Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 739

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حج تمتع کا بیان

18 hadiths in this chapter

4198

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4198

Sahih

۔ (۴۱۹۸) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَزَلَتْ آیَۃُ الْمُتْعَۃِ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ وَعَمِلْنَا بِہا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَنْزِلْ آیَۃٌ تَنْسَخُہَا، وَلَمْ یَنْہَ عَنْہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمران بن حنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا، اب اس کے بعد تو کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو اور نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع کیا۔

4199

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4199

Sahih

۔ (۴۱۹۹) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَۃَ، الضُّبَعِیَّ قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَہَانِی نَاسٌ عَنْ ذَالِکَ فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَالِکَ فَأَمَرَنِیْ بِہَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی الْبَیْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِی آتٍ فِیْ مَنَامِی فَقَالَ عُمْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ، قَالَ: فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِیْ رَأَیْتُ فَقَالَ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، سُنَّۃُ أَبِیْ الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ فِیْ الْہَدْیِ: جَزُوْرٌ أَوْ بَقَرَۃٌ أَوْ شَاۃٌ أَوْ شِرْکٌ فِیْ دَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو جمرہ ضبعی کہتے تھے: میں نے حج تمتع کرنا چاہا لیکن لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا، پس میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے مجھے حج تمتع کرنے کا حکم دیا، سو میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں جا کر سو گیا،میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ تو عمرۂ مقبولہ اور حج مبرور ہے۔ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنا خواب بیان کیا، تو انہوں نے تعجب کرتے ہوئے بار بار کہا: اللّٰہُ أَکْبَرُ،اللّٰہُ أَکْبَرُ یہ عمل تو ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہدی کے بارے میں کہاکہ وہ ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بکری یا بھیڑ ہو سکتی ہے یا ایک جانور میں حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

4200

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4200

Zaeef

۔ (۴۲۰۰)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی مَاتَ وَأَبُوْ بَکْرٍ حَتّٰی مَاتَ، وَعُمَرُ حَتّٰی مَاتَ، وَعُثْمَانُ حَتّٰی مَاتَ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ نَہٰی عَنْہَا مُعَاوِیَۃُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَعَجِبْتُ مِنْہُ، وَقَدْ حَدَّثَنِی أَنَّہُ قَصَّرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ۔ (مسنداحمد: ۲۶۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، سیدنا ابوبکر نے، سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان نے دنیا سے رخصت ہونے تک تمتع کی اجازت دیئے رکھی۔سب سے پہلے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے منع کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے ان کے حج تمتع سے منع کرنے پر تعجب ہوا، کیونکہ انہوں نے خود مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے تیر کے چوڑے پھل کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال تراشے تھے۔

4201

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4201

Sahih

۔ (۴۲۰۱) عَنْ غُنَیْمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ الْمُتْعَۃِ قَالَ: فَعَلْنَاہَا وَہٰذَا کَافِرٌ بِالْعُرُشِ، یَعْنِی مُعَاوِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ غنیم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے (رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ) اُس وقت تمتع کیا تھا، جب یہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

4202

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4202

Sahih

۔ (۴۲۰۲) عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَاصٍ وَالضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَامَ حَجَّ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ، وَہُمَا یَذْکُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِِّ فَقَالَ الضَّحَّاکُ: لاَیَصْنَعُ ذٰلِکَ إِلَّا مَنْ جَہِلَ أَمْرَ اللّٰہُ، فَقَالَ سَعْدٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أَخِی، فَقَالَ الضَّحَّاکُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدَ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ قَدْ صَنَعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعْنَاہَا مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ محمد بن عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس سال سنا، جس سال سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج کیا تھا، یہ دونوں حج تمتع کا ذکر کر رہے تھے، ضحاک نے کہا: وہی آدمی یہ حج کرے گا، جو اللہ تعالی کے حکم سے جاہل ہو گا۔یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بھتیجے! تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، آگے سے سیدنا ضحاک نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اس سے منع کیا ہے، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباًکہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور ہم نے آپ کی معیت میں حج تمتع کیا۔

