Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 851

جہاد کے مسائل

شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان

18 hadiths in this chapter

4898

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4898

Sahih

۔ (۴۸۹۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ أَہْلِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ دِیْنِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ دَمِہِ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کے تحفظ میں مارا گیا، وہ شہید ہے، جو آدمی اپنے اہل و عیال کا تحفظ کرتا ہوا قتل ہو گیا، وہ شہید ہے، جو آدمی اپنے دین کو بچاتے ہوئے مارا گیا، وہ شہید ہے اور جو آدمی اپنے خون کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا، وہ بھی شہید ہے۔

4899

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4899

Sahih

۔ (۴۸۹۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أُرِیْدَ مَالُہٗ بِغَیْرِ حَقٍّ فَقُتِلَ دُوْنَہُ فَہُوَ شَہِیْدٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا مال بغیر حق کے لے لینے کا ارادہ کر لیا اور وہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا تو وہ شہید ہو گا۔

4900

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4900

Zaeef

۔ (۴۹۰۰)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نِعْمَ الْمِیْتَۃُ أَنْ یَّمُوْتَ الرَّجُلُ دُوْنَ حَقِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھی موت یہ ہے کہ آدمی اپنے حق کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے۔

4901

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4901

Zaeef

۔ (۴۹۰۱)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ، أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِی مَخْزُومٍ، یُحَدِّثُ عَنْ عَمِّہِ، أَنَّ مُعَاوِیَۃَ أَرَادَ أَنْ یَأْخُذَ أَرْضًا لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو یُقَالُ لَہَا: الْوَہْطُ، فَأَمَرَ مَوَالِیَہُ فَلَبِسُوا آلَتَہُمْ، وَأَرَادُوا الْقِتَالَ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، فَقُلْتُ: مَاذَا؟ فَقَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُظْلَمُ بِمَظْلَمَۃٍ فَیُقَاتِلَ فَیُقْتَلَ إِلَّا قُتِلَ شَہِیدًا۔)) (مسند أحمد: ۶۹۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعد بن ابراہیم سے مروی ہے، انھوں نے بنومخزوم کے ایک آدمی سے سنا، وہ اپنے چچا سے بیان کرتا ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہط نامی زمین لینا چاہی، لیکن انھوں نے اپنے غلاموں کو حکم دیا، پس انھوں نے اپنے آلات اٹھا لیے اور لڑنے کے لیے تیار ہو گئے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان پر ظلم کیا جاتا ہے اور وہ آگے سے قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے، تو وہ شہید ہو گا۔

4902

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4902

Sahih

۔ (۴۹۰۲)۔ عَن حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْیَرِیِّ، أَنَّ رَجُلًا یُقَالُ لَہُ: حَمَمَۃُ، کَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، خَرَجَ إِلٰی أَصْبَہَانَ غَازِیًا فِی خِلَافَۃِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اللّٰہُمَّ إِنَّ حَمَمَۃَ یَزْعُمُ أَنَّہُ یُحِبُّ لِقَائَ کَ، فَإِنْ کَانَ حَمَمَۃُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَہُ صِدْقَہُ، وَإِنْ کَانَ کَاذِبًا فَاعْزِمْ عَلَیْہِ وَإِنْ کَرِہَ، اللّٰہُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَۃَ مِنْ سَفَرِہِ ہٰذَا، قَالَ: فَأَخَذَہُ الْمَوْتُ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً: الْبَطْنُ، فَمَاتَ بأَصْبَہَانَ، قَالَ: فَقَامَ أَبُو مُوسٰی فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّا وَاللّٰہِ مَا سَمِعْنَا فِیمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا إِلَّا أَنَّ حَمَمَۃَ شَہِیدٌ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حمید بن عبد الرحمن حمیری کہتے ہیں کہ حممہ نامی ایک آدمی جہاد کرنے کے لیے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں اصفہان کی طرف نکلا، یہ آدمی اصحاب ِ رسول میں سے تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ! بیشک حممہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے، اگر حممہ سچا ہے تو تو اس کے سچ کو پورا کر دے اور اس کو شہید کر دے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر بھی تو اس کو شہید کر دے، اگرچہ یہ ناپسند کرتا ہو، اے اللہ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹانا۔ ایسے ہی ہوا اور وہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے اصبہان کے علاقے میں فوت ہو گیا۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! جو کچھ ہم نے تمہارے نبی سے سنا اور جتنا ہم نے علم حاصل کیا، اس کا یہ تقاضا یہ ہے کہ حممہ شہید ہے۔

