Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 865

جہاد کے مسائل

عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

4993

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4993

Sahih

۔ (۴۹۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی فِیْ بَعْضِ مَغَازِیْہِ امْرَاَۃً مَقْتُوْلَۃً فَنَھٰی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ۔ (مسند أحمد: ۵۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعض غزووں میں ایک عورت کو قتل شدہ پایا اور پھر عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔

4994

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4994

Sahih

۔ (۴۹۹۴)۔ عَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِیعِ أَخِی حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا، وَعَلَی مُقَدِّمَتِہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی امْرَأَۃٍ مَقْتُولَۃٍ مِمَّا أَصَابَتِ الْمُقَدِّمَۃُ، فَوَقَفُوا یَنْظُرُونَ إِلَیْہَا، وَیَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِہَا حَتّٰی لَحِقَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَاحِلَتِہِ، فَانْفَرَجُوْا عَنْہَا، فَوَقَفَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مَا کَانَتْ ہٰذِہِ لِتُقَاتِلَ، فَقَالَ لِأَحَدِہِمْ: ((الْحَقْ خَالِدًا فَقُلْ لَہُ لَا تَقْتُلُونَ ذُرِّیَّۃً وَلَا عَسِیفًا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا رباح بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ حنظلہ کاتب کے بھائی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، لشکر کے مقدمہ پر سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مامور تھے، جب رباح اور دوسرے صحابہ ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے، جس کو مقدمہ نے قتل کیا تھا، تو وہ کھڑے ہو گئے، اس کو دیکھنے لگ گئے اور اس کی جسامت پر تعجب کرنے لگے، یہاں تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو آملے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس عورت کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا: یہ تو قتال کرنے والی نہیں تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: خالد کو ملو اور اس کو کہو کہ عورت اور بچے اور مزدور کو قتل مت کرو۔

4995

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4995

Sahih

۔ (۴۹۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلًا اَخَذَ اِمْرَاۃً فَنَازَعَتْہٗ قَائِمَ سَیْفِہِ فَقَتَلَھَا، فَمَرَّ عَلَیْھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاُخْبِرَ بِاَمْرِھَا فَنَھٰی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو بطورِ قیدی لیا، جب اس خاتون نے اس مرد سے اس کی تلوار کا دستہ پکڑ کر تلوار کھینچنا چاہا تو اس نے اس کو قتل کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے اور آپ کو بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کوقتل کرنے سے منع کر دیا۔

4996

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4996

Sahih

۔ (۴۹۹۶)۔ عَنْ اَیُّوْبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ سَرِیَّۃً کُنْتُ فِیْھَا، فَنَھَانَا اَنْ نَقْتُلَ الْعُسَفَائَ وَالْوُصَفَائَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۴۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایوب راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے قبیلے کے آدمی سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کر رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سریّہ روانہ کیا، وہ بھی اس میں تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مزدوروں،غلاموں اور لونڈیوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔

4997

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4997

Sahih

۔ (۴۹۹۷)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَغَزَوْتُ مَعَہُ، فَأَصَبْتُ ظَہْرًا، فَقَتَلَ النَّاسُ یَوْمَئِذٍ حَتّٰی قَتَلُوا الْوِلْدَانَ، وَقَالَ مَرَّۃً: الذُّرِّیَّۃَ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَہُمُ الْقَتْلُ الْیَوْمَ، حَتّٰی قَتَلُوا الذُّرِّیَّۃَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا ہُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِکِینَ؟ فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّ خِیَارَکُمْ أَبْنَائُ الْمُشْرِکِینَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّیَّۃً أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّیَّۃً۔)) قَالَ: ((کُلُّ نَسَمَۃٍ تُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یُعْرِبَ عَنْہَا لِسَانُہَا فَأَبَوَاہَا یُہَوِّدَانِہَا وَیُنَصِّرَانِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کرجہاد کیا، مجھے ایک سواری بھی مل گئی، اس دن لوگوں نے قتل کا ایسا سلسلہ قائم کیا کہ بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کر دیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، آج قتل تجاوز کر گیا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوں کی اولاد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے پسندیدہ افراد بھی مشرکوں کی ہی اولاد ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل مت کرو، خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔ پھر فرمایا: ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی اپنی زبان وضاحت کرنے لگ جائے اور اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیں۔

4998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4998

Sahih

۔ (۴۹۹۸)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ سَرِیَّۃً یَوْمَ حُنَیْنٍ، فَقَاتَلُوا الْمُشْرِکِینَ، فَأَفْضٰی بِہِمْ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّیَّۃِ، فَلَمَّا جَائُ وْا، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی قَتْلِ الذُّرِّیَّۃِ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا کَانُوا أَوْلَادَ الْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ: ((أَوَہَلْ خِیَارُکُمْ إِلَّا أَوْلَادُ الْمُشْرِکِینَ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا مِنْ نَسَمَۃٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یُعْرِبَ عَنْہَا لِسَانُہَا)) (مسند أحمد: ۱۵۶۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حنین والے دن ایک سریّہ بھیجا، اس نے مشرکوں سے قتال کیا اور اس میں قتل کا سلسلہ بچوں اور عورتوں تک جا پہنچا، جب وہ واپس آئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کو بچے اور عورتیں قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوں کی اولاد ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پسندیدہ افراد بھی تو مشرکوں کی ہی اولاد ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! ہر جان فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کر دے۔

4999

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4999

Sahih

۔ (۴۹۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَعَثَ جُیُوشَہُ، قَالَ: ((اخْرُجُوا بِسْمِ اللّٰہِ، تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، لَا تَغْدِرُوْا، وَلَا تَغُلُّوْا، وَلَا تُمَثِّلُوْا، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ، وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ)) (مسند أحمد: ۲۷۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو فرماتے: اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کرو، نہ دھوکہ کرو، نہ خیانت کرو، نہ مثلہ کرو، نہ بچوں کو قتل کرو اور نہ گرجا گھروالوں کو۔ ‘

5000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5000

Zaeef

۔ (۵۰۰۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ، وَاسْتَحْیُوا شَرْخَہُمْ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَأَلْتُ أَبِی عَنْ تَفْسِیرِ ہٰذَا الْحَدِیثِ: اقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ، قَالَ: یَقُولُ الشَّیْخُ: لَا یَکَادُ أَنْ یُسْلِمَ وَالشَّابُّ أَیْ یُسْلِمُ کَأَنَّہُ أَقْرَبُ إِلَی الْإِسْلَامِ مِنْ الشَّیْخِ، قَالَ: الشَّرْخُ الشَّبَابُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۴۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مشرکوں کے بہادری اور جنگ والے قوی افراد کو قتل کرو اور نابالغ بچوں کو چھوڑ دو۔ عبد اللہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد رحمہ اللہ سے اس کی حدیث اُقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: شیخ کا مسئلہ یہ ہے کہ قریب نہیں ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے، جبکہ لڑکا، شیخ کی بہ نسبت اسلام قبول کرنے کے قریب ہوتا ہے۔ اَلشَّرْح سے مراد لڑکے ہیں۔