4203

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4203

Sahih

۔ (۴۲۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ مُتْعَتَانِ کَانَتَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَہَانَا عَنْہُمَا عُمَرُ فَانْتَہْیَنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۸۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔

4204

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4204

Sahih

۔ (۴۲۰۴) عَنْ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ أَبِی مُوْسَی عَنْ أَبِی مُوْسَی (الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّہُ کَانَ یُفْتِی بِالْمُتْعَۃِ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: رُوَیْدَکَ بِبَعْضِ فُتْیَاکَ، فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِیْ مَا أَحْدَثَ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی النُّسُکِ بَعْدَکَ حَتّٰی لَقِیَہُ بَعْدُ فَسَأَلَہُ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ فَعَلَہُ وَأَصْحَابَہُ, وَلٰکِنِّی کَرِہْتُ أَنْ یَظَلُّوا بِہِنَّ مُعْرِسِیْنَ فِی الْأَرَاکِ ثُمَّ یَرُوْحُوْ بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رَؤُوْسُہُمْ۔ (مسند احمد: ۳۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے، ایک آدمی نے ان سے کہا: ذرا اپنے بعض فتووں سے رک جاؤ،کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد امیر المومنین نے مناسک ِ حج کے بارے میں کیا حکم جاری کیا ہے۔ بعد میں سیدناابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور صحابہ کرام نے حج تمتع کیا ہے، مگر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ یہ لوگ رات کو اَرَاک درختوں کے نیچے اپنی بیویوں کے ساتھ ہم بستری کریں اور پھر جب حج کے لئے روانہ ہوں تو ان کے سروں سے غسل کے پانی کے قطرے گر رہے ہوں۔

4205

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4205

Sahih

۔ (۴۲۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوْسیٰ (الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: ہِیَ سُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِی الْمُتْعَۃَ، وَلٰکِنِّی أَخْشٰی أَنْ یُعْرِسُوْا بِہِنَّ تَحْتَ الْأَرَاکِ ثُمَّ یَرُوْحُوْا بِہِنَّ حُجَّاجًا۔ (مسند احمد: ۳۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: حج تمتع رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے، مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اَرَاک کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے اور پھر حج کا احرام باندھ کر چل پڑیں گے۔

4206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4206

Zaeef

۔ (۴۲۰۶) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یُفْتِی بِالَّذِیْ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَۃِ بِالتَّمَتُّعِ، وَسَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ، فَیَقُوْلُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: کَیْفَ تُخَالِفُ أَبَاکَ وَقَدْ نَہٰی عَنْ ذٰلِکَ؟ فَیَقُوْلُ لَہُمْ عَبْدُ اللّٰہِ: وَیْلَکُمْ! أَلَا تَتَّقُوْنَ اللّٰہَ، إِنْ کَانَ عُمَرُ نَہٰی عَنْ ذَالِکَ فَیَبْتَغِیْ فِیْہِ الْخَیْرَیَلْتَمِسُ بِہِ تَمَامَ الْعُمْرَۃِ، فَلِمَ تُحَرِّمُوْنَ ذٰلِکَ وَقَدْ أَحَلَّہُ اللّٰہُ وَعَمِلَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَفَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوْا أَمْ سُنَّۃُ عُمَرَ؟ إِنَّ عُمَرَ لَمْ یَقُلْ لَکُمْ إِنَّ الْعُمْرَۃَ فِیْ أَشْہُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلٰکِنَّہُ قَالَ: اِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَۃِ أَنْ تُفْرِدُوْہَا مِنْ أَشْہُرِ الْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۵۷۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سالم بن عبد اللہ بن عمرسے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قرآن مجید اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کے مطابق حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ جب لوگ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہتے کہ آپ کے والد تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، تو پھر آپ ان کے حکم کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو وہ ان کو یوں جواب دیتے تھے: تم پر افسوس ہے، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟اگر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے منع کیاہے تو ان کا ارادہ بھی خیر کاہی ہو گا کہ تم مستقل طور پر عمرہ کرو، اب تم اسے حرام کیوں سمجھتے ہو؟ جبکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتباع کے زیادہ حق دار ہیں یا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا فعل؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تم سے یہ تو نہیں کہا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا حرام ہے، ان کا کہنا تو یہ تھا کہ مکمل عمرہ یہ ہے کہ تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ مستقل طور پر ادا کرو۔

