Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 56 · Chapter 528

جنازہ کے احکام و مسائل

اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان

4 hadiths in this chapter

3023

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3023

Sahih

۔ (۳۰۲۳) عَنْ مَطَرِ بْنِ عُکَامِسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَضَی اللّٰہُ مِیْتَۃَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَہُ إِلَیْہَا حَاَجَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا مطر بن عکامس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی علاقے میں موت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے کی طرف کوئی حاجت بنا دیتا ہے (اور وہ اس کے بہانے وہاں پہنچ جاتا ہے)۔

3024

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3024

Sahih

۔ (۳۰۲۴)( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُقَدَّرُ لِأَحَدٍ یَمُوْتُ بِأَرْضِ إِلَّا حُبِّبَتْ إِلَیْہِ وَجُعِلَ لَہُ إِلَیْہَا حَاجَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کے لیے کسی علاقے میں وفات کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اس کو اس آدمی کا پسندیدہ علاقہ بنا دیا جاتا ہے اور اسے اس کی طرف کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔

3025

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3025

Sahih

۔ (۳۰۲۵) عَنْ أَبِی عَزَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِذَا أَرَادَ قَبْضَ رُوْحِ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَہُ فِیْہَا أَوْقاَل بِہَا حَاجَۃً)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوعزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے۔

3026

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3026

Sahih

۔ (۳۰۲۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَۃِ، فَقَالَ: ((رَاحَۃٌ لِلْمُؤْمِنِیْنَ،وَأَخْذَۃُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مومن کے لیے تو راحت ہے، لیکن گنہگار کے لیے غضب کی پکڑ ہے۔