Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 630

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

جسم کے صدقہ کا بیان

8 hadiths in this chapter

3611

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3611

Sahih

۔ (۳۶۱۱) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی الْاِنْسَانِ سِتُّونَ وَثَلاثُمِائَۃِ مَفْصِلٍ فَعَلَیْہِ اَنْ یَتَصَدَّقَ عَنْ کُلِّ مَفْصِلٍ مِنْہَا صَدَقَۃً۔)) قَالُوْا: فَمَنِ الَّذِییُطِیْقُ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اَلنُّخَاعَۃُ فِیْ الْمَسْجِدِ تَدْفِنُہَا وَالشَّیئُ تُنَحِّیہِ عَنِ الطَّرِیْقِ، فإِنْ لَمْ تَقْدِرْ فَرَکْعَتَا الضُّحٰی تُجْزِیُٔ عَنْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنابریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انسانی جسم میں (۳۶۰) جوڑ ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! روزانہ ہر جوڑ کی طرف سے اتنا صدقہ کون کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں پڑی ہوئی تھوک کو وہیں دبا دینا بھی صدقہ ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر تجھے یہ اعمال کرنے کی طاقت بھی نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں تجھ سے کفایت کریں گی (اور سارے جوڑوں کا صدقہ ادا ہو جائے گا)۔

3612

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3612

Sahih

۔ (۳۶۱۲) عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَااَعْلَمُہُ إِلَّا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ سُلَامٰی مِنِ ابْنِ آدَمَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ حِیْنَیُصْبِحُ۔)) فَشَقَّ ذَالِکَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((إِنْسَلَامَکَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ صَدَقَۃٌ، وَإِمَاطَتُکَ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ، وَإِنَّ اَمْرَکَ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ، وَنَہْیَکَ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ۔)) وَحَدَّثَ بِاَشْیَائَ مِنْ نَحْوِ ھٰذَا لَمْ اَحْفَظْہَا۔ (مسند احمد: ۸۳۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم پر لازم ہے کہ وہ ہر روز صبح کے وقت اپنے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرے۔ یہ بات صحابہ پر شاق گزری، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا لوگوں کو سلام کہنا بھی صدقہ ہے، ایذا دینے والی چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، کسی کونیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح کی کئی نیکیوں کا ذکر کیا، لیکن مجھے وہ یاد نہیں ہیں۔

3613

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3613

Sahih

۔ (۳۶۱۳) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کُلُّ نَفْسٍ کُتِبَ عَلَیْہَا الصَّدَقَۃُ کُلَّ یَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ، فَمِنْ ذَالِکَ اَنْ یَعْدِلَ بَیْنَ الْاِثْنَیْنِ صَدَقَۃٌ وَاَنْ یُعِیْنَ الرَّجُلَ عَلٰی دَابَّتِہِ فَیَحْمِلَہُعَلَیہَا صَدَقَۃٌ وَیَرْفَعُ مَتَاعَہُ عَلَیْہَا صَدَقَۃٌ وَیُمِیْطُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ، وَالْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ وَکُلُّ خُطْوَۃٍیَمْشِی إِلَی الصَّلَاۃِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۵۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ صدقہ کرے، اس کی بعض صورتیں یہ ہیں: دو آدمیوں کے مابین عدل کرنا صدقہ ہے، سوار ہوتے وقت کسی کی مدد کرنا اور اس کو اس کی سواری پر بٹھا دینا صدقہ ہے، کسی کا سامان اس کی سواری پر رکھ دینا صدقہ ہے، راستے سے ایذا دینے والی چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے، اچھی بات کہنا صدقہ ہے اورنماز کی طرف چلنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔

