Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 6 · Chapter 59

طہارت کے ابواب

جس پانی سے وضو کیا جائے، اس کی طہارت کا بیان

3 hadiths in this chapter

376

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #376

Sahih

۔ (۳۷۶)۔ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًاؓ یَقُوْلُ: مَرِضْتُ فَأَتَانِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ وَأَبُوْبَکْرٍؓ مَاشِیَیْنِ وَقَدْ أُغْمِیَ عَلَیَّ فَلَمْ أُکَلِّمْہُ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّہُ عَلَیَّ فَاَفَقْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَصْنَعُ فِیْ مَالِیْ وَلِیَ أَخَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْمِیْرَاثِ {یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ } کَانَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أَخَوَاتٌ {اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ}۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور سیدنا ابو بکر ؓپیدل چل کر میرے پاس آئے، جبکہ میں بے ہوش تھا، اس لیے میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی بات نہیں کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا، پس مجھے افاقہ ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں بھی ہیں؟ پس میراث والی یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ } سیدنا جابر کی اولاد نہیں تھیں، بہنیں تھیں ، {اِنِ امْرُئٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ}

377

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #377

Sahih

۔ (۳۷۷)۔عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فِیْ حَدِیْثِ صُلْحِ الْحُدَیْبِیَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ قُرَیْشٍ قَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ رَأَی مَا یَصْنَعُ بِہِ أَصْحَابُہُ، لَا یَتَوَضَّأُ وُضُوْئً اِلَّا ابْتَدَرُوْہُ وَلَا یَبْسُقُ بُسَاقًا اِلَّا ابْتَدَرُوْہُ وَلَا یَسْقُطُ مِنْ شَعَرِہِ شَیْئٌ اِلَّا أَخَذُوْہُ۔ (مسند أحمد: ۱۹۱۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنامروان بن حکمؓ صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں کا قاصد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس کھڑا ہوا، جبکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ کیا کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بھی وضو کرتے ہیں تو وہ (اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی) کی طرف لپکتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بھی تھوکتے ہیں تو وہ اس کو لینے کے لیے بھی بڑھتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا جو بال گرتا ہے ، وہ اس کو پکڑ لیتے ہیں۔

378

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #378

Sahih

۔ (۳۷۸)۔عَنْ أَبِیْ جُحَیْفَۃَؓ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْہَاجِرَۃِ فَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ النَّاسُ یَتَمَسَّحُوْنَ بِفَضْلِ وَضُوْئِہِ فَصَلَّی الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ وَبَیْنَ یَدَیْہِ عَنَزَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۱۸۹۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوجحیفہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دوپہر کے وقت نکلے اور وضو کیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو چھونا شروع کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے (بطورِ سترہ) برچھی تھی۔