Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 600

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

3439

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3439

Sahih

۔ (۳۴۳۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَی مِیَاہِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۶۷۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے اپنے ٹھکانوں پر ہی وصول کی جائے۔

3440

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3440

Sahih

۔ (۳۴۴۰) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُہُمْ إِلاَّ فِی دِیَارِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۶۶۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (زکوۃ کے معاملے میں) جَلَب ہے نہ جَنَب ، نیز مسلمانوں سے زکوۃ صرف ان کی رہائش گاہوں پر وصول کی جائے۔

3441

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3441

Zaeef

۔ (۳۴۴۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِی فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: ((کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدّٰی عَلَیَّ، قَالَ: فَنَظَرُوْہُ فَوَجَدُوْہُ قَدْ تَعَدّٰی عَلَیْہِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فَکَیْفَ بِکُمْ اِذَا سَعٰی مَنْ یَتَعَدّٰی عَلَیْکُمْ أَشَدَّ مِنْ ہٰذَا التَّعَدِّیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