Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 64 · Chapter 586

زکوۃ کا بیان

زکوۃ کی فضیلت اور اس کی انواع زکوۃ کی فضیلت کا بیان

8 hadiths in this chapter

3356

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3356

Sahih

۔ (۳۳۵۶) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ وَیَأْخُذُہَا بِیَمِیْنِہِ فَیُرَبِّیْہَا لِأَحَدِکُمْ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ مُہْرَہُ أَوْ فَلُوَّہُ أَوْ فَصِیْلَہُ حَتّٰی إِنَّ اللُّقْمَۃَ لَتَصِیْرُ مِثْلَ جَبَلِ أُحُدٍ، قَالَ وَکِیْعٌ فِی حَدِیْثِہِ: وَتَصْدِیْقُ ذَالِکَ فِی کِتَابِ اللّٰہِ {وَہُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} {وَیَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ۔} (مسند احمد: ۱۰۰۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، پھر وہ ان کو یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی، اونٹنی یا گائے کے بچے کی پرورش کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ وکیع نے اپنی روایت میں کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی تصدیق قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے: اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۂ توبہ:۱۰۴) اور اللہ سود کو ختم کرنا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرۃ:۲۸۶)

3357

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3357

Sahih

۔ (۳۳۵۷) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ مِنْ طَیِّبٍ، وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا طَیِّبًا وَلاَ یَصْعَدُ إِلَی السَّمَائِ إِلَّا طَیِّبٌ إِلَّا وَہُوَ یَضَعُہَا فِی یَدِ الرَّحْمٰنِ أَوْ فِی کَفِّ الرَّحْمٰنِ فَیُرَبِّیہَا لَہُ کَمَا یُرَبِّیْ أَحْدُکُمْ فَلُوَّہُ أَوْ فَصِیْلَہُ حَتّٰی إِنَّ التَّمْرَۃَ لَتَکُوْنُ مِثْلَ الْجَبْلِ الْعَظِیْمٍ۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مومن حلال اور پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی صرف پاکیزہ ہی کو قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف بھی صرف یہی حلال کمائی چڑھتی ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اس (صدقہ کو) اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی گھوڑی، یا گائے کے بچے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بہت بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔

3358

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3358

Sahih

۔ (۳۳۵۸) وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

3359

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3359

Sahih

۔ (۳۳۵۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الْبَخِیْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَیْنِ عَلَیْہِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَیْدِیْہِمَا إِلٰی تَرَاقِیْہِمَا، فَکُلَّمَا ہَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَۃٍ اتَّسَعَتْ عَلَیْہِ حَتّٰی تُعَفِّیَ أَثَرَہُ، وَکُلَّمَا ہَمَّ الْبَخِیْلُ بِصَدَقَۃٍ انْقَبَضَتْ عَلَیْہِ کُلُّ حَلْقَۃٍ مِنْہَا إِلٰی صَاحِبَتِہَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَیْہِ۔۔)) قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فَیَجْہَدُ أَنْ یُوَسِّعَہَا فَلاَ تَتَّسِعُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو جُبّے ہوں اور ان کے ہاتھ ہنسلی کی ہڈیوں تک باندھ دیئے گئے ہوں، جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اس حد تک کھل کر وسیع ہو جاتا ہے کہ اس کے پاؤں کے نشان مٹانے لگ جاتا ہے، لیکن جب بخیل آدمی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبہ کا ایک ایک حلقہ سکڑ کر اس کے اوپر بری طرح تنگ ہو جاتا ہے۔ پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پھر وہ اپنے جبہ کو کھلا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر وہ وسیع نہیں ہوتا۔

3360

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3360

Sahih

۔ (۳۳۶۰) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إلِاَّ بُعِثَ بِجَنْبَتَیْہَا مَلَکَانِ یُنَادِیَانِ یُسْمِعَانِ أَہْلَ اْلأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَیْنِ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! ہَلُمُّوْا إِلٰی رَبِّکُمْ فَإِنَّ مَاقَلَّ وَکَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَ أَلْہٰی وَلَاآبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَیْہَا مَلَکَانِ یُنَادِیَانِ یُسْمِعَانِ أَہْلَ الْأَرْضِ إلِاَّ الثَّقَلَیْنِ: اَللّٰہُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَأَعْطِ مُمْسِکًا مَالاً تَلَفًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں، وہ جن و انس کے علاوہ روئے زمین کی ہر چیز کو سناتے ہوئے اعلان کرتے ہیں: لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آجاؤ، بے شک کم مقدار اور کفایت کرنے والی چیز اس سے بہتر ہے جو زیادہ تو ہو مگر غافل کر دے، اسی طرح جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس وقت بھی دو فرشتے اس کے دونوں پہلوؤں میں بھیجے جاتے ہیں اور جن وانس کے علاوہ باقی اہل زمین کو سناتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں: اے اللہ! اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما اور بخیل کے مال کو تلف کردے۔

3361

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3361

Sahih

۔ (۳۳۶۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ! اَنْفِقْ اُنْفِقْ عَلَیْکَ، وَقَالَ: یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأٰی سَحَّائُ، لَایَغِیْضُہَا شَیْئٌ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! تو (میری راہ میں) خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا اور ہمیشہ عطا کرنے والا ہے اور رات اور دن میں (خرچ کی جانے والی) کوئی چیز اس میں کمی نہیں کر سکتی۔