4903

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4903

Sahih

۔ (۴۹۰۳)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَأُخْرِجَ بِجِنَازَتِہِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا تَلَقَّانَا خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَ وَسُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَکِلَاہُمَا قَدْ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، فَقَالَا: سَبَقْتُمُونَا بِہٰذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ، فَذَکَرُوْا أَنَّہُ کَانَ بِہِ بَطْنٌ، وَأَنَّہُمْ خَشُوْا عَلَیْہِ الْحَرَّ، قَالَ: فَنَظَرَ أَحَدُہُمَا إِلٰی صَاحِبِہِ، فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ قَتَلَہُ بَطْنُہُ لَمْ یُعَذَّبْ فِیْ قَبْرِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو اسحق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک نیک سیرت آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا جنازہ نکالا گیا تو ہمیں سیدنا خالد بن عرفطہ اور سیدنا سلیمان بن صرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ملے، یہ دونوں صحابی تھے، انھوں نے کہا: تم اس نیک آدمی کے سلسلے میں ہم سے سبقت لے گئے ہو، لوگوں نے کہا: اس کو پیٹ کی بیماری تھی اور ہمیں گرمی کی وجہ سے ڈر تھا، یہ سن کر ان دو میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی وجہ سے فوت ہو گا، اس کو قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق دوسرے صحابی نے جواب دیا: جی کیوں نہیں۔)

4904

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4904

Sahih

۔ (۴۹۰۴)۔ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، بِمَا مَاتَ ابْنُ أَبِیْ عَمْرَۃَ؟ فَقَالُوْا: بِالطَّاعُوْنِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلطَّاعُوْنُ شَہَادَۃٌ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ ابن ابی عمروہ کیسے فوت ہوا ہے، انھوں نے کہا: طاعون کے سبب سے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون ہر مسلمان کی شہادت ہے۔

4905

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4905

Sahih

۔ (۴۹۰۵)۔ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَخْتَصِمُ الشُّہَدَائُ، وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلٰی فُرُشِہِمْ إِلٰی رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِی الَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ، فَیَقُولُ: الشُّہَدَائُ إِخْوَانُنَا قُتِلُوا کَمَا قُتِلْنَا، وَیَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلٰی فُرُشِہِمْ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلٰی فُرُشِہِمْ کَمَا مِتْنَا عَلٰی فُرُشِنَا، فَیَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوْا إِلٰی جِرَاحِہِمْ، فَإِنْ أَشْبَہَتْ جِرَاحُہُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِینَ فَإِنَّہُمْ مِنْہُمْ وَمَعَہُمْ، فَإِذَا جِرَاحُہُمْ قَدْ أَشْبَہَتْ جِرَاحَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہداء اور بستروں پر طبعی موت فوت ہونے والے اللہ تعالیٰ کے پاس ان لوگوں کے بارے میں جھگڑیں گے، جو طاعون کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں، شہداء کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح شہید ہوئے ہیں، بستروں پر فوت ہونے والے کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہے اور بستروں پر ایسی ہی طبعی موت فوت ہوئے ہیں، جیسے ہم مرے ہیں، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتے ہوئے کہے گا: تم لوگ ان کے زخموں کو دیکھ لو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہوئے تو یہ ان ہی میں سے اور ان کے ساتھ ہوں گے، پس ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہوں گے۔

4906

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4906

Sahih

۔ (۴۹۰۶)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِنِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّٔبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

4907

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4907

Sahih

۔ (۴۹۰۷)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَیِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیْدٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ) سے مرجانے والا شہید ہے۔

