Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 67 · Chapter 639

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان

8 hadiths in this chapter

3664

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3664

Sahih

۔ (۳۶۶۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَمَا حَضَرَ رَمَضَانَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( قَدْ جَائَ کُمْ رَمَضَانُ، شَہْرٌ مُبَارَکٌ، افْتَرضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ، تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ، وَتُغَلْقُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ، فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَہْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔

3665

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3665

Sahih

۔ (۳۶۶۵) عَنْ عَرْفَجَۃَ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ، وَہُوَ یُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَآہُ عُتْبَۃُ ہَابَہُ فَسَکَتَ، قَالَ: فَحَدِّثْ عَنْ رَمَضَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی رَمَضَانَ تُغْلَقُ اَبْوَابُ النَّارِ وَتُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُصَفَّدُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ قَالَ: وَیُنَادِی فِیْہِ مَلَکٌ: یَا بَاغِیَ الْخَیْرِ! اَبْشِرْ، وَیَا بَاغِیَ الشَّرِّ! اَقْصِرْ، حَتّٰییَنْقَضِیَ رَمَضَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک کے رمضان گزر جاتا ہے۔

3666

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3666

Sahih

۔ (۳۶۶۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَجْوَدَ النَّاسِ، وَکَانَ اَجْوَدَ مَا یَکُوْنُ فِی رَمَضَانَ حِیْنَیَلْقٰی جِبْرِیْلَ، وَکَانَ جِبْرِیْلُیَلْقَاہُ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَارِسُہُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَاَجْوَدُبِاْلخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ویسے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ہی سہی، لیکن جب ماہِ رمضان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کی ہر رات کو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھیجی ہوئی ہوا سے بھی بڑھ کر مال کی سخاوت کیا کرتے تھے۔

3667

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3667

Zaeef

۔ (۳۶۶۷) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اُعْطِیَتْ اُمَّتِی خَمْسَ خِصَالٍ فِی رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَہَا اَمَّۃٌ قَبْلَہُمْ، خُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَہُمْ الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰییُفْطِرُوْا وَیُزَیِّنُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ کُلَّ یَوْمٍ جَنَّۃً، ثُمَّ یَقُوْلُ: یَوشِکُ عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ اَنْ یُلْقُوْا عَنْہُمْ الْمَئُوْنَۃَ وَالْاَذٰی وَیَصِیْرُوا إِلَیْکِ، وَیُصَفَّدُ فِیْہِ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ، فَلَا یَخْلُصُوا إِلَی مَا کَانُوْا یَخْلُصُوْنَ فِی غَیْرِہِ، وَیَغْفِرُلہَمُ ْفیِ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا یُوَفّٰی اَجْرَہُ إِذَا قَضٰی عَمَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاں دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیل یہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاں کرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جب وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے ۔

3668

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3668

Sahih

۔ (۳۶۶۸) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَمَضَانُ فَانْسَلَحَ قَبْلَ اَنْ یُغْفَرَ لَہُ)) (مسند احمد: ۷۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جائے، جس نے ماہِ رمضان کو پایا، لیکن یہ مہینہ اس کی بخشش سے پہلے گزر گیا۔

3669

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3669

Zaeef

۔ (۳۶۶۹) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِکْ لَنَا فِی رَمَضَانَ۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لَیْلَۃُ الْجُمُعَۃِ غَرَّائُ وَیَوْمُہَا اَزْہَرُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمارے لیے رمضان کو مبارک بنا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمک دار ہے۔

3670

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3670

Zaeef

۔ (۳۶۷۰) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَحْلُوْف رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اَتٰی عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَا اَتٰی عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ شَہْرٌ شَرٌّ لَہُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَذٰلِکَ لِمَا یُعِدُّ الْمُؤْمِنُوْنَ فِیْہِ مِنَ الْقُوَّۃِ لِلْعِبَادَۃِ، وَمَا یُعِدُّ فِیْہِ الْمُنَافِقُوْنَ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِہِمْ، ہُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ۔)) (مسند احمد: ۸۳۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس چیز کی قسم اٹھائی، اسی کی قسم! مسلمانوں کے لئے ماہِ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور منافقین کے لئے اس سے زیادہ برا مہینہ کوئی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مہینے میں عبادت کے لئے قوت تیار کرتے ہیں، جبکہ منافق اس ماہ میں لوگوں کے عیوب اور کوتاہیاں ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتے ہیں،یہ مہینہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لئے بھی فرصت کا موقع ہے۔

3671

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3671

Zaeef

۔ (۳۶۷۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَظَلَّکُمْ شَہْرُ کُمْ ھٰذَا بِمَحْلُوْفِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شَہْرٌ خَیْرٌ لَہُمْ مِنْہُ وَلَا بِالْمُنَافِقِیْنَ شَہْرٌ شَرٌ لَہُمْ مِنْہُ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَکْتُبُ اَجْرَہُ وَنَوَافِلَہُ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُدْخِلَہُ، وَیَکْتُبُ إِصْرَہُ وَشَقَائَ ُہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُدْخِلَہُ وَذَاکَ اَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعِدُّ فِیْہِ الْقُوَّۃَ لِلْعِبَادَۃِ مِنَ النَّفَقَۃِ، وَیُعِدُّ الْمُنَافِقُ اِبْتِغَائَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَعَوْرَاتِہِمْ، فَہُوَغُنْمٌ لِلْمُؤْمِنُ، یَغْتَنِمُہُ الْفَاجِرُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رسول اللہ کی قسم اٹھائی ہوئی چیز کی قسم! تمہارے اوپر یہ مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اہل ایمان کے لئے اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور اہل نفاق کے لئے اس سے زیادہ برا کوئی مہینہ نہیں، اللہ تعالیٰ اس مہینہ کی آمد سے پہلے ہی اس کا اور اس کے نوافل کا ثواب بھی لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ، سزا اور بدبختی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اس میں عبادت کرنے کے لیے نفقہ کی قوت تیار کرتا ہے اور منافق لوگوں کی غفلت اور عیوب تلاش کرتا رہتاہے، اس طرح یہ ماہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لیے بھی غنیمت ہے۔