Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 60 · Chapter 559

نماز جنازہ کے ابواب

مسجد میں نماز جنازہ کا بیان

3 hadiths in this chapter

3190

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3190

Sahih

۔ (۳۱۹۰) عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَا تُوُفِّیَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَاُتِیَ بِجَنَازَتِہِ أَمَرَتْ بِہِ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنْ یُمَرَّ بِہِ عَلَیْہَا فَشُقَّ بِہِ فِی الْمَسْجِدِ، فَدَعَتْ لَہُ، فَاُنْکِرَ ذَالِکَ عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَی الْقَوْلِ، مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی ابْنِ بَیْضَائَ إِلَّا ِفی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدناسعد بنی ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا اور ان کی میت کو (قبرستان کی طرف) لے جایا جا رہا تھا تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حکم دیا کہ ان کی میت کو ان کے پاس سے گزارا جائے، پس اس میت کو مسجد کے وسط میں رکھا گیا اور انھوں نے اس کے لیے دعا کی، لیکن جب لوگوں نے اس طرح کرنے پر انکار کیا تو سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: لوگ عیب نکالنے میں کس قدر جلدی کرتے ہیں، حقیقت ِ حال تو یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیضاء کے بیٹے کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔

3191

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3191

Sahih

۔ (۳۱۹۱)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا أَرْسَلَتْ ہِیَ وَأَ ْزَوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَہْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ مُرُّوا بِہِ عَلَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فَصَلّٰی عَلَیْہِ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْکَرَ ذَالِکَ النَّاسُ، فَذُکِرَ ذَالِکَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَتْ: أَلَا تَعْحَبُوْنَ مِنَ النَّاسِ حِیْنَ یُنْکِرُوْنَ ہٰذَا؟ فَوَاللّٰہِ مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَہْلِ بْنِ بِیَضَائَ إِلَّا فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسری بیویوں نے سیّدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لواحقین کی طرف طرف پیغام بھیجا کہ وہ اس میت کو ہمارے ہاں مسجد میں لے کر آئیں، پس امہات المومنین نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، لوگوں نے اس صورت پر انکار کیا،جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: کیا تم کو ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اس صورت پر انکار کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا سہل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔

3192

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3192

Zaeef

۔ (۳۱۹۲)عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ فَلَیْسَ لَہُ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۹۷۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

لیکن یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس صالح سے ابن ابی ذئب کا سماع اس کے اختلاط سے پہلے کا تھا، جیسا کہ شیخ البانی نے وضاحت کی ہے، ملاحظہ ہو: (صحیحہ: ۲۳۵۱۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۹۱، وابن ماجہ: ۱۵۱۷(انظر: ۹۷۳۰)۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے۔