4908

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4908

Sahih

۔ (۴۹۰۸)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْأَلْہَانِیِّ، قَالَ: ذُکِرَ عِنْدَ أَبِی عِنَبَۃَ الْخَوْلَانِیِّ الشُّہَدَائُ، فَذَکَرُوْا الْمَبْطُونَ وَالْمَطْعُونَ وَالنُّفَسَائَ، فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَۃَ وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِیِّنَا عَنْ نَبِیِّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ شُہَدَائَ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ أُمَنَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ فِی خَلْقِہِ قُتِلُوْا أَوْ مَاتُوا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ محمد بن زیاد الہانی کہتے ہیں: سیدنا ابو عنبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس شہداء کا تذکرہ کیا گیا، لوگوں نے پیٹ اور طاعون کی بیماری سے مرنے والوں اور نفاس میں فوت ہونے والی خواتین کا ذکر کیا، سیدنا ابو عنبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: ہمارے نبی کے اصحاب نے ہمارے نبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین میں اللہ تعالیٰ کے شہداء وہ ہیں، جو اس کی زمین میں اس کی مخلوق میں سے امانت والے ہیں، ان کو قتل کیا جائے یا وہ طبعی موت فوت ہوں۔

4909

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4909

Sahih

۔ (۴۹۰۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَرِیْضٌ، فِی نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ یَعُودُونِی، فَقَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّہِیدُ؟)) فَسَکَتُوْا، فَقَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّہِیدُ؟)) فَسَکَتُوْا، قَالَ: ((ہَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّہِیدُ؟)) فَقُلْتُ: لِامْرَأَتِی أَسْنِدِینِی فَأَسْنَدَتْنِی، فَقُلْتُ: مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ ہَاجَرَ ثُمَّ قُتِلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَہُوَ شَہِیدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ شُہَدَائَ أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہَادَۃٌ، وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ، وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ، وَالنُّفَسَائُ شَہَادَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کچھ انصاری لوگوں سمیت میری عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ جواباً خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ اس بار بھی خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ میں نے اپنی بیوی سے کہا: مجھے سہارا دے، پس اس نے مجھے سہارا دیا، پھر میں نے کہا: جی جو شخص اسلام لایا، پھر اس نے ہجرت کی اور پھر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو گیا، وہ شہید ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کی تعداد کم ہو گی، بلکہ اللہ کی راہ میں قتل بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری کی وجہ سے موت بھی شہادت ہے، ڈوبنا بھی شہادت ہے اور نفاس میں فوت ہو جانا بھی شہادت ہے۔

4910

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4910

Sahih

۔ (۴۹۱۰)۔ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَیْشٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ یَعُودُہُ فِی مَرَضِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَعْلَمُونَ مَنِ الشَّہِیدُ مِنْ أُمَّتِی؟)) فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: سَانِدُونِی فَأَسْنَدُوہُ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ شُہَدَائَ أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، الْقَتْلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ شَہَادَۃٌ، وَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ، وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ، وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ، وَالنُّفَسَائُ یَجُرُّہَا وَلَدُہَا بِسَرَرِہِ إِلَی الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: وَزَادَ فِیہَا أَبُو الْعَوَّامِ: سَادِنُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّیْلُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۰۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا راشد بن حبیش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عبادہ بن صامت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون ہیں؟ لوگ خاموش رہے، البتہ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے سہارا دو، پس لوگوں نے ان کو سہارا دیا، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، سنو، اللہ کی راہ میں قتل بھی شہادت ہے، طاعون بھی شہادت ہے، ڈوبنا بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری بھی شہادت ہے، اور نفاس والی خواتین کی صورتحال تو یہ ہو گی کہ ان کا بچہ اپنے ناف کے اس حصے کے ذریعے ان کو جنت کی طرف کھینچ کر لے جائے گا، جو ولادت کے وقت کاٹا جاتا ہے۔ ابو عوام کی روایت میں ان افراد کی زیادتی ہے: بیت المقدس کا خادم شہید ہے، آگ میں جل جانا شہادت ہے اور سیلاب میں مرجانا بھی شہادت ہے۔

