Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 71 · Chapter 720

عمرہ کے ابواب

حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان

9 hadiths in this chapter

4099

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4099

Sahih

۔ (۴۰۹۹)عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ الْعُمْرَۃِ قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لاَ بَأْسَ عَلٰی أَحَدٍ یَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ قَالَ عِکْرِمَۃُ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اِعْتَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ۔ (مسند احمد: ۵۰۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قبل از حج عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: حج سے پہلے عمرہ کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔

4100

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4100

Sahih

۔ (۴۱۰۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، نُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ مِنْہَا، فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ، أَفَنَعْتَمِرُ مِنْہَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا یَمْنَعُکُمْ مِنْ ذٰلِکَ؟ فَقَدِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُمَرَہُ کُلَّہَا قَبْلَ حَجَّتِہِ وَاعْتَمَرْنَا۔ (مسند احمد: ۶۴۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عکرمہ کہتے ہیں: میں اہل مکہ کے چند افراد کے ہمراہ مدینہ منورہ آیا، دراصل ہم وہاں سے عمرہ کے لئے جانا چاہتے تھے، میری ملاقات سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہو گئی، میں نے ان سے پوچھا: ہم مکہ کے رہنے والے لوگ ہیں، اب ہم مدینہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے کبھی بھی حج نہیں کیا، تو کیا اب ہم یہاں سے عمرہ کر سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بھلا کون سی چیز تمہیں اس سے مانع ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو اپنے سارے عمرے حج سے پہلے کئے تھے اور ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہ عمرے کیے تھے۔

4101

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4101

Sahih

۔ (۴۱۰۱) عَنْ أَبِیْ عِمْرَانَ اَسْلَمَ، أَنَّہُ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِیَّ فَدَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ؟ قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ، اِعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ: مَنْ کَانَ صَرُوْرَۃً فَلَا یَصْلُحُ أَنْ یَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، قَالَ: فَسَأَلْتُ أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ:، فَرَجَعْتُ إِلَیْہَا فَأَخْبَرْتُہَا بِقَوْلِہِنَّ، قَالَ: فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفِیْکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَہِلُّوا یَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَۃٍ فِیْ حَجٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عمران اسلم کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کی معیت میں حج کے لئے گیا، میں سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: کیا میں حج سے قبل عمرہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی تمہاری مرضی ہے، اگر چاہو تو حج سے پہلے عمرہ کر لو اور چاہو تو بعد میں کر لو۔ میں نے کہا کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے پہلے حج نہ کیا ہو وہ عمرہ نہیں کر سکتا۔ پھر میں نے دیگر امہات المومنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو ان سب نے وہی بات کہی جو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہی تھی، میں نے واپس آ کر ان کو یہ بات بتائی، پھر انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن میں تمہاری مزید تشفی کر دیتی ہوں اور وہ اس طرح کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرے کا تلبیہ بھی کہو۔

4102

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4102

Sahih

۔ (۴۱۰۲)عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ یَحُجَّ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَقَدْ عَلِمَ أَنَّہُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِہِ الَّتِیْ حَجَّ فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک عمرہ حج سے پہلے کیا اور ایک اور عمرہ حج سے پہلے کیا، لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: وہ جانتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور ان میں سے ایک عمرہ، حج کے ساتھ کیا تھا۔

4103

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4103

Sahih

۔ (۴۱۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنَّہَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ، فَلَمَّا طَہُرَتْ طَافَتْ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَنْطَلِقُوْنَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِیْ بَکْرٍ أَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیْمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِیْ ذِیْ الْحِجَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا (حج کے موقع پر) حائضہ ہو گئیں، لیکن انھوں نے بیت اللہ کے طواف کے علاوہ سارے مناسکِ حج ادا کیے، پھر انھوں نے پاک ہونے کے بعد طواف کر لیا، جب لوگ واپس جانے لگے تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ تو حج اور عمرہ ادا کرکے جا رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس جاؤں؟ چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم کی طرف جائیں، (تاکہ یہ عمرہ کر سکیں)، پھر انھوں نے ذوالحجہ میں ہی حج کے بعد عمرہ کیا تھا۔

4104

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4104

Sahih

۔ (۴۱۰۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا أَہَلَّتْ بِعُمْرَۃٍ، فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ حَتّٰی حَاضَتْ، فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا وَقَدْ أَہَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَالنَّحْرِ: ((یَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَلِعُمْرَتِکِ۔)) فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِہَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِلَی التَّنْعِیْمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، لیکن جب وہ مکہ پہنچیں تو ابھی تک انہوں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہو گئیں، پھر انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور تمام مناسک ادا کئے، دس ذوالحجہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تمہارا طواف تمہارے حج اور عمرے دونوں کے لیے کافی ہو گا۔ لیکن انھوں نے اس چیز کو تسلیم نہ کیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حج کے بعد ان کے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم بھیجا، اس طرح انھوں نے عمرہ کیا۔

4105

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4105

Sahih

۔ (۴۱۰۵)عَنْ عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْبَجَلِیِّ السَّلَمِیِّ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ الْعُمْرَۃِ بَعْدَ الْحَجِّ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعِیَ أَخِی فَخَرَجْتُ مِنَ الْحَرَمِ فَاعْتَمَرْتُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عیسیٰ بن عبد الرحمن کی ماں بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے حج کے بعد عمرہ کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے یوں جواب دیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ہمراہ میرے بھائی کو بھیجا تھا، میں حرم سے باہر نکل گئی تھی اور پھر وہاں سے عمرہ کیا تھا۔

4106

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4106

Sahih

۔ (۴۱۰۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَا أَعْمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَائِشَۃَ لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَہْلِ الشِّرْکِ، فَإِنَّہُمْ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَۃُ لِمَنِ اعْتَمَرْ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے بعد وادیٔ محصّب والی رات کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صرف اس لیے عمرہ کرایا تھا تا کہ مشرکین کے ایک نظریے کو ختم کر دیں، کیونکہ وہ یہ کہا کرتے تھے: جب (حج کے سفر کے بعد) اونٹوں سے سفر کی مشقت کے آثار زائل ہو جائیں، راستوں سے (حاجیوں کے قافلوں کے) نشانات مٹ جائیں اور ماہِ صفر آ جائے تو تب عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔

4107

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4107

Sahih

۔ (۴۱۰۷) عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَہَ قَالَ: قَالَ عُرْوَۃُ لِإبْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی مَتٰی تُضِلُّ النَّاسَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ذَاکَ یَا عُرْوَۃُ؟ قَالَ: تَأْمُرُنْاَ بِالْعُمْرَۃِ فِیْ أَشْہُرِ الْحَجِّ وَقَدْ نَہٰی أَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ فَعَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُرُوْۃُ: کَانَا ہُمَا أَتْبَعَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَعْلَمَ بِہِ مِنْکَ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عروہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو گمراہ کرتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا: عروہ! کیا بات ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسا کرنے سے منع کرتے تھے، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عمل تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کیا ہے۔ عروہ نے کہا: لیکن وہ دونوں آپ کی بہ نسبت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیادہ اتباع کرنے والے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے۔