Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 632

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان

6 hadiths in this chapter

3620

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3620

Sahih

۔ (۳۶۲۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْنَبَ اِمْرَاَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لِلنِّسَائِ: ((تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَامَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ فَإِنَّکُنَّ اَکْثَرُ اَہْلِ جَہَنَّمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَتْ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ خَفِیْفَ ذَاتِ الْیَدِ، فَقَالَتْ لَہُ: اَیَسَعُنِیْ اَنْ اَضَعَ صَدَقَتِیْ فِیْکَ، وَفِی بَنِیْ اَخِیْ اَوْ بَنِیْ اَخٍ لِیْیَتَامٰی، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَلِی عَنْ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا عَلٰی بَابِہِ امْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہَا زَیْنَبُ تَسْاَلُ عَمَّا اَسْاَلُ عَنْہُ، فَخَرَجَ إِلَیْنَا بِلَالٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْنَا: اِنْطَلِقْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلْہُ عَنْ ذٰلِکَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ہُمَا؟)) فَقَالَ: زَیْنَبُ، فَقَالَ: ((اَیُّ الزَّیَانِبِ؟)) فَقَالَ: زَیْنَبُ اِمْرَاَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ وَزَیْنَبُ الْاَنْصَارِیَّۃُ، فَقَالَ: ((نَعَمْ لَہُمَا اَجْرَانِ، اَجْرُ القَرَابَۃِ وَاَجْرُ الصَّدَقَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ سیدہ زینب زوجہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے فرمایا: صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات کی صورت میں ہو، ایک روایت میں ہے: وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ اپنے زیورات سے ہی دینا پڑے، کیونکہ قیامت کے دن جہنم کی اکثریت تم ہو گی۔ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تنگ دست تھے، ایک دن میں نے ان سے کہا: کیایہ ہو سکتا ہے میں اپنا صدقہ آپ اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں؟ انھوں نے جواباً کہا: تم یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ کر آؤ، چنانچہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر زینب نامی ایک انصاری خاتون پہلے سے بیٹھی تھی، اس کا سوال بھی وہی تھا، جس کے بارے میں میں پوچھنے گئی تھی، بہرحال سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ باہر آئے اور ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہمارے بارے میں نہیں بتانا کہ ہم کون ہیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں چلے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے کہا : سیدہ زینب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کونسی زینب؟ انھوں نے کہا: ایک تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ ہے اور دوسری زینب انصاری ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ اپنے شوہروں کو صدقہ دے سکتی ہیں، بلکہ انہیں دواجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔

3621

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3621

Sahih

۔ (۳۶۲۱) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَہَ عَنْ رَائِطَۃَ اِمْرَاَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ وَاُمِّ وَلَدِہِ وَکَانَتِ امْرَاَۃٌ صَنَّاعَ الیَدِ، قَالَ: فَکَانَتْ تُنْفِقُ عَلَیْہِ وَعَلٰی وَلَدِہِ مِنْ صَنْعَتِہَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ: لَقَدْ شَغَلْتَنِیْ اَنْتَ وَوَلَدُکَ عَنِ الصَّدَقَۃِ فَمَا اَسْتَطِیْعُ اَنْ اَتَصَدَّقَ مَعَکُمْ بِشَیْئٍ، فَقَالَ لَہَا عَبْدُ اللّٰہِ: وَاللّٰہِ! مَا اُحِبُّ إِنْ لَمْ یَکُنْ فِی ذٰلِکَ اَجْرٌ اَنْ تَفْعَلِیْ، فَاَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ اِمْرَاَۃٌ ذَاتُ صَنْعَۃٍ اَبِیْعُ مِنْہَا وَلَیْسَ لِیْ وَلَالِوَلَدِیْ وَلَا لِزَوْجِیْ نَفَقَۃٌ غَیْرُہَا، وَقَدْ شَغَلُوْنِیْ عَنِ الصَّدَقَۃِ، فَمَا اَسْتَطِیْعُ بِشَیْئٍ فَہَلْ لِیْ مِنْ اَجْرٍ فِیْمَا اَنْفَقْتُ؟ قَالَ: فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْفِقِیْ عَلَیْہِمْ فَإِنَّ لَکِ فِیْ ذَالِکِ اَجْرٌ مَا اَنْفَقْتِ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ رائطہ زوجہ عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ ان کے بچوں کی ماں بھی تھیں، سے مروی ہے کہ وہ ایک ہنر مند خاتون تھی اور اپنے ہنر کی کمائی میں سے اپنے خاوند اور اس کی اولاد پر خرچ کرتی تھی، وہ کہتی ہیں: ایک دن میں نے اپنے خاوند سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ نے اور آپ کی اولاد نے مجھے صدقہ کرنے سے محروم کر رکھا ہے، آپ لوگوں کی وجہ سے میں کوئی چیز صدقہ نہیں کرسکتی۔ آگے سے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اگر تمہیں اس میں اجر نہیں ملتا کہ میں تمہارے لیے اس صدقہ کو پسند نہیں کرتا، یہ سن کر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں چلی گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ہنر خاتون ہوں اور چیزیں بنا کر فروخت کرتی ہوں، لیکن میری اور میری اولاد اور شوہر کا اس کے علاوہ کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے، اس لیے میں ان لوگوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے صدقہ کرنے سے محروم رہتی ہوں، تو کیا ان لوگوں پر خرچ کرنے سے مجھے اجر ملے گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان پر خرچ کیا کرو، کیونکہ تم ان پر جس قدر خرچ کرو گی، تمہیں ثواب ملے گا۔

3622

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3622

Sahih

۔ (۳۶۲۲) عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَطْعَمْتَ نَفْسَکَ فَہُوَلَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ وَلَدَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ زَوْجَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ خَادِمَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے آپ کو جو کھلاؤ گے، وہ تمہارے لیے صدقہ ہو گا، تم اپنی اولاد کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا،تم اپنی بیوی کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہارا صدقہ ہو گا اور تم اپنے خادم کو جو کچھ کھلاؤ گے، وہ بھی تمہاری طرف سے صدقہ ہو گا۔

3623

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3623

Sahih

۔ (۳۶۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ فَقِیْرًا، فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌ فَعَلٰی عِیَالِہٖ، وَإِنْ کَانَ فَضْلٌ فَعَلٰی ذَوِیْ قَرَابَتِہٖاَوْقَالَ،عَلٰی ذَوِیْ رَحِمِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌفَہَاہُنَاوَہٰہُنَا)) (مسنداحمد: ۱۴۳۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود ضرورت مند ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر مزید گنجائش ہو تو ادھر ادھر دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔

3624

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3624

Sahih

۔ (۳۶۲۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ َ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقُوْا۔)) قَالَ: رَجُلٌ عِنْدِی دِیْنَارٌ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلٰی نَفْسِکَ۔)) قَالَ: عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلٰی زَوْجَتِکَ۔)) قَالَ: عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلَی وَلَدِکَ۔)) قاَلَ عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((تَصَدَّقْ بِہِ عَلٰی خَادِمِکَ۔)) قَالَ: عِنْدِی دِیْنَارٌ آخَرُ، قَالَ: ((اَنْتَ اَبْصَرُ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا، میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اپنی بیوی پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اپنی اولاد پر صدقہ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار اور ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تو خود بہتر جانتا ہے۔

3625

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3625

Sahih

۔ (۳۶۲۵) عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍِالضَّبِّیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّدَقَۃُ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ، وَعَلٰی ذِی الْقَرَابَۃِ اثْنَتَانِ، صِلَۃٌ وَصَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناسلیمان بن عامر ضبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے سے دو اجر ملتے ہیں، ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