Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 749

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان

7 hadiths in this chapter

4288

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4288

Sahih

۔ (۴۲۸۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَۃَ الْأَسَدِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَہْدٰی إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّہُ، وَقَالَ: ((إِنَّا مُحْرِمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدناصعب بن جثامہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وحشی گدھے کی ایک ٹانگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا: ہم احرام کی حالت میں ہیں۔

4289

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4289

Sahih

۔ (۴۲۸۹) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا بِالْأَبْوَائِ، أَوْ بِوَدَّانَ فَأَہْدَیْتُ لَہٗمِنْلَحْمِحِمَارٍوَحْشٍوَہُوَمُحْرِمٌفَرَدَّہٗعَلَیَّ، فَلَمَّا رَأیٰ فِیْ وَجْہِیَ الْکَرَاہَۃَ، قَالَ: ((أِنَّہٗلَیْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَیْکَ وَلٰکِنَّا حُرُمٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا صعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابواء یا ودان کی وادی میں تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وہاں سے گزر ہوا، میں نے جگلی گدھے کا گوشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ واپس کر دیا،لیکن جب میرے چہرے پر افسردگی کے آثار دیکھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم نے یہ گوشت واپس نہیں کرنا تھا، بات یہ ہے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔

4290

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4290

Sahih

۔ (۴۲۹۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ اللَّیْثِیِّ أَنَّہٗأَہْدٰی إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ بِالْأَبْوَائِ أَوْ بِوَدَّانَ حِمَارًا وَحْشِیًّا فَرَدَّہٗعَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا صعب بن جثامہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابواء یا ودان میں جنگلی گدھے کا گوشت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا ، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ردّ کر دیا، …۔

4291

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4291

Sahih

۔ (۴۲۹۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ) فَأَہْدَیْتُ لَہٗحِمَارَوَحْشٍفَرَدَّہٗعَلَیَّ، اَلْحَدِیْثَ، وَفِیْ آخِرِہٖقُلْتُلِابْنِشِہَابٍ: اَلْحِمَارُعَقِیْرٌ؟ قَالَ: لَا أَدْرِیْ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) یہ حدیث ایسے ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے جنگلی گدھے کا گوشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا، لیکن آپ۱ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ واپس کر دیا،۔اس کے آخر میں ہے: میں (ابن جریج) نے ابن شہاب سے کہا: کیایہ جنگلی گدھا شکاری کے تیر کی وجہ سے مرا ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: معلوم نہیں۔

4292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4292

Sahih

۔ (۴۲۹۲) عَنْ طَاؤُوْسٍ قَالَ: قَدِمَ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَسْتَذْکِرُہُ: کَیْفَ أَخْبَرْتَنِی عَنْ لَحْمٍ أُھْدِیَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ حَرَامٌ، قَالَ: نَعَمْ أَہْدٰی رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَیْدٍ، فَرَدَّہُ وَقَالَ: إِنَّا لَا نَأْکُلُہُ، أِنَّا حُرُمٌ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ طاؤس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا: آپ نے مجھے کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم محرم تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، ایک آدمی نے شکار کے گوشت کا ایک عضو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا تھا: ہم یہ نہیں کھائیں گے، کیونکہ ہم محرم ہیں۔

4293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4293

Sahih

۔ (۴۲۹۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أُہْدِیَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَشِیْقَۃُ ظَبْیٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّہَا، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلَمْ یَأْکُلْہُ) قَالَ سُفْیَانُ: الْوَشِیْقَۃُ مَا طُبِخَ وَقُدِّدَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ہرن کا کم ابلا ہوا گوشت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ واپس کر دیا اور نہیں کھایا۔ سفیان نے کہا: وَشِیْقَہ وہ ہوتا ہے، جس کو پکایا جائے اور پارچے بنا کر خشک کر لیا جائے۔

