Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 70 · Chapter 701

یوم عاشوراء

معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان

6 hadiths in this chapter

4000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4000

Sahih

۔ (۴۰۰۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُجَاوِرُ فِی الْمَسْجِدِ فَیُصْغِی إِلَیَّ رَاْسَہُ فَاُرَجِّلُہُ وَاَنَا حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مسجد میں اعتکاف کرتے تواپنا سر مبارک میری طرف جھکاتے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کنگھی کرتی، جبکہ میں ان دنوں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔

4001

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4001

Sahih

۔ (۴۰۰۱) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْتَکَفَ فَیُخْرِجُ إِلَیَّ رَاْسَہُ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاَغْسِلُہُ وَاَنَا حَائِضٌ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف میں ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد سے میری طرف اپنا سر مبارک نکالتے، پھر میں اس کو دھوتی، جبکہ میں حائضہ ہوتی۔

4002

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4002

Sahih

۔ (۴۰۰۲) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعْتَکِفًا وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃِ الإِنْسَانِ، قُلْتُ: فََغَسلْتُ رَاْسَہُ وَإِنَّ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ عَتَبَۃَ الْبَابِ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انسانی ضرورت کے علاوہ گھر میں نہیں آتے تھے، اور جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک دھوتی تو میرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان دروازے کی دہلیز ہوتی تھی۔

4003

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4003

Sahih

۔ (۴۰۰۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ:) اَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: وَإِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَاْسَہُ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ فَاُرَجِّلُہُ وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃِ الإِنْسَانِ إِلَّا إِذَا اَرَادَ الْوُضُوئَ وَہُوَ مُعْتَکِفٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف اپنا سر کرتے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کنگھی کرتی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ہوتے اور انسانی ضرورت (یعنی بول و براز)کے علاوہ گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے، الّا یہ کہ وضو کرنے کا ارادہ ہوتا تو آ جاتے۔

4004

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4004

Sahih

۔ (۴۰۰۴) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزَّبِیْرِ وَعَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: وَإِنْ کُنْتُ لَاَدْخُلُ الْبَیْتَ لِلْحَاجَۃِ، وَالْمَرِیْضُ فِیْہِ فَمَا اَسْاَلُ عَنْہُ إِلَّا وَاَنَا مَارَّۃٌ، وَإِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُدْخِلُ عَلَیَّ رَاْسَہُ فَاُرَجِّلُہُ، وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلَّا لِحَاجَۃٍ قَالَ: یُوْنُسُ، إِذَا کَانَ مُعْتَکِفًا۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب میں اعتکاف کے دوران بوجۂ ضرورت گھر جاتی اور وہاں کوئی مریض ہوتا تو میں چلتے چلتے ہی اس کا حال دریافت کر لیتی، اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر میری طرف کرتے اور میں کنگھی کر دیا کرتی اور ایسی حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف انسانی ضرورت کی خاطر گھر تشریف لاتے تھے۔

4005

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4005

Sahih

۔ (۴۰۰۵) عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتْعَکِفًا فَاَتَیْتُہُ اَزُوْرُہُ لَیْلًا فَحَدَّثْتُہُ ثُمَّ قُمْتُ فَاَنْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِیَیَقْلِبُنِیْ وَکَانَ مَسْکَنُہاَ فِی دَارِ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَلَمَّا رَاَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکُمَا، إِنَّہَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ۔)) فَقَالَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّیْطَانَ بَجْرِی مِنْ الإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَإِنِّی خَشِیْتُ اَنْ یَقْذِفَ فِی قُلُوْبکِمُاَ شَرَّا، اَوْ، قَالَ: شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف میں تھے، میں رات کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ملاقات کے لیے آئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کیں، پھر جب میں اٹھ کر واپس جانے لگی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے واپس پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے،ان کی رہائش گاہ اس مقام میں تھی، جو بعد میں سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گھر بن گیا تھا، اتنے میں دو انصاری آدمیوں کا وہاں سے گزر ہوا، جب انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی سے گزرنے لگے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ (اور پہلے والی چال ہی چلو)،یہ خاتون میری اہلیہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہے۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، (بڑا تعجب ہے) اے اللہ کے رسول! (اس وضاحت کی کیا ضرورت ہے؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے، اس لیے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی برا خیال ڈال دے۔