3614

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3614

Sahih

۔ (۳۶۱۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ اَبِی سَلاَّمٍ قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ صَدَقَۃٌ مِنْہُ عَلٰی نَفْسِہِ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مِنْ اَیْنَ اَتَصَدَّقُ ولَیْسَ لَنَا اَمْوَالٌ؟ قَالَ: ((لِاَنَّ مِنْ اَبْوَابِ الصَّدَقَۃِ التَّکْبِیْرَ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، وَتَاْمُر بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْکَ عَنْ طَرِیْقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ، وَتَہْدِی الْاَعْمٰی۔وَتُسْمِعُ الْاَصَمَّ وَالْاَبْکَمَ حَتّٰییَفْقَہَ، وَتَدُلُّ الْمُسَتَدِلَّ عَلٰی حَاجَۃٍ لَہُ قَدْ عَلِمْتَ مَکَانَہَا وَتَسْعٰی بِشِدَّۃِ سَاقَیْکَ إِلَی اللَّہْفَانِ الْمُسْتَغِیْثِ، وَتَرْفَعُ بِشِدَّۃِ ذِرَاعَیْکَ مَعَ الضَّعِیْفِ، کُلُّ ذَلِکَ مِنْ اَبْوَابِ الصَّدَقَۃِ مِنْکَ عَلٰی نَفْسِکَ، وَلَکَ فِی جِمَاعِ زَوْجَتِکَ اَجْرٌ۔)) قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: کَیْفَیَکُوْنُ لِی اَجْرٌ فِیْ شَہْوتِیْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((اَرَاَیْتَ لَوْ کَانَ لَکَ وَلَدٌ فَاَدْرَکَ وَرَجَوْتَ خَیْرَہُ فَمَاتَ اَکُنْتَ تَحْتَسِبُ بِہِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاَنْتَ خَلَقْتَہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ خَلَقَہُ، قَالَ: ((فَاَنْتَ ھَدَیْتَہٗ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ ھَدَاہُ، قَالَ: ((فَاَنْتَ تَرْزُقُہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ کَانَ یَرْزُقُہٗ۔ قَالَ: ((کَذَالِکَ فَضَعْہُ فِی حَلاَلِہِ وَجَنِّبْہُ حَرَامَہُ، فَإِنْ شَائَ اللّٰہُ اَحْیَاہُ وَإِنْ شَائَ اَمَاتَہُ وَلَکَ اَجْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ بات دوہرائی کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوپر صدقہ کرے۔ اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنا بھی صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اورلوگوں کے راستے سے کانٹے، ہڈی اور پتھر وغیرہ کو ہٹا دینا ، نابینا آدمی کو رہنمائی کر دینا، کسی گونگے بہرے کو بات سمجھا دینا، اگر تجھے علم ہو تو کسی ضرورت کے لیے رہنمائی طلب کرنے والے کی رہنمائی کرنا، مدد کے لیے پکارنے والے مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑ کر جانا اور کمزور کی خوب مدد کرنا، یہ سارے امور تمہاری طرف سے تمہارے لیے صدقہ ہیں، بلکہ اپنی اہلیہ سے جماع کرنا بھی باعث ِ اجر ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے لیے میری شہوت میں اجر کیسے ہو گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے بتلاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، وہ بالغ ہو جائے اور تمہیں اس کی طرف سے خیر کی امید ہو، لیکن وہ فوت ہو جائے تو کیا تم اس پر صبر کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اسے تم نے پیدا کیا؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رزق دیتے رہے؟ میں نے کہا: جی نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا رہا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات ایسے ہی ہے، جس طرح بچے کی تمام ضروریات و حاجات اللہ تعالیٰ نے پوری کیں مگر تمہیں اس کی وفات پر اجر و ثواب ہوا پس اسی طرح تم اپنی شرم گاہ کو حلال مقام پر استعمال کرو اور حرام سے بچاؤ، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اسے بچا لے گا اور اگر اس نے چاہا تو اسے موت دے دے گا اور تمہیں ثواب ملے گا۔

3615

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3615

Sahih

۔ (۳۶۱۵) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَصَدَّقَ عَنْ جَسَدِہِ بِشَیْئٍ کَفَّرَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بِقَدْرِ ذُنُوْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کی اتنی ہی مقدار کے لیے کفارہ بنا دے گا۔

3616

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3616

Zaeef

۔ (۳۶۱۶) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌جَائَ ثَـلَاثَۃُ نَفَرٍ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَحَدُہُمْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَتْ لِی مِائَۃُ دِیْنَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْہَا بِعَشَرَۃِ دَنَانِیْرَ، وَقَالَ الْآخَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَانَتْ لِی عَشَرَۃُ دَنَانِیْرَفَتَصَدَّقْتُ مِنْہَا بِدِیْنَارٍ، وَقَالَ الْآخَرُ: کَانَ لِی دِیْنَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِہِ؟قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّکُمْ فِی الْاَجْرِ سَوَائٌ کُلُّکُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سو دینار تھے اور میں نے ان میں سے دس دینار صدقہ کر دیئے، دوسرے نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کر دیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کر دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی باتیں سن کر فرمایا: ثواب کے لحاظ سے تم سب برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا۔