4207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4207

Sahih

۔ (۴۲۰۷) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَنْہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَأْمُرُ بِہَا، قَالَ: فَقَالَ لِی: عَلٰییَدِیْ جَرَی الْحَدِیْثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ ہُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ الرَّسُوْلُ، وَإِنَّہُمَا کَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدَاہُمَا مُتْعَۃُ الْحَجِّ وَالْأُخْرٰی مُتْعَۃُ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۳۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔

4208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4208

Sahih

۔ (۴۲۰۸) عَنْ یُوْنُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَرَادَ أَنْ یَنْہٰی عَنْ مُتْعَۃِ الْحَجِّ فَقَالَ لَہُ أُبَیُّ (بْنُ کَعْبٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَیْسَ ذٰلِکَ لَکَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَنْہَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَالِکَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَأَرَادَ أَنْ یَنْہٰی عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَۃِ، لِأَنَّہَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَہُ أُبَیٌّ: لَیْسَ ذَالِکَ لَکَ، قَدْ لَبِسَہُنَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَبِسْنَاہُنَّ فِیْ عَہْدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی یہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔

4209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4209

Sahih

۔ (۴۲۰۹) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: اِجْتَمَعَ عَلِیٌّ وَعُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بِعُسْفَانَ فَکَانَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَنْہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ وَالْعُمْرَۃِ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تُرِیْدُ إِلٰی أَمْرٍ فَعَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَنْہٰی عَنْہَا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: دَعْنَا مِنْکَ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وادیٔ عسفان میں اکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع اور عمرہ سے منع کرتے تھے، لیکن سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ اس عمل سے روکنا چاہتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کیا تھا، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: آپ اپنی باتوں سے ہمیں معاف ہی رکھیں۔

4210

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4210

Sahih

۔ (۴۲۱۰) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: إِنَّا لَبِمَکَّۃَ إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَنَھٰی عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ وَأَنْکَرَ أَنْ یَکُوْنَ النَّاسُ صَنَعُوْا ذٰلِکَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَلَغَ ذَالِکَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقَالَ: وَمَا عَلِمَ ابْنُ الزُّبَیْرِ بِہٰذَا؟ فَلْیَرْجِعْ إِلٰی أُمِّہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَلْیَسْأَلْہَا فَإِنْ لَمْ یَکُنِ الزُّبَیْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَیْہَا حَلَالًا، وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَالِکَ أَسْمَائَ فَقَالَتْ: یَغْفِرُ اللّٰہِ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ أَفْحَشَ، قَدْ وَاللّٰہِ! صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوْا النِّسَائَ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ اسحاق بن یسار کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور حج تمتع کرنے سے منع کیا اور انہوں نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایسا حج کیا ہو، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کا کیا علم؟ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے جا کر پوچھ لے، اگر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے احرام نہ کھولا ہو اور ان کی ماں نے کھول دیا ہو۔ جب یہ بات سیدہ اسماء نے سنی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو معاف فرمائے، انھوں نے نامناسب بات کی ہے، بہرحال اللہ کی قسم ہے کہ انھوں نے سچی بات کی ہے، لوگوں نے واقعی احرام کھول دیئے تھے اور ہم نے بھی احرام کھول دیتے تھے اور لوگوں نے اپنی بیویوں سے ہم بستری بھی کی تھی۔

