Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 56 · Chapter 525

جنازہ کے احکام و مسائل

نیک عمل والی طویل عمر اور اجنبیت والی موت مرنے والے کی فضیلت کا بیان

5 hadiths in this chapter

2997

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2997

Sahih

۔ (۲۹۹۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسٍ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ۔)) قَالَ: فَأَیُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: ((مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَسَائَ عَمَلُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل اچھا ہو۔ اس نے پھر پوچھا: لوگوں میں سب سے برا آدمی کونسا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔

2998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2998

Sahih

۔ (۲۹۹۸) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِکُمْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خِیَارُکُمْ أَطْوَلُکُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُکُمْ أَعْمَالًا۔)) (مسند احمد: ۷۲۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوں کہ تم میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور وہ اچھے عمل کرنے والے ہوں۔

2999

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2999

Zaeef

۔ (۲۹۹۹) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: إِذَا بَلَغَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً آمَنَہُ اللّٰہُ مِنْ أَنْوَاعِ الْبَلَایَا مِنَ الْجُنُوْنِ وَالْبَرَصِ وَالْجُذَامِ، وَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِیْنَ لَیَّنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ حِسَابَہُ، وَإِذَا بَلَغَ السِّتِّیْنَ رَزَقَہُ اللّٰہُ إِنَابَۃً، یُحِبُّہُ عَلَیْہَا، وَإِذَا بَلَغَ السِّبْعِیِْنَ أَحَبَّہُ اللّٰہُ وَأَحَبَّہُ أَہْلُ السَّمَائِ وَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِیْنَ تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنْہُ حَسَنَاتِہِ وَمَحَا عَنْہُ سَیِّئَاتِہٖ، وَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِیْنَ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَسُمِّیَ أَسِیْرَ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ وَشُفِّعَ فِی أَہْلِہِ۔ (مسند احمد: ۵۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

امام ہیثمی نے کہا: بزار نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے، ان میں سے ایک کے راوی ثقہ ہیں۔سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب مسلمان آدمی چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنون، پھلبہری اور کوڑھ سے محفوظ کر دیتا ہے، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کا حساب نرم کر دیتا ہے، جب وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اسے رجوع الی اللہ کی ایسی توفیق ملتی ہے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے،جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے اور اہل آسمان بھی، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کرتا ہے اور اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور جب اس کی عمر نوے سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے اور زمین میں اللہ کا قیدی اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اہل و عیال کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔

3000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3000

Sahih

۔ (۳۰۰۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَتَتْ عَلَیْہِ سِتُّوْنَ سَنَۃً، فَقَدْ أَعْذَرَ اللّٰہُ إِلَیْہِ فِی الْعُمُرِ۔)) (مسند احمد: ۸۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی عمر ساٹھ سال ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کا عمر کے بارے میں عذر ختم کر دے گا۔

3001

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3001

Zaeef

۔ (۳۰۰۱)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ بِالْمَدِیْنَہِ فَصَلّٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَالَیْتَہٗ مَاتَ فِی غَیْرِ مَوْلِدِہِ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تُوُفِّیَ فِی غَیْرِ مَوْلِدِہِ قِیْسَ لَہُ مِنْ مَوْلِدِہِ، إِلٰی مُنْقَطَعِ أَثَرِہٖ فِیْ الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۶۶۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک شخص فوت ہو گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ یہ آدمی اپنے جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور فوت ہوتا۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے شہر میں فوت ہوتا ہے تو اس کے شہر سے مقامِ وفات تک کے برابر جگہ اسے جنت میں عطا کی جاتی ہے۔