Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 784

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

4476

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4476

Sahih

۔ (۴۴۷۶) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی جَمْعًا فَصَلّٰی بِہِمُ الصَّلَاتَیْنِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ، ثُمَّ بَاتَ حَتّٰی أَصْبَحَ، ثُمَّ أَتٰی قُزَحَ فَوَقَفَ عَلٰی قُزَحَ، فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ وَجَمْعٌ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) ثُمَّ سَارَ حَتَّی أَتٰی مُحَسِّرًا، فَوَقَفَ عَلَیْہِ فَقَرَعَ نَاقَتَہُ، فَخَبَّتْ حَتّٰی جَاوَزَ الْوَادِیَ، ثُمَّ حَبَسَہَا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ وَسَارَ حَتّٰی أَتٰی الْجَمْرَۃَ فَرَمَاھَا ثُمَّ أَتَی الْمَنْحَرَ فَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَنْحَرُ وَمِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ،…۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۵۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے، آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں،پھر وہیں رات گزاری،یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قزح پر گئے اور وہاں وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تا ہم سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادیٔ محسر تک آئے، وہاں آکر رک گئے اور پھر اپنی اونٹنی کو ہانکا، وہ دوڑ پڑی اور دوڑتی گئی،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وادی کو عبور کرگئے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹنی کو روک کر سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا اور چلتے چلتے جمرہ عقبہ پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی رمی کی اور اس کے بعد قربان گاہ میں تشریف لے گئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے (جہاں میں نے قربانیاں کی ہیں) اور منی سارے کا سارا ہی قربانی کی جگہ ہے، …۔

4477

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4477

Sahih

۔ (۴۴۷۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَخْبَرَنِیَ الْفََضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَۃَ، قَالَ: فَرَاٰی النَّاسَ یُوْضِعُوْنَ، فَأَمَرَ مُنَادِیَہُ فَنَادٰی: لَیْسَ الْبِرُّ بِإِیْضَاعِ الْخَیْلِ وَالإِبِلِ فَعَلَیْکُمْ بِالسَّکِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ عرفہ سے واپسی پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑا رہے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا: گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانا نیکی نہیں ہے، تم آرام آرام سے چلو۔

4478

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4478

Sahih

۔ (۴۴۷۸) عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: إِنَّمَا کَانَ بَدْئُ الْإِیْضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ، کَانُوْا یَقِفُوْنَ حَافَتَیِ النَّاسِ حَتّٰییُعَلِّقُوْا الْعِصِیَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ، فَإِذَا نَفَرُوْا تَقَعْقَعَتْ تِلْکَ، فَنَفَرُوْا بِالنَّاسِ، قَالَ: وَلَقَدْ رُؤِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّ ذِفْرَیْ نَاقَتِہِ لَیَمَسُّ حَارِکَہَا وَھُوَ یَقُوْلُ بِیَدِہِ: ((یَا أَیُّہَاالنَّاسُ! عَلَیْکُمْ بِالسَّکِیْنَۃِ،یَا أَیُّہَا النَّاسُ! عَلَیْکُمْ بِالسَّکِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سواریوں کو تیز دوڑانے کی ابتدا دیہاتی لوگوں نے کی تھی، وہ دوسرے لوگوں کی گزرگاہ کے دونوں طرف کھڑے ہو جاتے اور انھوں نے اپنی سواریوں کے ساتھ لاٹھیاں، ترکش اور بڑے پیالے لٹکائے ہوتے، پھر جب وہ چلتے تو ان اشیاء سے آوازیں پیداہوتیں اور جانور ان آوازوں کو سن کر تیز دوڑنا شروع کر دیتے۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس موقع پر یوں دیکھا گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی اونٹنی کو روکنے کے لئے اس کی مہار کو اپنی طرف کھینچے ہوئے تھے اور اونٹنی کے کان اس کے کندھے کی ہڈی کو لگ رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جاتے تھے: لوگو! آرام سے چلو، لوگو! سکینت کو لازم پکڑو۔

