Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 76 · Chapter 827

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

عقیقہ، فرع اور عتیرہ کی حقیقت کا بیان

3 hadiths in this chapter

4718

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4718

Sahih

۔ (۴۷۱۸)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَزُوْرًا فَانْتَھَبَھَا النَّاسُ، فَنَادٰی مُنَادِیہِ: إِنَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ یَنْھَیَانِکُمْ عَنِ النُّھْبَۃِ، فَجَائَ النَّاسُ بِمَا أَخَذُوْا، فَقَسَمَہُ بَیْنَھُمْ۔ (مسند أحمد: ۸۳۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹ ذبح کیے اور لوگوں نے گوشت کو اچکنا شروع کر دیا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مُنادِی نے آواز دی اور کہا: بیشک اللہ اور اس کا رسول تم کو اچکنے سے منع کرتے ہیں۔ یہ سن کر لوگوں نے جو کچھ حاصل کیا تھا، وہ لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے مابین تقسیم کر دیا۔

4719

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4719

Sahih

۔ (۴۷۱۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْعَقِیقَۃِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ لا یُحِبُّ الْعُقُوْقَ۔)) وَ کَأَنَّہُ کَرِہَ الاسْمَ۔ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّمَا نَسَأَلُکَ عَنْ أَحَدِنَا یُوْلَدُ لَہُ؟ قَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَنْسُکَ عَنْ وَلَدِہِ فَلْیَفْعَلْ، عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ، وَ عَنِ الْجَارِیَۃِ شَاۃٌ۔)) قَالَ: وَ سُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ؟ قَالَ: ((وَالْفَرَعُ حَقٌ، وَ أَنْ تَتْرُکَہُ حَتّٰی یَکُوْنَ شُغْزُبًّا، أَوْ شُغْزُوبًّا، ابْنَ مَخَاضٍ، أَوِ ابْنَ لَبُونٍ، فَتَحْمِلَ عَلَیْہِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، أَوْ تُعْطِیَہُ أَرْمِلَۃً خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَہُ یَلْصقُ لَحْمُہُ بِوَبَرِہِ، وَ تُکْفِیُٔ إِنَائَ کَ وَ تُوَلِّہُ نَاقَتَکَ۔))وَقَالَ: وَ سُئِلَ عَنِ الْعَتِیْرَۃِ؟ فَقَالَ: ((اَلْعَتِیْرَۃُ حَقٌ۔)) قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِعَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ: مَا العَتِیْرَۃُ؟ قَالَ: کَانُوْا یَذْبَحُوْنَ فِي رَجَبٍ شَاۃً، فَیَطْبُخُوْنَ وَ یَأْکُلُوْنَ وَ یُطْعِمُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۶۷۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ عقوق کو ناپسند کرتا ہے۔ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ لفظ ناپسند کیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب کسی کا بچہ پیدا ہو تو (اس کی طرف سے جو جانور ذبح کیا جاتا ہے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو وہ کرے، تفصیل یہ ہے کہ بچے کی طرف سے بکری یا بھیڑ کی نسل کے دو برابر برابر جانور ہوں اور بچی کی طرف سے ایک۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فرع کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرع حق ہے، لیکن اگر تو اس جانور کو چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا گوشت سخت ہو جائے، یعنی ابن مخاض بن جائے یا ابن لبون بن جائے، پھر تو اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں سواری کے لیے دے یا بیواؤں کو دے دے تو یہ عمل اس سے بہتر ہو گا کہ تو اس وقت اس کو ذبح کر دے، جب اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو، اس طرح تو اپنا برتن بھی انڈیل دے اور اپنی اونٹنی کو بھی تکلیف پہنچائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عتیرہ حق ہے۔ کسی آدمی نے عمرو بن شعیب سے سوال کیا کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے، انھوں نے کہا: لوگ رجب میں ایک بکری ذبح کر کے اس کو پکاتے تھے، پھر خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔

4720

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4720

Sahih

۔ (۴۷۲۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِيْ أَبِيْ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ، عَنْ أَبِيْ الْمَلِیْحِ بْنِ أُسَامَۃَ، عَنْ نُبَیْشَۃَ الْھُذَلِيِّ، قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! إِنَّا کُنَّا نَعْتِرُ عَتِیرَۃً فِي الْجَاھِلِیَّۃِ (وَفِيْ لَفْظٍ رَجَبٍ) فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((اِذْبَحُوْا للّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَھْرٍ مَّا کَانَ، وَبَرُّوا لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَ أَطْعِمُوْا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ، إِنَّا کُنَّا نُفَرِّعُ فِي الْجَاھِلِیَّۃِ فَرَعًا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((فِي کُلِّ سَائِمَۃٍ فَرَعٌ تَغْذُوہُ مَاشِیَتُکَ، حَتّٰی إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَہُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِہِ۔)) قَالَ خَالِدٌ: أُرَاہُ قَالَ: ((عَلَی ابْنِ السَّبِیْلِ فَإِنَّ ذٰلِکَ ھُوَ خَیْرٌ۔)) (الحدیث) وَ فِيْ آخِرِہِ قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلابَۃ: کَمِ السائِمَۃُ قَالَ: مِائَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نبیشہ ہذلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم زمانۂ جاہلیت میں ماہِ رجب میں عتیرہ ذبح کرتے تھے، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کیا کرو، کوئی بھی مہینہ ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے نیکی کرو اور لوگوں کو کھلاؤ ۔‘‘ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے ، اب آپ ہمیں اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر چرنے والے جانوروں میں فرع ہے ، جس کو تیرے جانور دودھ پلاتے رہیں ، یہاں تک کے وہ سواری کے قابل ہو جائے تو تو اس کو ذبح کر دے اور مسافر پر اس کے گوشت کا صدقہ کر دے ، کیونکہ یہ بہتر ہے ۔‘‘ .. الحدیث ۔ خالد راوی نے کہا : میں نے ابو قلابہ سے کہا : وہ چرنے والے جانور کتنے ہوتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ایک سو ۔