Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 68 · Chapter 660

افطار وسحری کے مسائل اور آداب

روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان

3 hadiths in this chapter

3767

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3767

Sahih

۔ (۳۷۶۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَا اَعُدُّ وَلَا اُحْصِی،یَسْتَاکُ (وَفِی لَفْظٍ یَتَسَوَّکُ) وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے بے شمار مرتبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ہے۔

3768

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3768

Zaeef

۔ (۳۷۶۸) عَنْ (عَمْرِو) بْنِ عَبَسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ فِی رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ماہِ رمضان میں کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے دیکھا تھا۔

3769

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3769

Sahih

۔ (۳۷۶۹) عَنْ اَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: رَاَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْکُبُ عَلٰی رَاْسِہِ الْمَائَ بِالسُّقْیَا، إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ، وَہُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْ صَائِمًا حَتّٰی اَتٰی کَدِیْدًا، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَاَفْطَرَ وَاَفْطَرَ النَّاسُ وَہُوَ عَامُ الْفَتْحِ۔ زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: قَالَ الَّذِی حَدَّثَنِی فَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ الْمَائَ عَلٰی رَاْسِہِ مِنَ الْحَرِّ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کودیکھا کہ سقیا مقام پر آپ کے سر پر گرمی یا پیاس کی وجہ سے پانی ڈالا جا رہا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے دار تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ قائم رکھا، یہاں تک کہ کدید مقام تک پہنچ گئے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی منگوایا اور روزہ افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا،یہ فتح مکہ (کے سفر کے دوران کا) واقعہ ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:مجھے بیان کرنے والے نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں تھے۔