4911

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4911

Sahih

۔ (۴۹۱۱)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَادَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ رَوَاحَۃَ، قَالَ: فَمَا تَحَوَّزَ لَہُ عَنْ فِرَاشِہِ، فَقَالَ: ((أَتَدْرُونَ مَنْ شُہَدَائُ أُمَّتِی؟)) قَالُوْا: قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَہَادَۃٌ، قَالَ: ((إِنَّ شُہَدَائَ أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَہَادَۃٌ، وَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ، وَالْمَرْأَۃُ یَقْتُلُہَا وَلَدُہَا جَمْعَائَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیمارداری کرنے کیلئے تشریف لائے، وہ (شدت ِ مرض کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاطر) اپنے بستر سے ہٹ نہ سکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے شہداء کون کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: مسلمان کا قتل ہو جانا ہی شہادت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، سنو، مسلمان کا قتل بھی شہادت ہے، طاعون بھی شہادت ہے اور وہ حاملہ خاتون بھی شہید ہے، جو اپنے پیٹ والے بچے کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے۔

4912

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4912

Zaeef

۔ (۴۹۱۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا تَعُدُّونَ الشَّہِیدَ؟)) قَالُوْا: الَّذِی یُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ حَتّٰی یُقْتَلَ، قَالَ: ((إِنَّ الشَّہِیدَ فِی أُمَّتِی إِذًا لَقَلِیلٌ، الْقَتِیلُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالطَّعِینُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالْغَرِیقُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ، وَالْمَجْنُوبُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ شَہِیدٌ۔)) قَالَ مُحَمَّدٌ: الْمَجْنُوبُ صَاحِبُ الْجَنْبِ، زاد فی روایۃ: وَالْبَطْنُ شَھَادَۃٌ وَالنُّفَسَائُ شَھَادَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۹۶۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ کس کو شہید شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جو اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں طاعون کی وجہ سے مرنے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں غرق ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور سے گر کر وفات پانے والا بھی شہید ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں نمونیا کی بیماری سے فوت ہو جانے والا بھی شہید ہے۔ محمد راوی نے کہا: مَجْنُوب سے مراد صَاحِبُ الْجَنْب ہے، ایک روایت میں ان الفاظ کی بھی زیادتی ہے: پیٹ کی بیماری بھی شہادت ہے اور نفاس میں فوت ہونے والی خواتین بھی شہید ہیں۔

4913

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4913

Sahih

۔ (۴۹۱۳)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ، وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ، وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ، وَالنُّفَسَائُ شَہَادَۃٌ)) (مسند أحمد: ۱۵۳۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون شہادت ہے، ڈوبنا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری شہادت ہے اور نفاس والی خواتین شہید ہیں۔

4914

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4914

Sahih

۔ (۴۹۱۴)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الشُّہَدَائُ خَمْسَۃٌ، الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْہَدْمِ، وَالشَّہِیدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلََّ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں: طاعون کی بیماری والا، پیٹ کی بیماری والا، ڈوبنے والا، دیوار کے نیچے آ کر فوت ہو جانے والا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہونے والا۔

4915

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4915

Sahih

۔ (۴۹۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِیکٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ ثَابِتٍ لَمَّا مَاتَ قَالَتِ ابْنَتُہُ: وَاللّٰہِ إِنْ کُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ شَہِیدًا، أَمَا إِنَّکَ کُنْتَ قَدْ قَضَیْتَ جِہَازَکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَہُ عَلٰی قَدْرِ نِیَّتِہِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّہَادَۃَ؟)) قَالُوْا: قَتْلٌ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ، وَالْغَرِقُ شَہِیدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَہِیدٌ، وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ، وَالْمَرْأَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَہِیدَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۱۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ جابر بن عتیک سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبد اللہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہونے لگے تو ان کی ایک بیٹی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ امید کرتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے، بہرحال آپ نے اپنی تیاری تو کر رکھی تھی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے مطابق اجر تو ثابت کر دیا ہے، اور تم یہ بتاؤ کہ تم لوگ کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کو، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں قتل کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں: طاعون کی بیماری میں فوت ہونے والا شہید ہے، ڈوبنے والا شہید ہے، اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ کی) وجہ سے وفات پانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، جل کر فوت ہونے والا شہید ہے، گرنے والی دیوار کے نیچے آ کر فوت ہو جانے والا شہید ہے اور حمل کی وجہ سے فوت ہو جانے والی خاتون شہید ہے۔