4211

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4211

Sahih

۔ (۴۲۱۱)عَنْ مُسْلِمِ نِ الْقُرِّیِّ قَالَ: سَـأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَۃِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِیْہَا وَکَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِیَنْہٰی عَنْہَا، فَقَالَ: ہٰذِہِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَیْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَخَّصَ فِیْہَا فَادْخُلُوْا عَلَیْہَا فَاسْأَلُوْہَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَیْہَا فَإِذَا أَمْرَأَۃٌ ضَخْمَۃٌ عَمْیَائُ فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۴۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مسلم قری کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے حج تمتع کی بابت پوچھا، انہوں نے اس میں رخصت دے دی، لیکن سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے منع کر دیا،یہ دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی اجازت دی ہے، تم جا کر ان سے پوچھ لو۔ مسلم قری کہتے ہیں: چنانچہ ہم ان کے ہاں گئے، وہ ایک بھاری بھر کم خاتون تھیں اور نابینا ہو چکی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واقعی اس کی اجازت دی ہے۔

4212

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4212

Zaeef

۔ (۴۲۱۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَرِیْکٍ العَامِرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَاللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ سُئِلُوْا عَنِ الْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ فِی الْمُتْعَۃِ، فَقَالُوْا: نَعَمْ سُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقَدَّمُ فَتَطُوْفُ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ تَحِلُّ، وَإِنْ کَانَ ذَالِکَ قَبْلَ یَوْمِ عَرَفَۃَ بِیَوْمٍ، ثُمَّ تُہِلُّ بِالْحَجِّ فَتَکُوْنُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَۃً وَحَجَّۃً أَوْ جَمَعَ اللّٰہُ لَکَ عُمْرَۃً وَحَجَّۃً۔ (مسند احمد: ۶۲۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن شریک عامری کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر سے حج سے قبل عمرہ کر لینے کے متعلق پوچھا گیا تو ان سب نے کہا: جی ہاں، یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے، جب تو مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ کا طواف اور صفاو مروہ کی سعی کرکے حلال ہو جا (اس طرح یہ عمرہ ہو جائے گا)، خواہ یہ عمل عرفہ سے ایک دن پہلے ہو، اس کے بعد تم حج کا احرام باندھ لو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں حج اور عمرہ دونوں کو ادا کرنے کا موقع دے دے گا۔

4213

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4213

Sahih

۔ (۴۲۱۳)عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِیْنَ، فَقَالَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُتِمَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلْیَقُمْ عَلٰی إِحْرَامِہِ) وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ۔)) قَالَتْ: فَلَمْ یَکُنْ مَعِی ہَدْیٌ فَحَلَلْتُ وَکَانَ مَعَ الزُّبَیْرِ زَوْجِہَا ہَدْیٌ فَلَمْ یَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِیَابِیْ وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلٰی الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: قُوْمِی عَنِّی، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشٰی أَنْ أَثِبَ عَلَیْکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے ،وہ احرام کی حالت میں رہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئی یعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟

4214

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4214

Sahih

۔ (۴۲۱۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَبْدَأَ مِنْکُمْ بِعُمْرَۃٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْیَفْعَلْ۔)) وَأَفْرَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحَجَّ وَلَمْ یَعْتَمِرْ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم میں سے جو کوئی حج سے قبل عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ کر سکتا ہے، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج افراد کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ نہیں کیا تھا۔

4215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4215

Sahih

۔ (۴۲۱۵) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَأَہْلَلْنَا بِعُمْرَۃٍِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُہِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَۃِ ثُمَّ لَا یَحِلُّ حَتّٰییَحِلَّ مِنْہُمَا جَمِیْعًا۔)) قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَکَّۃَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَیْتِ وَلَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَشَکُوْتُ ذَالِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُنْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ وَدَعِیْ الْعُمْرَۃَ۔)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَیْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ اِلَی التَّنْعِمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: ((ہٰذِہِ مَکَانُ عُمْرَتِکِ۔)) قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِیْنَ أَہَلُّوْا بِالْعُمْرَۃِ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَحَلُّوْا، ثُمَّ طَافُوْا طَوْافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوْا مِنْ مِنًی لِحَجِّہِمْ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ جَمَعُوْا الْحَجَّ فَطَافُوْا طَوَافًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آؤں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