4479

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4479

Sahih

۔ (۴۴۷۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَائَ کُلُّ شَیْئٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ۔ (مسند احمد: ۳۰۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں وقوف کیا، جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیزروشن ہوگئی،تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے چل پڑے۔

4480

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4480

Sahih

۔ (۴۴۸۰) عَنْ عَمْرِوْبْنِ مَیْمُوْنٍ قَالَ: صَلّٰی بِنَا عُمَرُ بِجَمْعٍ الصُّبْحَ، ثُمَّ وَقَفَ وَقَالَ: إِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ کَانُوْا لَا یُفِیْضُوْنَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَالَفَہُمْ، ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عمروبن میمون کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں نمازِ فجر پڑھائی اور اس کے بعدانہوں نے وقوف کیااور کہا: مشرکین طلوع آفتاب سے قبل یہاں سے روانہ نہیں ہوتے تھے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی مخالفت کی، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ طلوع سے قبل ہی وہاں سے چل پڑے۔

4481

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4481

Sahih

۔ (۴۴۸۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ کَانُوْا لَا یُفِیْضُوْنَ مِنْ جَمْعٍ حَتّٰی تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلٰی ثَبِیْرٍ۔ قَالَ عَبْدُ الرَّزَاقِ: وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ: أَشْرِقْ ثَبِیْر، کَیْمَا نُغِیْرْ،یَعْنِیفَخَالَفَہُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مشرکین اس وقت تک مزدلفہ سے روانہ نہیں ہوتے تھے، جب تک سورج ثبیر پہاڑ سے طلوع نہ ہوجاتا تھا۔ عبدالرزاق نے کہا کہ وہ کہا کرتے تھے: اے ثبیر! سورج کو طلوع کر کے زمین کو روشنی کر تاکہ ہم منیٰ میں جاکر قربانیاں کریں، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو گئے۔

4482

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4482

Sahih

۔ (۴۴۸۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّ عَبْدَ ا للّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَبّٰی حِیْنَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِیْلَ: أَعْرَابِیٌّ ھٰذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: أَنَسِیَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوْا؟ سَمِعْتُ الَّذِیْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقْرَۃِیَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ: ((لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ۔)) (مسند احمد: ۳۵۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو تلبیہ پکارا، لیکن ان کے بارے میں یہ کہا گیا: کیایہ بدّو ہے (کہ اب تلبیہ کہہ رہا ہے)؟ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہوگئے ہیں ؟ جس ہستی پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی ‘میں نے اس کو اس مقام پر لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ کہتے ہوئے سنا تھا۔

4483

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4483

Sahih

۔ (۴۴۸۳) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ جَمْعٍ إِلٰی مِنًی فَبَیْنَا ھُوَ یَسِیْرُ إِذْ عَرَضَ لَہُ أَعْرَابِیٌ مُرْدِفًا ابْنَۃً لَہُ جَمِیْلَۃً، وَکَانَ یُسَایِرُہُ، قَالَ: فَکُنْتُ أَنْظُرُ إِلَیْہَا فَنَظَرَ إِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَلَبَ وَجْھِیْ عَنْ وَجْہِہَا، ثُمَّ أَعَدْتُّ النَّظَرَ فَقَلَبَ وَجْھِیْ عَنْ وَجْہِہَا، حَتّٰی فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثًا وَأَنَا لَا أَنْتَہِی، فَلَمْ یَزَلْیُلَبِّی حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مزدلفہ سے منٰی کی طرف واپسی کے وقت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سواری پر سوارتھا ‘ اسی دوران ایک اعرابی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا، اس نے سواری پراپنے ساتھ اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو سوارکیا ہوا تھا اور وہ دوران سفر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا، میں بار بار اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا، لیکن جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا، میں نے پھر اس کی طرف دیکھا تو آپ نے پھر میرا چہرہ دوسری طرف کردیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح کیا، جبکہ میں باز نہ آ رہا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