Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 879

جہاد کے مسائل

خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان

12 hadiths in this chapter

5073

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5073

Sahih

۔ (۵۰۷۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَزَا نَبِیٌّ مِنْ الْأَنْبِیَائِ، فَقَالَ لِقَوْمِہِ: لَا یَتَّبِعْنِی رَجُلٌ قَدْ مَلَکَ بُضْعَ امْرَأَۃٍ، وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا، وَلَمْ یَبْنِ وَلَا أَحَدٌ قَدْ بَنٰی بُنْیَانًا، وَلَمَّا یَرْفَعْ سُقُفَہَا، وَلَا أَحَدٌ قَدِ اشْتَرٰی غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَہُوَ یَنْتَظِرُ أَوْلَادَہَا، فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْیَۃِ حِینَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِیبًا مِنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ: أَنْتِ مَأْمُورَۃٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللّٰہُمَّ احْبِسْہَا عَلَیَّ شَیْئًا، فَحُبِسَتْ عَلَیْہِ حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَجَمَعُوْا مَا غَنِمُوْا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْکُلَہُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَ، فَقَالَ: فِیکُمْ غُلُولٌ، فَلْیُبَایِعْنِی مِنْ کُلِّ قَبِیلَۃٍ رَجُلٌ، فَبَایَعُوْہُ فَلَصِقَتْ یَدُ رَجُلٍ بِیَدِہِ، فَقَالَ: فِیکُمْ الْغُلُولُ، فَلْتُبَایِعْنِی قَبِیلَتُکَ، فَبَایَعَتْہُ قَبِیلَتُہُ، قَالَ: فَلَصِقَ بِیَدِ رَجُلَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃٍ بِیَدِہِ، فَقَالَ: فِیکُمُ الْغُلُولُ، أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ، فَأَخْرَجُوْا لَہُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَۃٍ مِنْ ذَہَبٍ، قَالَ: فَوَضَعُوْہُ فِی الْمَالِ وَہُوَ بِالصَّعِیدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَکَلَتْہُ، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا، ذٰلِکَ لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ رَأٰی ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَیَّبَہَا لَنَا۔ (مسند أحمد: ۸۲۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اس نے اپنی قوم سے کہا: وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے، جو کسی عورت کی شرمگاہ کا مالک بنا ہو اور خلوت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، جبکہ اس نے ابھی تک خلوت اختیار نہ کی ہو، ایسا آدمی بھی میرے ساتھ نہ آئے، جس نے کوئی عمارت تعمیر کی ہو، لیکن ابھی تک چھت ڈالنا باقی ہو اور ایسا شخص بھی نہ آئے جس نے بکریاں یا گابھن جانور خریدے ہوں اور وہ ان کے بچے جنم دینے کا انتظار کر رہا ہو، پس وہ نبی جہاد کے لیے چلا اور ایک بستی کے قریب پہنچ گیا، یہ نمازِ عصر کا وقت تھا یا اس کے قریب کا، پس اس نے سورج سے کہا: تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اسی کے حکم کا پابند ہوں، اے اللہ! اس سورج کو کچھ دیر کے لیے روک لے، پس اس کو اس کے لیے روک دیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی اور انھوں نے مالِ غنیمت جمع کیا، اس کو کھانے کے لیے آگ تو آئی، لیکن اس نے اس کو کھانے سے انکار کر دیا، یہ منظر دیکھ کر اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، سو ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی میری بیعت کرے، پس انھوں نے بیعت کی اور ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چمٹ گیا، اس نبی نے کہا: تم لوگوں میں خیانت ہے، لہذا تمہارا پورا قبیلہ میری بیعت کرے، پس سارے قبیلے نے بیعت کی اور دو تین آدمیوں کے ہاتھ چمٹ گئے، اس نے کہا: تم افراد میں خیانت ہے، تم نے خیانت کی ہے، پس انھوں نے سونا نکالا، جو گائے کے سر کی مانند تھا اور اس کو مال میں رکھ دیا، جو کہ سطح زمین پر پڑا تھا ، پھر آگ آئی اور اس کو کھا گئی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ غنیمتیں ہم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں ، پس اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھ کر ان کو ہمارے لیے حلال قرار دیا ۔‘‘

