Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 78 · Chapter 896

امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے

10 hadiths in this chapter

5158

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5158

Sahih

۔ (۵۱۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا سَبَقَ اِلَّا فِیْ خُفٍّ اَوْ حَافِرٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مقابلہ بازی نہیں ہے، مگر اونٹ دوڑ میں یا گھوڑ دوڑ میں۔

5159

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5159

Zaeef

۔ (۵۱۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَبَّقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْخَیْلِ فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْہَا مِنَ الْحَفْیَاء ِ أَوْ الحَیْفَائِ إِلٰی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ وَأَرْسَلَ مَا لَمْ یُضَمَّرْ مِنْہَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ إِلٰی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَکُنْتُ فَارِسًا یَوْمَئِذٍ فَسَبَقْتُ النَّاسَ طَفَّفَ بِیَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِیْ زُرَیْقٍ۔ (مسند أحمد: ۴۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑدوڑی میں مقابلہ کرایا، تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک تھا اور جن گھوڑوں کی تضمیر نہیں کی گئی تھی، ان کا مقابلہ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک تھا، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس مقابلے میں ایک گھوڑ سوار میں تھا، میں لوگوں سے بازی لے گیا اور میرا گھوڑا مسجد بنی زریق کی دیوار کو بھی پھلانگ گیا۔

5160

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5160

Zaeef

۔ (۵۱۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَبَّقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْخَیْلِ وَاَعْطَی السَّابِقَ۔ (مسند أحمد: ۵۶۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور آگے نکل جانے والے کو انعام دیا۔

5161

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5161

Sahih

۔ (۵۱۶۱)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّقَ بِالْخَیْلِ وَرَاھَنَ۔ (مسند أحمد: ۵۳۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھڑدوڑ میں مقابلہ کروایا اور انعام دینے کی شرط لگائی تھی۔

5162

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5162

Sahih

۔ (۵۱۶۲)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبَّقَ بَیْنَ الْخَیْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِی الْغَایَۃِ۔ (مسند أحمد: ۶۴۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں میں مقابلہ کروایا اور ان گھوڑوں کو برتری والا قرار دیا، جو اپنی عمر کے پانچویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔

5163

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5163

Sahih

۔ (۵۱۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ لَبِیْدٍ لِمَازَۃَ بْنِ زَبَّارٍ قَالَ: أُرْسِلَتِ الْخَیْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ، فَقُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا الرِّہَانَ، قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ أَتَیْنَا إِلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَسَأَلْنَاہُ ہَلْ کُنْتُمْ تُرَاہِنُونَ عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ فَسَأَلْنَاہُ، فَقَالَ: نَعَمْ، لَقَدْ رَاہَنَ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: سَبْحَۃُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَہَشَّ لِذٰلِکَ وَأَعْجَبَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو لبید لمازہ بن زبار کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں گھوڑوں میں مقابلہ کیا گیا، ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے والی جگہ پر پہنچ جائیں تو بہتر ہو گا، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ اگر سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلے جائیں اور یہ سوال کر لیں کہ کیا وہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں انعام دینے کی شرط لگاتے تھے، پس ہم ان کے پاس گئے اور ان سے یہ سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سَبْحَہ نامی گھوڑے پر مقابلہ کیا تھا اور جب میں لوگوں سے سبقت لے گیا تو میں خوش ہوا اور اس چیز نے مجھے تعجب میں ڈالا۔

5164

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5164

Sahih

۔ (۵۱۶۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ الْعَضْبَائَ کَانَتْ لَا تُسْبَقُ، فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ عَلٰی قَعُودٍ لَہُ فَسَابَقَہَا فَسَبَقَہَا الْأَعْرَابِیُّ، فَکَأَنَّ ذٰلِکَ اشْتَدَّ عَلٰی أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ لَا یَرْفَعَ شَیْئًا مِنْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا إِلَّا وَضَعَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کوئی بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عضباء اونٹنی سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، لیکن ایک دن ایک بدو اپنے اونٹ پر آیا اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی سے آگے گزر گیا، جب یہ چیز صحابۂ کرام پر گراں گزری تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس دنیا کی جس چیز کو بلندی عطا کرتا ہے، پھر اس کی حیثیت کو گراتا بھی ہے۔

5165

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5165

Zaeef

۔ (۵۱۶۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَیْنَ فَرَسَیْنِ وَہُوَ لَا یَأْمَنُ أَنْ یَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِہِ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَیْنَ فَرَسَیْنِ قَدْ أَمِنَ أَنْ یَسْبِقَ فَہُوَ قِمَارٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کر دیا، جبکہ اس کو بازی لے جانے کا یقین نہ ہو تو ایسے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جس نے دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا ڈال دیا، جبکہ اسے آگے نکل جانے کا یقین ہو تو یہ جوا ہو گا۔

5166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5166

Sahih

۔ (۵۱۶۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند أحمد: ۵۶۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے اور نہ جنب اور اسلام میں شغار نہیں ہے۔

5167

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5167

Sahih

۔ (۵۱۶۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ جلب ہے، نہ جنب ہے اور نہ شغار ہے۔