی کے احکام کے ابواب

تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان

5 hadiths in this chapter

5275

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5275

Sahih

۔ (۵۲۷۵)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ: أَبُو مَذْکُورٍ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَہُ یُقَالُ لَہُ: یَعْقُوبُ، عَنْ دُبُرٍ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ غَیْرُہُ، فَدَعَا بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ یَشْتَرِیہِ؟ مَنْ یَشْتَرِیہِ؟)) فَاشْتَرَاہُ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ النَّحَّامُ، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ) بِثَمَانِ مِائَۃِ دِرْہَمٍ)، فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ، وَقَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فَقِیرًا فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی عِیَالِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَعَلٰی ذَوِی قَرَابَتِہِ، أَوْ قَالَ: عَلٰی ذَوِی رَحِمِہِ، وَإِنْ کَانَ فَضْلًا فَہَاہُنَا وَہَاہُنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ابو مذکورہ نامی ایک انصاری صحابی نے یعقوب نامی اپنے غلام کو اپنے موت کے بعد آزاد کر دیا، جبکہ اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو بلایا اور فرمایا: کون اس کو خریدے گا؟ کون اس کو خریدے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سسر سیدنا نُعَیم بن عبد اللہ نحام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آٹھ سو درہم کے عوض اس کو خرید لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دے دیا اور فرمایا: جب کوئی آدمی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، اگر ان سے بھی بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی بچ جائے تو اِدھر اُدھر خرچ کر سکتا ہے۔

5276

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5276

Sahih

۔ (۵۲۷۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ جَابِرٌ: غَلَامٌ قِبْطِیٌّ وَمَاتَ عَامَ الْاَوَّلَ، زَادَ فِیْھَا اَبُوْ الزُّبَیْرِ: یُقَالَ لَہٗ: یَعْقُوْبُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۱۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: عمرو نے کہا کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یعقوب نامی یہ قبطی غلام تھا اور (سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی امارت کے) پہلے سال فوت ہو گیا تھا۔

5277

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5277

Sahih

۔ (۵۲۷۷)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) َانَّ رَجُلًا دَبَّرَ عَبْدًا لَہٗ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ فَبَاعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دَیْنِ مَوْلَاہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ایک غلام کو مُدَبّر بنا یا تھا، جبکہ اس پر قرض بھی تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس غلام کو مالک کا قرض ادا کرنے کے لیے بیچ دیا تھا۔

5278

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5278

Sahih

۔ (۵۲۷۸)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَاعَ الْمُدَبَّرَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مُدَبّر کو بیچ دیا تھا۔

5279

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5279

Sahih

۔ (۵۲۷۹)۔ عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتِ اشْتَکَتِ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَطَالَ شَکْوَاہَا، فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِینَۃَ، یَتَطَبَّبُ فَذَہَبَ بَنُو أَخِیہَا یَسْأَلُونَہُ عَنْ وَجَعِہَا، فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّکُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَۃٍ مَطْبُوبَۃٍ، قَالَ: ہٰذِہِ امْرَأَۃٌ مَسْحُورَۃٌ سَحَرَتْہَا جَارِیَۃٌ لَہَا، قَالَتْ: نَعَمْ، أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِی فَأُعْتَقَ، قَالَ: وَکَانَتْ مُدَبَّرَۃً قَالَتْ: بِیعُوہَا فِی أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَکَۃً وَاجْعَلُوا ثَمَنَہَا فِی مِثْلِہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۶۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عمرہ بیان کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیمار ہو گئیں اور ان کی بیماری لمبی ہو گئی، مدینہ منورہ میں ایک ایسا طبیب آیا، جو طب کی پوری واقفیت نہیں رکھتا تھا، سیدہ کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور ان کی تکلیف کا ذکر کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اس خاتون کی جو کیفیت بیان کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر جادو کیاگیا ہے اور جادو بھی اس کی لونڈی نے کیا ہے، جب انھوں نے اس لونڈی سے پوچھا تو اس نے کہا: ہاں، میں نے جادو کیا ہے، میرا ارادہ یہ تھا کہ سیدہ فوت ہو جائیں گی اور میں آزاد ہو جاؤں گی۔ دراصل سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس لونڈی کو مُدَبّر بنایا ہوا تھا، پھر سیدہ نے کہا: اس لونڈی کو ایسے شخص کے ہاتھوں فروخت کرو، جو اپنی لونڈیوں کے حق میں سب سے سخت ہے اور اس کی قیمت کو اسی کی طرح کی لونڈی میں صرف کر دو۔