5074

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5074

Sahih

۔ (۵۰۷۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَذَکَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَہُ وَعَظَّمَ أَمْرَہُ ثُمَّ قَالَ: ((لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ بَعِیرٌ لَہُ رُغَائٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ شَاۃٌ لَہَا ثُغَائٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ فَرَسٌ لَہُ حَمْحَمَۃٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ نَفْسٌ لَہَا صِیَاحٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ، لَا أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لَا أُلْفِیَنَّ، یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہِ صَامِتٌ، فَیَقُولُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَغِثْنِی، فَأَقُولُ: لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور خیانت کا ذکر اور اس کے معاملے کو بڑا اور سنگین کر کے پیش کیا اور پھر فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر بلبلاتا ہوا اونٹ ہو اور وہ یہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں جواباً کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا، میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر مماتی ہوئی بکری ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں کہوں گا: میں تیرے لیے کوئی اختیار نہیں رکھتا، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا، میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہر گز نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے روز اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہو، جو ہنہنا رہا ہو اور وہ آدمی کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کرو، میں تو کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کامالک نہیں ہوں، میں نے تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا،میں تم میں کسی کو قیامت کے دن ہر گز اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر چیختی ہوئی کوئی جان ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کر دو، میں کہہ دوں گا کہ میں تیرے حق میں کسی اختیار کا مالک نہیں ہوں، میں نے پیغام پہنچا دیا تھا، میں روزِ قیامت کسی کو اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اس دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر کپڑوں کے ٹکڑے ہوں، جو ہل رہے ہوں اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد کر دو، میں کہہ دوں گا کہ میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تجھے پیغام پہنچا دیا تھا اور میں کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت اس حال میں آئے کہ اس کے کندھے پر سونا اور چاندی ہو اور وہ کہہ رہا ہو: اے اللہ کے رسول! میری مدد تو کر دو، میں کہوں گا: میں تیری لیے کسی چیز کامالک نہیں ہوں، میں نے تجھے متنبہ کر دیا تھا۔

5075

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5075

Sahih

۔ (۵۰۷۵)۔ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ، أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَہِیدٌ، فُلَانٌ شَہِیدٌ حَتّٰی مَرُّوْا عَلٰی رَجُلٍ فَقَالُوْا فُلَانٌ شَہِیدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَلَّا إِنِّی رَأَیْتُہُ فِی النَّارِ فِی بُرْدَۃٍ غَلَّہَا أَوْ عَبَائَ ۃٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْہَبْ فَنَادِ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَادَیْتُ أَلَا إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب خیبر کا دن تھا اور صحابۂ کرام کا ایک گروہ آیا اور اس نے کہا: فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے، اسی اثناء میں وہ ایک اور مقتول کے پاس سے گزرے اور اس کے بارے میں بھی یہی کہا کہ وہ شہید ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، میں نے اس کو اس دھاری دار چادر یا چوغے کی وجہ سے آگ میں دیکھا، جو اس نے خیانت کی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن خطا ب! جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔ پس میں وہاں سے نکل پڑا اور یہ اعلان کیا کہ خبردار! جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔

5076

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5076

Zaeef

۔ (۵۰۷۶)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّہُ کَانَ مَعَ مَسْلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ فِی أَرْضِ الرُّومِ، فَوُجِدَ فِی مَتَاعِ رَجُلٍ غُلُولٌ، فَسَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ، عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَجَدْتُمْ فِی مَتَاعِہِ غُلُولًا فَأَحْرِقُوہُ۔)) قَالَ: وَأَحْسَبُہُ قَالَ: وَاضْرِبُوہُ، قَالَ: فَأَخْرَجَ مَتَاعَہُ فِی السُّوقِ، قَالَ: فَوَجَدَ فِیہِ مُصْحَفًا، فَسَأَلَ سَالِمًا فَقَالَ: بِعْہُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سالم بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ روم کے علاقے میں مسلمہ بن عبد الملک کے ساتھ تھے، ایک آدمی کے سامان میں خیانت والا مال بھی پایا گیا، مسلمہ نے اس کے بارے میں سالم بن عبد اللہ سے سوال کیا، انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جس کے سامان میں خیانت والا مال پاؤ، اس کے سامان کو جلا دو۔ راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس کی پٹائی بھی کرو، پس جب انھوں نے اس کا سامان بازار میں نکالا، لیکن جب دیکھا کہ اس میں ایک مصحف بھی ہے تو انھوں نے پھر سالم سے سوال کیا، جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔

5077

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5077

Sahih

۔ (۵۰۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَکَانَ عَلٰی رَحْلِ، وَقَالَ مَرَّۃً: عَلٰی ثَقَلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: کِرْکِرَۃُ فَمَاتَ، فَقَالَ: ہُوَ فِی النَّارِ، فَنَظَرُوْا فَإِذَا عَلَیْہِ عَبَائَ ۃٌ، قَدْ غَلَّہَا وَقَالَ مَرَّۃً: أَوْ کِسَائٌ قَدْ غَلَّہُ۔ (مسند أحمد: ۶۴۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کرکرہ نامی ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامانِ سفر یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل و عیال اور ساز و سامان پر مقرر تھا، جب وہ فوت ہوا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: وہ آگ میں ہے۔ جب صحابہ نے اس کا جائزہ لیا تو اس پر ایسا چوغہ پایا، جو اس نے خیانت کیا تھا۔ ایک روایت میں چادر کے الفاظ ہیں۔

5078

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5078

Sahih

۔ (۵۰۷۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اسْتُشْہِدَ مَوْلَاکَ فُلَانٌ، قَالَ: ((کَلَّا إِنِّی رَأَیْتُ عَلَیْہِ عَبَائَ ۃً غَلَّہَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا فلاں غلام شہید ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گزنہیں، میں نے اس پر ایک چوغہ دیکھا، جس کی اس نے فلاں دن خیانت کی تھی۔

5079

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5079

Sahih

۔ (۵۰۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَقْسِمَ غَنِیمَۃً، أَمَرَ بِلَالًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَنَادٰی ثَلَاثًا، فَأَتٰی رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ أَنْ قَسَمَ الْغَنِیمَۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ مِنْ غَنِیمَۃٍ کُنْتُ أَصَبْتُہَا، قَالَ: ((أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا یُنَادِی ثَلَاثًا؟۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ؟)) فَاعْتَلَّ لَہُ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّی لَنْ أَقْبَلَہُ حَتّٰی تَکُونَ أَنْتَ الَّذِی تُوَافِینِی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا ارادہ کرتے تو سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیتے، پس وہ تین بار اعلان کرتے (کہ جس آدمی کے پاس مالِ غنیمت میں سے کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر دے)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو پھر ایک آدمی وہ ڈوری لے کر آیا جو ناک کے سوراخ میں سے نکال کر باگ سے باندھی جاتی ہے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بھی مالِ غنیمت میں سے ہے، میں نے لے لی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے سنا نہیں کہ اس کے بارے میں بلال نے تین بار اعلان کیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر کس چیز نے تجھ کو روک دیا کہ تو اس کو لے کر آئے؟ اس نے عذر تو پیش کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب میں ہر گز اس کو قبول نہیں کروں گا اور تو خود اس کو قیامت کے دن پورا پورا ادا کرے گا۔

5080

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5080

Zaeef

۔ (۵۰۸۰)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ، یُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِینَ تُوُفِّیَ بِخَیْبَرَ، وَأَنَّہُ ذُکِرَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَلُّوا عَلٰی صَاحِبِکُمْ)) قَالَ: فَتَغَیَّرَتْ وُجُوہُ الْقَوْمِ لِذٰلِکَ، فَلَمَّا رَأَی الَّذِی بِہِمْ، قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ غَلَّ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ۔)) فَفَتَّشْنَا مَتَاعَہُ فَوَجَدْنَا فِیہِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْیَہُودِ، مَا یُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی خیبر کے دن فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خود اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کر لو۔ یہ بات سن کر لوگوں کے چہرے فق ہو گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔ پس جب ہم نے اس کے سامان کو کھولا تو یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی اس کے پاس پائے، وہ دو درہم کی قیمت کے تھے۔