3362

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3362

Sahih

۔ (۳۳۶۲) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاۃٍ مِنَ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِی سَحَابَۃٍ: اِسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلَانٍ، فَتَنَحّٰی ذَالِکَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَائَہُ فِی حَرَّۃٍ، فَانْتَہٰی إِلٰی الْحَرَّۃِ، فَإِذَا ہُوَ فِی أَذْنَابِ شِرَاجٍ، وَإِذَا شَرْجَۃٌ مِنْ تِلْکَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَالِکَ الْمَائَ کُلَّہُ، فَتَبِعَ الْمَائَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِی حَدِیْقَتِہِ یُحَوِّلُ الْمَائَ بِمِسْحَاتِہِ، فَقَالَ لَہُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! مَا اسْمُکَ؟ قَالَ: فُلَانٌ بِالْاِسْمِ الَّذِی سَمِعَ فِی السَّحَابَۃِ، فَقَالَ لَہُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! لِمَ تَسْأَلُنِیْ عَنِ اسْمِی؟ قَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِی السَّحَابِ الَّذِی ہٰذَا مَاؤُہٗ،یَقُوْلُ: اِسْقِ حَدِیْقَۃَ فُلَانٍ لِاِسْمِکَ، فَمَا تَصْنَعُ فِیْھَا؟ قَالَ: أَمَّا اِذَا قُلْتَ ھٰذَا، فَإِنِّی أَنْظُرُ إِلٰی مَا خَرَجَ مِنْہَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہِ وَآکلُ أَنَا وَعِیَالِی ثُلُثَہُ وَأَرُدُّ فِیْہَا ثَلُثَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک جنگل میں تھا کہ اس نے بادل میں یہ آواز سنی: (بادل!) فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کر۔ وہ بادل ایک طرف کو چل پڑا اور جا کر ایک پختہ زمین پر برسا، جب یہ آدمی وہاں پہنچا تو وہ کیا دیکھتا ہے کہ سارا پانی جمع ہو کر مختلف نالیوں سے ہوتا ہوا ایک بڑے نالے کی صورت بن گیا۔ یہ آدمی پانی کے ساتھ ساتھ چل پڑا، آگے جا کر دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنی کَسّی سے پودوں کو پانی لگا رہا ہے۔ اس نے پوچھا: اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ باغ والے نے کہا: اللہ کے بندے! تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا: جس بادل کا یہ پانی ہے، میں نے اس میں آواز سنی تھی، تمہارا نام لے کر کہا گیا کہ جا کر اس کے باغ کو سیراب کر۔ لہٰذا اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کونسا کوئی خاص کام کرتے ہیں؟ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت آپ کو حاصل رہتی ہے؟ باغ والے نے کہا: آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو سنو! میں اس باغ کی کل آمدنی میں سے ایک تہائی اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے اہل وعیال کھا لیتے ہیں اور ایک تہائی اسی باغ پر خرچ کرتا ہوں۔

3363

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3363

Sahih

۔ (۳۳۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّہُ قَالَ: أَتٰی رَجُلٌ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ ذُوْمَالٍ کَثِیْرٍ وَذُوْ أَہْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَۃٍ، فَاَخْبِرْنِی کَیْفَ اُنْفِقُ وَکَیْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُخْرِجُ الزَّکَاۃَ مِنْ مَالِکَ،فَإِنَّہَا طُہْرَۃٌ تُطَہِّرُکَ، وَتَصِلُ أَقْرِبَائَکَ وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْکِیْنِ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَقْلِلْ لِیْ۔ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَآتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہُ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاَ)) قَالَ: حَسْبِی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذَا أَدَّیْتُ الزَّکَاۃَ إِلٰی رَسُوْلِکَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْہَا إِلٰی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ إِذَا أَدَّیْتَہَا إِلٰی رَسُوْلِیْ فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْھَا، فَلَکَ أَجْرُہَا وَإِثْمُہَا عَلٰی مَنْ بَدَّلَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بنو تمیم کا ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کافی مال دار ہوں اور میرا خاندان بھی بڑا ہے، بچے بھی ہیں اور میرے ہاں مہمان بھی بکثرت آتے ہیں، اب آپ مجھے بتائیں کہ میں مال کیسے خرچ کروں یا کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کیا کر، یہ پاکیزہ عمل تجھے پاک کر دے گا، اسی طرح اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کر اور تجھے سائل، پڑوسی اور مسکین کے حق کی بھی معرفت ہونی چاہیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان باتوں کو میرے لیے ذرا اختصار کے ساتھ واضح کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق ادا کر اور فضول خرچی سے بچ۔ یہ سن کر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے لیے کافی ہے کہ جب میں آپ کے قاصد کو زکوۃ ادا کردوں تو کیا میں اللہ اور رسول کے ہاں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جاؤں گا؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو میرے قاصد کو زکوۃ ادا کردے گا تو تو اس سے بری ہو جائے گا اور تجھے اس کا اجر مل جا ئے گا، ہاں جو اس کو (ناجائز انداز میں) تبدیل کر دے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہی ہو گا۔