Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 78 · Chapter 892

امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب

امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت

7 hadiths in this chapter

5130

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5130

Sahih

۔ (۵۱۳۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ َرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((مَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن والا ہو گا اور جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو گا، اسے بھی امان حاصل ہو گی۔

5131

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5131

Sahih

۔ (۵۱۳۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ، وَیَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ، وَھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ، اَلَا لَا یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْ عَہْدٍ فِیْ عَہْدٍ۔)) (مسند أحمد: ۹۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب مومنوں کے خون برابر ہیں، ادنی مؤمن بھی امان دے سکے گا، وہ سب اپنے غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں، خبردار! مومن کو کافر کے بدلے اور ذمی کو اس کے معاہدے کے زمانے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔

5132

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5132

Sahih

۔ (۵۱۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌ یَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا)) (مسند أحمد: ۹۱۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی امان ایک ہے، ادنی مسلمان بھی وہ امان دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کی امان کو توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔

5133

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5133

Sahih

۔ (۵۱۳۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ لِبَنِیْ زُھَیْرِ بْنِ اُقَیْشٍ ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِبَنِیْ زُھَیْرِ بْنِ اُقَیْشٍ اَنَّکُمْ اِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلَاۃَ، وَاَدَّیْتُمُ الزَّکَاۃَ، وَاَعْطَیْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمْسَ وَسَھْمَ النَّبِیِّ، وَالصَّفِیَّ فَاَنْتُمْ آمِنُوْنَ بِأَمَانِ اللّٰہِ وَأَمَانِ رَسُوْلِہِ)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۰۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا یزید بن عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو زہیر بن اُقیش کی طرف یہ پیغام لکھا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ با امن رہو گے۔

5134

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5134

Sahih

۔ (۵۱۳۴)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ، قَالَ: أَجَارَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ رَجُلًا، وَعَلَی الْجَیْشِ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: لَا نُجِیرُہُ، وَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: نُجِیرُہُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ اَحَدُھُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے کسی شخص کو پناہ دے دی، اس لشکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: ہم اس کو پناہ نہیں دیں گے، لیکن سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس کو پناہ دیں گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کوئی ایک مسلمان تمام مسلمانوں پر پناہ دے سکتا ہے۔

5135

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5135

Sahih

۔ (۵۱۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُجِیْرُ عَلٰی اُمَّتِیْ اَدْنَاھُمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ادنی مسلمان بھی میری امت پر پناہ دے سکتا ہے۔

5136

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5136

Sahih

۔ (۵۱۳۶)۔ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ، مَوْلٰی فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ، عَنْ فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ، قَالَتْ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ، أَجَرْتُ رَجُلَیْنِ مِنْ أَحْمَائِی، فَأَدْخَلْتُہُمَا بَیْتًا وَأَغْلَقْتُ عَلَیْہِمَا بَابًا، فَجَائَ ابْنُ أُمِّی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَیْہِمَا بِالسَّیْفِ، قَالَتْ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ أَجِدْہُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَۃَ فَکَانَتْ أَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ زَوْجِہَا، قَالَتْ: فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((یَا أُمَّ ہَانِئٍ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