5081

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5081

Sahih

۔ (۵۰۸۱)۔ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْخُذُ الْوَبَرَۃَ مِنْ قُصَّۃٍ مِنْ فَیْئِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَیَقُولُ: ((مَا لِی مِنْ ہٰذَا إِلَّا مِثْلَ مَا لِأَحَدِکُمْ إِلَّا الْخُمُسَ، وَہُوَ مَرْدُودٌ فِیکُمْ، فَأَدُّوا الْخَیْطَ وَالْمِخْیَطَ فَمَا فَوْقَہُمَا، وَإِیَّاکُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّہُ عَارٌ وَشَنَارٌ عَلٰی صَاحِبِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مالِ فئے کے بالوں کے ایک گچھے میں سے ایک بال پکڑا اور فرمایا: اس مالِ غنیمت میں سے میرا بھی وہی حصہ ہے، جو تم میں سے کسی ایک کا ہے، ما سوائے خُمُس کے اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں سب کچھ ادا کردو، اور خیانت سے بچو، کیونکہ خیانت قیامت کے دن خائن کے لیے عار وشنار اور عیب و رسوائی کا باعث ہو گی۔

5082

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5082

Sahih

۔ (۵۰۸۲)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَغُلُّوْا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلٰی أَصْحَابِہِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَجَاہِدُوْا النَّاسَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْقَرِیبَ وَالْبَعِیدَ، وَلَا تُبَالُوا فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَأَقِیمُوا حُدُودَ اللّٰہِ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، وَجَاہِدُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَإِنَّ الْجِہَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ عَظِیمٌ، یُنَجِّی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی بِہِ مِنْ الْہَمِّ وَالْغَمِّ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت خائن کے لیے دنیا و آخرت میں آگ اور عار کا سبب ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے قریب و بعید سے جہاد کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو،حضرو سفر میں اللہ کی حدود کو نافذ کرو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو، بیشک جنت کے دروازوں میں سے بڑا دروازہ جہاد ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے غم و حزن سے نجات دیتا ہے۔

5083

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5083

Zaeef

۔ (۵۰۸۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِیَّاکُمْ وَالْخَیْلَ الْمُنَفِّلَۃَ فَاِنَّھَا اِنْ تَلْقَ تَفِرَّ، وَاِنْ تَغْنَمٰ تَغْلُلْ)) (مسند أحمد: ۸۶۶۱)۸۶۶۱

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان گھوڑوں سے بچو، جو اپنے مالکوں کے لیے غنیمت کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں اگر تیرا مقابلہ ہو گا تو تو بھاگ جائے گا اور اگر تو غنیمت حاصل کرے گا تو خیانت کرے گا۔

5084

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5084

Sahih

۔ (۵۰۸۴)۔ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ لَیْثٍ قَالَ: اَسَرَّنِیْ فَارِسٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکُنْتُ مَعَھُمْ فَاَصَابُوْا غَنَمًا، فَانْتَھَبُوْھَا فَطَبَخُوْھَا، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ النُّھْبٰی اَوِ النُّھْبَۃَ لَا تَصْلَحُ فَاَکْفِئُوْا الْقُدُوْرَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سماک بن حرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو لیث کے ایک آدمی نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: صحابۂ کرام کے گھوڑ سواروں نے مجھے قید کر لیا، میں ان کے ساتھ تھا، انھوں نے بکریاں دیکھ کر لوٹ مار کی اور ان کو پکانا شروع کر دیا، لیکن (جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچے تو) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوٹ مار درست نہیں ہے، لہذا ہنڈیوں کو انڈیل دو۔