4294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4294

Sahih

۔ (۴۲۹۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْہَاشِمِیُّ قَالَ: کَانَ أَبِی الْحَارِثُ عَلٰی أَمْرٍ مِنْ أَمْرِ مَکَّۃَ فِیْ زَمَنِ عَثُمْانَ فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی مَکَّۃَ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ: فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَیْدٍ فَاصْطَادَ أَہْلُ الْمَائِ حَجَلًا، فَطَبَخْنَاہُ بِمَائٍ وَمِلْحٍ، فَجَعَلْنَاہُ عُرَاقًا لِلثَّرِیْدِ، فَقَدَّ مْنَاہُ إِلٰی عُثْمَانَ وَأَصْحَابِہِ فَأَمْسَکُوْا، فَقَالَ عُثْمَانُ: صَیْدٌ لَمْ أَصْطَدْہُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَیْدِہِ، اصْطَادَہُ قَوْمٌ حِلٌّ، فَأَطْعَمُوْنَا فَمَا بَأْسٌ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ یَقُوْلُ فِیْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: عَلِیٌّ، فَبَعَثَ إِلٰی عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَجَائَ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ: فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی عَلِیٍّ حِیْنَ جَائَ وَہُوَ یَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ کَفَّیْہِ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ: صَیْدٌلَمْ نَصْطَدْہُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَیْدِہِ، قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُوْنَا فَمَا بَأْسٌ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلِیٌّ وَقَالَ: أَنْشُدُ اللّٰہَ رَجُلًا شَہِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أُتِیَ بِقَائِمَۃِ حِمَارِ وَحْشٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِعَجُزِ حِمَارٍ وَحْشٍ وَہُوَ مُحْرِمٌ ) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوْہُ أَہْلَ الْحِلِّ۔)) قَالَ: فَشَہِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ عَلِیٌّ: أُشْہِدُ اللّٰہَ رَجُلًا شَہِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ أُتِیَ بِبَیْضِ النَّعامِ، (وَفِیْ لَفْظٍ: بِخَمْسِ بَیْضَاتِ نَعَامٍ) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ، أَطْعِمُوْہُ أَہْلَ الْحِلِّ۔)) قَالَ: فَشَہِدَ دُوْنَہُمْ مِنَ الْعِدَّۃِ مِنَ الْاِثْنَی عَشَرَ، قَالَ: فَثَنٰی عُثْمَانُ وَرِکَہُ عَنِ الطَّعَامِ فَدَخَلَ رَحْلَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: فُسْطَاطَہُ) وَأَکَلَ ذَالِکَ الطَّعَامَ أَہْلُ الْمَائِ۔ (مسند احمد: ۷۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی کا بیان ہے ، وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد میں میرے والد حارث بن نوفل مکہ کے مسئول تھے، جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ تشریف لائے تو میں عبد اللہ بن حارث نے قدید کے قریب نزل کے مقام پر ان کا استقبال کیا، وہاں کے لوگوں نے چکور پرندے کا شکار کیا ہوا تھا، ہم نے اسے پانی اور نمک میں پکایا اور ثرید کے لئے اس کا شوربا بنایا، پھر ہم نے اسے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے رفقاء کی خدمت میں پیش کیا، لیکن وہ اسے کھانے سے باز رہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم نے نہ تو یہ شکار کیاہے اور نہ اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے اور جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے یہ شکار کرکے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، اب اس میں کیا حرج ہے؟ پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس مسئلہ کے بارے میں کون بیان کرے گا؟ لوگوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، پس سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوا بھیجا، سو وہ تشریف لائے۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا اور وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، وہ اپنی ہتھیلیوں سے پتے جھاڑ رہے تھے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: نہ تو ہم نے یہ شکار کیا اور نہ ہم نے اس کو شکار کرنے کے بارے میں کوئی حکم دیا، جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے شکار کرکے اس کو ہمارے سامنے پیش کر دیا،اب اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غضبناک ہو گئے اور کہنے لگے: میں اس آدمی کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو اس واقعہ میں موجود تھا کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جنگلی گدھے کا ایک عضو پیش کیا گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم محرم تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: ہم احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ بارہ صحابہ نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس بات کی تائید کی۔ اس کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اس آدمی کو جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں شتر مرغ کے انڈے (اور ایک روایت کے مطابق) پانچ انڈے پیش کئے گئے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: ہم تو احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ اس دفعہ بارہ سے کم افراد نے گواہی دی،یہ سن کر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھانے سے اپنے سرین موڑ لیے اور اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور اس پانی والوں نے وہ کھانا کھا لیا۔