Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 70 · Chapter 695

یوم عاشوراء

سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان

4 hadiths in this chapter

3969

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3969

Sahih

۔ (۳۹۶۹) عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ الْاَیَّامَیَسْرُدُ، حَتّٰییُقَالَ: لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ الْاَیَّامَ حَتّٰی لَا یَکَادَ اَنْ یَصُوْمَ إِلَّا یَوْمَیْنِ مِنَ الْجُمُعَۃِ إِنْ کَانَا فِی صِیَامِہِ، وَإلِاَّ صَامَہُمَا، وَلَمْ یَکُنْیَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا یَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ تَصُوْمُ لَا تَکَادُ اَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرُ حَتّٰی لَاتکَادَ اََنْ تَصُوْمَ إِلَّا یَوْمَیْنِ ، إِنْ دَخَلَا فِی صِیَامِکَ وَإلاَّ صُمْتَہُمَا، قَالَ: ((اَیُّیَوْمَیْنِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، قَالَ: ((ذَانِکَ یَوْمَانِ تُعْرَضُ فِیْہِمَا الْاَعْمَالُ عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَاُحِبُّ اَنْ یُعْرَضَ عَمَلِی وَاَنَا صَائِمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَلَمْ اَرَکَ تَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ مِنْ الشُّہُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ((ذَاکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَہُوَ شَہْرٌ یُرْفَعُ فِیْہِ الْاَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ فَاُحِبُّ اَنْ یُرْفَعَ عَمَلِی وَاَنَا صَائِمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت اور تسلسل کے ساتھ اس قدر روزے رکھتے کہ کہا جاتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی روزے کا ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناغے شروع کرتے تو اس قدر کثرت سے کرتے کہ ایسے لگتا کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے ہفتہ کے دو دنوں کے کہ اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسلسل روزوں میں ان کے روزے رکھ چکے ہوتے تو ٹھیک، وگرنہ افطاری والے دنوں میں ان کا روزہ رکھ لیتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان کے زیادہ روزے رکھتے تھے۔ ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات آپ اس انداز میں لگاتار روزے شروع کر دیتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ ناغہ نہیں کریں گے، لیکن پھر آپ یوں روزے ترک کرنا شروع کر تے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے، ما سوائے دو دنوں کے کہ اگر وہ آپ کے روزے میں داخل ہو چکے ہوں تو ٹھیک، وگرنہ صرف ان کے روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: کونسے دو دن؟ میں نے کہا: سوموار اور جمعرات کے دن، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دنوں میں لوگوں کے اعمال جہاں کے پروردگار کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں روزہ کی حالت میں ہوں۔ میں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باقی مہینوں کی بہ نسبت شعبان میں زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے درمیان آتا ہے، لوگ اس سے غافل ہیں، حالانکہ اس میں لوگوں کے اعمال ربّ العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے اس حال میں پیش کیے جائیں کہ میں اس وقت روزے کی حالت میں ہوں۔

3970

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3970

Zaeef

۔ (۳۹۷۰) عَنْ مَوْلٰی اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّہُ انْطَلَقَ مَعَ اُسَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی وَادِی الْقُرٰی،یَطْلُبُ مَالاً لَہُ وَکَانَ یَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، فَقَالَ لَہٗمَوْلَاہُ: لِمَتَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، وَاَنْتَ شَیْخٌ کَبِیْرٌ، قَدْ رَقَقْتَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُیَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ، فَسُئِلَ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: ((إِنَّ اَعْمَالَ النَّاسِ تُعْرَضُ یَوْمَ الإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ ))۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے اسامہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ وادیٔ قریٰ کی طرف اپنے مال کی تلاش کے لیے جا رہے تھے، وہ سوموار اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ غلام نے ان سے کہا: آپ سوموار اور جمعرات کے روزے کیوں رکھتے ہیں، جبکہ اب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں۔

3971

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3971

Sahih

۔ (۳۹۷۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اَکْثَرَ مَا یَصُوْمُ الإِثْنَیْنِ وَالْخَمْیِسَ، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ: ((إِنَّ الْاَعْمَالَ تُعْرَضُ کُلَّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ اَوْ کُلَّ یَوْمِ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ فَیَغْفِرُ اللّٰہُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ اَوْ لِکُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَہَاجِرَیْنِ، فَیَقُوْلُ: اَخِّرْہُمَا۔)) (مسند احمد: ۸۳۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوموار اور جمعرات کو کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انسانوں کے اعمال سوموار اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ پر پیش کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان یا ہر مومن کو بخش دیتا ہے، ما سوائے ان دو آدمیوں کے کہ جن کے درمیان قطع تعلقی ہوتی ہے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ان کے معاملے کو مؤخر کر دو۔

3972

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3972

Sahih

۔ (۳۹۷۲) عَنْ عاَئِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ وَیَتَحَرَّی الإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسَ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان کے اور خصوصی اہتمام کے ساتھ سوموار اورجمعرات کے روزے رکھتے تھے۔