3617

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3617

Zaeef

۔ (۳۶۱۷) عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ اَبِی لُبَابَۃَ اَخْبَرَہٗاَنَّاَبَالُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِیْ اَنْ اَہْجُرَ دَارَقوَمْیِ وَاُسَاکِنَکَ وَاَنْ اَنْخَلِعَ مِنْ مَالِیْ صَدَقَۃً لِّلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُجْزِیئُ عَنْکَ الثلُثُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابولبابہ بن عبد المنذر سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ قبول ہو نے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہوں اور اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کردوں۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال صدقہ کر دینا تجھے کفایت کرے گا۔

3618

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3618

Zaeef

۔ (۳۶۱۸) عن اَبِی السَّلِیْلِ قَالَ: وَقَفَ عَلَیْنَا رَجُلٌ فِی مَجْلِسِنَا بِالْبَقِیْعِ فَقَالَ: حَدَّثَنِی اَبِیْ اَوْ عَمِّی اَنَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَقِیْعِ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((مَنْ یَتَصَدَّقُ بِصَدََقَۃٍ اَشْہَدُ لَہُ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَحَلَلْتْ مِنْ عِمَامَتِی لَوْثًا اَوْ لَوْثَیْنِ وَأَنَا اُرِیْدُ اَنْ اَتَصَدَّقَ بِہِمَا، فاَدْرَکَنِی مَا یُدْرِکُ بَنیِ آدَمَ، فَعَقَدْتُّ عَلَیَّ عِمَامَتِیْ، فَجَائَ رَجُلٌ وَلَمْ اَرَ بِالْبَقِیْعِ رَجُلاً اَشَدَّ سَوَادًا اَصْفَرَ مِنْہُ وَلَا آدَمَ یَعْبُرُ بِنَاقَۃٍ لَمْ اَرَ بِالْبَقِیْعِ نَاقَۃً اَحْسَنَ مِنْہَا، فَقَالَ: یاَ رسَوُلَ اللّٰہِ! اَصَدَقَۃً؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قاَلَ: دُوْنَکَ ھٰذِہِ النَّاَقَۃَ، قَالَ: فَلَمَزہٗرَجُلٌفَقَالَ: ھٰذَا یَتَصَدَّقُ بِھٰذِہٖ؟فَوَاللّٰہِ! لَہِیَ خَیْرٌ مِنْہُ، قَالَ: فَسَمِعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِوَعَلٰی وآلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((کَذَبْتَ ، بَلْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْکَ وَمِنْہَا۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: ((وَیْلٌ لِاَصْحَابِ الْمِئِینَ مِنَ الإِبِلِ۔)) ثَلَاثًا، قَالُوْا: إِلاَّ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا۔)) وَجَمَعَ بَیْنَ کَفَّیْہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ، ثُمَّ قَالَ: ((قَدْ اَفْلَحَ الْمُزْہِدُ الْمُجْہِدُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سلیل کہتے ہیں: ہم بقیع میں تھے کہ ہمارے پاس ایک آدمی آ کھڑاہوا اور اس نے کہا کہ میرے والد یا چچا نے مجھے بیان کیا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بقیع مقام پر دیکھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرما رہے تھے: کیا کوئی ہے جو صدقہ کرے، تاکہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں؟ میرے والد یا چچا نے کہا: میں نے بھی اپنی پگڑی کے ایک دو بل کھولے تاکہ وہی صدقہ کر دوں، لیکن پھر مجھے اسی چیز نے آ لیا، جو بنو آدم کو گھیر لیتی ہے، چنانچہ میں نے وہی پگڑی دوبارہ سر پر لپیٹ لی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا، میں نے بقیع میں اس سے زیادہ کالے اورگندمی رنگ کا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا، اس کے پاس ایک عمدہ اونٹنی تھی، میں نے بقیع کے علاقہ میں اس سے زیادہ عمدہ اور خوبصورت اونٹنی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا ارادہ صدقے کا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: توپھر یہ اونٹنی قبول فرمایئے۔ ایک آدمی نے کہا: کیایہ شخص اتنی عمدہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے، اللہ کی قسم ہے کہ اس کی اونٹنی اس سے زیادہ عمدہ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات سن لی اور تین بار فرمایا: تو غلط کہہ رہا ہے، بلکہ وہ صدقہ کرنے والا تجھ سے بھی بہتر ہے اور اس اونٹنی سے بھی بہتر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سینکڑوں اونٹوں والوں کے لئے ہلاکت ہے۔ یہ بھی تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے مستثنیٰ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں جو آدمی اپنا مال اس طرح تقسیم کرتا ہے، اس طرح لٹاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں ہھتیلیوں کو جمع کرکے دائیں بائیں ڈالا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فرد کامیاب ہو گیا، جو تھوڑے مال والا ہے اور عبادت میں اپنے آپ کو کھپا دینے والا ہے۔