Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 76 · Chapter 834

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان

8 hadiths in this chapter

4750

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4750

Sahih

۔ (۴۷۵۰)۔ عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ: عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا تَجْمَعُوْا بَیْنَ اسْمِي وَ کُنْیَتِيْ، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ، اَللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِيْ، وَ أَنَا أَقْسِمُ۔)) (مسند أحمد: ۹۵۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو، پس بیشک میں ابو القاسم ہوں، اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔

4751

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4751

Sahih

۔ (۴۷۵۱)۔ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ بِالْبَقِیْعِ، فَنَادٰی رَجُلٌ: یَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَیْہِ فَقَالَ: لَمْ أَعْنِکَ، قَالَ: ((تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِيْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع میں تھے کہ ایک آدمی نے یوں آواز دی: اے ابو القاسم! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میری مراد آپ نہیں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا نام رکھ لو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔

4752

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4752

Sahih

۔ (۴۷۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الأَ نْصَارِيِّ: أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَ نْصَارِ وُلِدَ لَہُ غُلامٌ فَأَرَادَ أَنْ یُسَمِّیَہُ مُحَمَّدًا، فَأَتَی النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ؟ فَقَالَ: ((أَحْسَنَتِ الأَ نْصَارُ، تَسَمَّوْا بِاسْمِيْ، وَلا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِيْ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۲۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کا لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا، پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انصاریوں نے اچھا کیا ہے، میرا نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔

4753

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4753

Sahih

۔ (۴۷۵۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلامٌ، فَأَسْمَاہُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لا نُکَنِّیکَ أَبَا الْقَاسِمِ وَ لا نُنْعِمُکَ عَیْنَا، فَأَتَی النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَہُ۔ فَقَالَ: ((أَسْمِ ابْنَکَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم میں سے ایک آدمی کا بچہ پیدا ہوا، اس نے اس کا نام قاسم رکھا، ہم نے اس سے کہا: ہم تیری کنیت ابو القاسم نہیں رکھیں گے اور اس طرح تیری آنکھ کو ٹھنڈا نہیں کریں گے، پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھ لو۔

4754

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4754

Sahih

۔ (۴۷۵۴)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَسَمَّوْا بِي (وَفِيْ لَفْظٍ بِاسمي)، وَلا تَکَنَّوْا بِکُنْیَتِيْ، أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا نام رکھ لو، لیکن میری کنیت نہ رکھو، میں ابو القاسم ہوں۔

4755

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4755

Sahih

۔ (۴۷۵۵)۔ وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ((مَنْ تَسَمَّی بِاسْمي فَلا یَتَکَنَّی بِکُنْیَتِيْ، وَ مَن اکْتَنَي بِکُنْیَتِيْ فَلَا یَتَسَمّٰی بِاسْمي۔)) (۴۷۵۶)۔ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَثلہ۔ (مسند أحمد: ۱۴۴۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے میرے نام پر نام رکھا، وہ میری کنیت نہ رکھے اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے۔

4756

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4756

Sahih

۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

4757

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4757

Sahih

۔ (۴۷۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِيْ لَیْلٰی، قَالَ: نَظَرَ عُمَرُ إِلٰی أَبِيْ عَبْدِ الْحَمِیدِ (أَوِ ابْنِ عَبْدِ الحَمِیدِ، شَکَّ أَبُو عَوَانَۃَ) وَکَانَ اسْمُہُ مُحَمَّدًا، وَرَجُلٌ یَقُوْلُ لَہُ: یَا مُحَمَّدُ! فَعَلَ اللّٰہ بِکَ وَ فَعَلَ وَ فَعَلَ، قَالَ: وَجَعَلَ یَسُبُّہُ ، قَالَ: فَقَالَ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ عِنْدَ ذٰلِکَ: یَا ابْنَ زَیْدٍ ادْنُ مِنِّي، قَالَ: أَلا أَرٰی مُحَمَّدًا، یُسَبُّ بِکَ، لا وَاللّٰہ لا تُدْعٰی مُحَمَّدًا مَا دُمْتُ حَیًا، فَسَمَّاہُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰی بَنِيْ طَلْحَۃَ لِیُغَیِّرَ أَھْلُھُمْ أَسْمَائَ ھُمْ وَ ھُمْ یَوْمَئِذٍ سَبْعَۃٌ وَ سَیِّدُھُمْ وَ أَکْبَرُھُمْ مُحَمَّدٌ، قَالَ : فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ: أَنْشُدُکَ اللّٰہ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! فَوَاللّٰہ إِنْ سَمَّانِي مُحَمَّدًا یَعْنِيْ إِلا مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ عُمَرُ: قُومُوْا لا سَبِیْلَ لِيْ إِلَی شَيْئٍ سَمَّاہُ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔(مسند أحمد: ۱۸۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد الرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابو عبد الحمید یا ابن عبد الحمید کی طرف دیکھا، اس کا نام محمد تھا، ایک آدمی اس کو گالی دے رہا تھا اور یوں کہہ رہا تھا: او محمد! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ یوں کرے اور اس طرح کرے اور اس طرح کرے، امیر المؤمنین نے اس وقت کہا: اے ابن زید! ذرا میرے قریب ہو جاؤ، کیا میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری وجہ سے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے، نہیں، اللہ کی قسم ہے جب تک تم زندہ رہو گے ، تم کو محمد نہیں کہا جائے گا ، پھر انھوں نے نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا ، پھر امیر المومنین نے بنو طلحہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ان میں سے جن کے نام محمد ہیں وہ اس نام کو تبدیل کر دیں ، ایسے کل سات افراد تھے ، بلکہ اس کے سردار اور بڑے کا نام بھی محمد تھا ، ان میں سے سیدنا محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر المومنین ! میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ میرا نام تبدیل نہ کریں کیونکہ میرا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ہے ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : چلے جاؤ ، جس آدمی کا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ، اس کے بارے میں مجھے کوئی اختیار نہیں ہے ۔