Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 67 · Chapter 643

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان

6 hadiths in this chapter

3685

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3685

Sahih

۔ (۳۶۸۵) عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صُومُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ سَحَابٌ فَکَمِّلُوْا الْعِدَّۃَ ثَلَاثِیْنَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الشَّہْرَ اسْتِقْبَالاً۔)) قَالَ حَاتِمٌ: یَعْنِی عِدَّۃَ شُعْبَانَ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو سابقہ ماہ کی (تیس کی) گنتی پوری کر لیا کرو، اور (ماہِ رمضان کی آمد سے) بالکل پہلے روزے نہ رکھا کرو۔ حاتم راوی کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ شعبان کی گنتی پوری کی جائے۔

3686

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3686

Sahih

۔ (۳۶۸۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ، مِثْلُہُ وَفِیْہِ:)فَإِنْ حَالَ دُوْنَہُ غَیَابَۃٌ، فَاَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ، وَالشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ۔)) یَعْنِی اَنَّہُ نَاقِصٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اگر تمہارے اور چاند کے درمیان کوئی بدلی حائل ہو جائے تو گنتی پوری کر لیا کرو اور مہینہ (۲۹) دن کا بھی ہوتا ہے۔ یعنی تیس (۳۰) سے ایک دن کم کا بھی ہو جاتا ہے۔

3687

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3687

Sahih

۔ (۳۶۸۷) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَحَفَّظُ مِنْ ہِلَالِ شَعْبَانَ مَالَا یَتَحَفَّظُ مِنْ غَیْرِہِ، ثُمَّ یَصُوْمُ بِرُؤْیَۃِ رَمَضَانَ، فَإِنَّ غُمَّ عَلَیْہِ عَدَّ ثَلَاثَیْنَیَوْمًا ثُمَّ صَامَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان کے چاند کا جس قدر خیال رکھتے تھے، اتنا کسی دوسرے مہینہ کے چاند کا نہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کا چاند نظر آ جاتا تو روزہ رکھنا شروع کر دیتے اور اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو (شعبان) کی تیس دنوں کی گنتی پوری کر لیتے، اور پھر روزہ شروع کرتے۔

3688

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3688

Sahih

۔ (۳۶۸۸) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَارَاَیْتُمْ الْہِلَالَ فَصُوْمُوْا، وَإِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاَفْطِرُوْا فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ، فَصُوْمُوْا ثَلَاثِیْنَیَوْمًا)) (مسند احمد: ۷۵۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا چھوڑا کرو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو تیس روزے پورے کیا کرو۔

3689

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3689

Sahih

۔ (۳۶۸۹) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا اَنَّہُ قَالَ: ((فَعُدُّوْا ثَلَاثِیْنَیَوْمًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سابق حدیث کی طرح ایک حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ: اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔

3690

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3690

Sahih

۔ (۳۶۹۰) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( لَاتَقَدَّمُوْا الشَّہْرَ بِیَوْمٍ وَلَا یَوْمَیْنِ، إِلَّا اَنْ یُوَافِقَ اَحَدُکُمْ صَوْمًا کَانَ یَصُوْمُہُ صَوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ وَاَفْطِرُوْا الِرُؤْیَتِہِ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاَتِمُّوْا ثَلَاثِیْنَیَوْمًا، ثُمَّ اَفْطِرُوْا)) (مسند احمد: ۱۰۴۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے مت رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا دن آ جائے جس میں تم میں سے کوئی آدمی روزہ رکھا کرتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے، چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو، اگر فضا ابر آلود ہو تو تیس دن پورے کر کے روزہ ترک کیا کرو۔