Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 872

جہاد کے مسائل

غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا

9 hadiths in this chapter

5037

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5037

Sahih

۔ (۵۰۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ عَمْرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ أَرْبَعَۃُ نَفَرٍ، وَمَعَنَا فَرَسٌ، فَأَعْطٰی کُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَہْمًا، وَأَعْطَی الْفَرَسَ سَہْمَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۳۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ہمارے ساتھ ایک گھوڑا بھی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم میں سے ہرآدمی کو ایک حصہ اور گھوڑے کے دو حصے دیئے۔

5038

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5038

Sahih

۔ (۵۰۳۸)۔ عَنِ الْمُنْذَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْطَی الزُّبَیْرَ سَھْمًا وَاُمَّہٗ سَھْمًا وَفَرَسَہٗ سَھْمَیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود زبیر کو ایک حصہ، اس کی ماں کو ایک حصہ اور اس کے گھوڑے کے دو حصے دیئے۔

5039

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5039

Sahih

۔ (۵۰۳۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ یَوْمَ خَیْبَرَ لِلْفَرَسِ سَہْمَیْنِ وَلِلرَّجُلِ سَہْمًا، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ: أَسْہَمَ لِلرَّجُلِ، وَلِفَرَسِہِ ثَلَاثَۃَ أَسْہُمٍ، سَہْمًا لَہُ، وَسَہْمَیْنِ لِفَرَسِہِ۔ (مسند أحمد: ۴۴۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر والے دن گھوڑے کے لیے دو حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ رکھا۔ ابو معاویہ راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کے لیے کل تین حصے رکھے، ایک آدمی کا اور دو اس کے گھوڑے کے۔

5040

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5040

Zaeef

۔ (۵۰۴۰)۔ عَنْ مَجْمَعِ بْنِ جَارِیَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقُسِمَتْ خَیْبَرُ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ لَمْ یُدْخِلْ مَعَہُمْ فِیہَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَہِدَ الْحُدَیْبِیَۃَ، فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا، وَکَانَ الْجَیْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَۃٍ، فِیہِمْ ثَلَاثُ مِائَۃِ فَارِسٍ، فَأَعْطَی الْفَارِسَ سَہْمَیْنِ، وَأَعْطَی الرَّاجِلَ سَہْمًا۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کو اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ کسی اور کو شامل نہیں کیا، بس صرف وہی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے اٹھارہ حصے بنائے، لشکر کی تعداد پندرہ سو(۱۵۰۰) تھی، ان میں تین سو گھوڑ سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑ سوار کو دو حصے دیئے اور پیادہ کو ایک۔

5041

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5041

Sahih

۔ (۵۰۴۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِی الْمَرْأَۃَ وَالْمَمْلُوْکَ مِنَ الْغَنَائِمَ مَا یُصِیْبُ الْجَیْشَ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: دُوْنَ مَا یُصِیْبُ الْجَیْشَ۔ (مسند أحمد: ۲۹۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالِ غنیمت میں سے عورت اور غلام کو اتنا حصہ دیتے تھے، جتنا لشکر والے افراد کو ملتا تھا، لیکن ایک روایت میں ہے: لشکر والے افراد سے کم حصہ عورت اور غلام کو دیا جاتاتھا۔

5042

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5042

Sahih

۔ (۵۰۴۲)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّھُمْ کَانُوْا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزْوَۃٍ، قَالَ: وَفِیْنَا مَمْلُوْکِیْنَ فَلَا یُقْسَمَ لَھُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، ہم میں غلام بھی تھے، مالِ غنیمت میں سے ان کو کچھ نہیں دیا گیا۔

5043

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5043

Zaeef

۔ (۵۰۴۳)۔ وَعَنْ اِمْرَأَۃٍ مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ قَالَتْ: لَمَّا فَتَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ خَیْبَرَ رَضَّخَ لَنَا مِنَ الْفَیْئِ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بنوغفار کی ایک خاتون سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر فتح کیا تو ہمیں بھی مالِ غنیمت میں سے تھوڑی مقدار میں عطیے دیئے۔

5044

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5044

Sahih

۔ (۵۰۴۴)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَقَدْ کَتَبَ اِلَیْہِ نَجْدَۃُ الْحَرُوْرِیُّ یَسْأَلُہٗ عَنْ خَمْسِ خِصَالٍ مِنْھَا: ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْزُو بِالنِّسَائِ مَعَہُ؟ فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ کَانَ یَغْزُو بِالنِّسَائِ مَعَہُ، فَیُدَاوِینَ الْمَرْضٰی وَلَمْ یَکُنْ یَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ، وَلٰکِنَّہُ کَانَ یُحْذِیہِنَّ مِنَ الْغَنِیمَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۸۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، جبکہ نجدہ حروری نے ان کی طرف خط لکھا اور پانچ امور کے بارے میں پوچھا، ایک سوال یہ تھا: کیا عورتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں؟ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً لکھا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں جاتی تھیں اور مریضوں کا دوا دارو کرتی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے لیے دوسرے مجاہدین کی طرح حصہ مقرر نہیں کرتے تھے، البتہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑا بہت بطورِ عطیہ دے دیتے تھے۔

5045

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5045

Sahih

۔ (۵۰۴۵)۔ عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلٰی آبِی اللَّحْمِ قَالَ: شَھِدْتُ خَیْبَرَ مَعَ سَادَتِیْ فَکَلَّمُوْا فِیَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَمَرَبِیْ فَقَلَّدْتُ سَیْفًا فَاِذَا اَنَا اَجُرُّہٗ، فَاُخْبِرَ اَنَّیْ مَمْلُوْکٌ فَاَمَرَ لِیْ بِشَیْئٍ مِنْ خُرْثِیِّ الْمَتَاعِ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے آبی اللحم سیدنا عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں حاضر ہوا، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرے بارے میں بات کی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بارے میں حکم دے دیا، میں نے اپنے ساتھ اس طرح تلوار لٹکائی کہ وہ گھسٹ رہی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑی سی مقدار میں گھریلو ساز و سامان مجھے دے دیا جائے۔