Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 56 · Chapter 523

جنازہ کے احکام و مسائل

اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان

9 hadiths in this chapter

2979

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2979

Sahih

۔ (۲۹۷۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِثَلَاثٍ: ((اَ لَا،لَا یَمُوْتَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَّا وَہُوَ یُحْسِنُ بِاللّٰہِ الظَّنَّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات سے تین روز قبل یوں فرماتے ہوئے سنا: خبردار! تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو وہ اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہو۔

2980

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2980

Sahih

۔ (۲۹۸۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمُوْتَنَّ أَحَدُ کُمْ إِلَّا وَہُوَ یُحْسِنُ بِاللّٰہِ الظَّنَّ، فَإِنَّ قَوْمًا قَدْ أَرْدَاہُمْ سُوئُ ظَنِّہِمْ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ {وَذَالِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِی ظَنَنْتُمْ بِرَبِّکُمْ أَرْدَاکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔})) (مسند احمد: ۱۵۲۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کسی کو بھی موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو، ایک قوم کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوئے ظن نے ہلاک کر دیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تمہاری اس بد گمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالآخر تم گھاٹا پانے والوں میں ہو گئے۔ (سورہ حم سجدۃ: ۲۳)

2981

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2981

Sahih

۔ (۲۹۸۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِیْ، إِنْ ظَنَّ بِیْ خَیْرًا فَلَہُ وَإِنْ ظَنَّ شَرَّا فَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۹۰۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہو، میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہے اور اگر وہ برا گمان رکھتا ہے تو یہ بھی اسی کے لیے ہی ہے۔

2982

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2982

Sahih

۔ (۲۹۸۲) عَنْ حَیَّانَ أَبِی النَّضْرِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَلٰی أَبِی الأَسْوَدِ الْجُرَشِیِّ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَجَلَسَ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُوْ الأَسْوَدِ یَمِیْنَ وَاثِلَۃَ فَمَسَحَ بِہَا عَلٰی عَیْنَیْہِ وَوَجْہِہِ لِبَیْعَتِہِ بِہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہُ وَاثلِۃَ: وَاحِدَۃٌ أَسْأَلُکَ عَنْہَا، قَالَ: وَمَا ہِیَ؟ قَالَ: کَیْفَ ظَنَّکُ بِرَبِّکَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُوْالأَسْوَدِ وَأَشَارَ بِرَأْسِہٖ حَسَنٌ، قَالَ وَاثِلَۃُ: أَبْشِرْ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی فَلْیَظُنَّ بِیْ مَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو نضر حیان کہتے ہیں:میں سیّدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ ابو اسود جرشی کی عیادت کے لیے گیا، وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، جناب واثلہ نے جا کر ان کو سلام کہا اور وہاں بیٹھ گئے۔ ابو الاسود نے واثلہ کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں اور چہرے پر پھیرا، کیونکہ انھوں نے اپنے اس ہاتھ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی۔ سیّدنا واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا: وہ کیا؟ انھوں نے پوچھا: آپ اللہ کے بارے میں کیا گمان رکھتے ہیں؟ ابوالاسود نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اچھا گمان رکھتا ہوں۔ جناب واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: خوش ہوجاؤ، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ نے فرمایا : میرے بندے کا میرے بارے میں جو گمان ہوتا ہے، میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، پس وہ میرے بارے میں جو چاہے (اچھا یا برا) گمان رکھ لے۔

2983

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2983

Sahih

۔ (۲۹۸۳) عَنْ عُمَرَ الْجُمَعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بَعَبْدٍ خَیْرًا اِسْتَعْمَلَہُ قَبْلَ مَوْتِہِ)) فَسَأَلَہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَا اسْتَعْمَلَہُ؟ قَالَ: ((یَہْدِیْہِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَی الْعَمَلِ الصَّالِحِ قَبْلَ مَوْتِہٖ ثُمَّ یَقْبِضُہُ عَلٰی ذَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عمر جمعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تووہ اسے استعمال کر لیتا ہے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے موت سے پہلے اچھے عمل کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسے اسی حالت میں موت دے دیتا ہے۔

2984

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2984

Sahih

۔ (۲۹۸۴) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ َعْنہُ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بَعَبْدٍ خَیْرًا اِسْتَعْمَلَہُ۔)) قِیْلَ: وَمَا اِسْتَعْمَلَہُ؟ قَالَ: ((یُفْتَحُ لَہُ بَیْنَ یَدَیْ مَوْتِہِ حَتّٰی یَرْضٰی َعَنْہُ مَنْ حَوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعمرو بن حمق خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے استعمال کرتا ہے۔ کسی نے پوچھا: اسے استعمال کرتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس کی موت سے پہلے (اچھے اعمال) کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے ارد گرد والے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں۔

2985

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2985

Sahih

۔ (۲۹۸۵) عَنْ أَبِی عِنَبَۃً الْخَوْلَانِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَسَلَہُ۔)) قِیْلَ: وَمَا عَسَلَہُ؟ قَالَ: ((یَفْتَحُ اللّٰہُ لَہُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِہِ، ثُمَّ یَقْبِضُہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو عنبہ خولانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے لوگوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ محبوب بنا دینے سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے مرنے سے پہلے نیک عمل کرنے کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسی حالت پر اس کو موت دے دیتا ہے۔

2986

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2986

Sahih

۔ (۲۹۸۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ مَاتَ عَلٰی شَیْئٍ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ)) (مسند احمد: ۱۴۴۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی جس حالت میں فوت ہو گا، اللہ اسے اسی حالت میں اٹھائے گا۔

2987

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2987

Sahih

۔ (۲۹۸۷) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أَسْنَدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی صَدْرِی، فَقَالَ: ((مَنْ قَالَ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ، خُتِمَ لَہُ بِہَا دَخَلَ الجْنَۃَّ َوَمَنْ صَامَ یَوْمًا ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ خُتِمَ لَہُ بِہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ خُتِمَ لَہُ بِہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے سینے سے لگا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آسرا دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے رضا کے لیے لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہااور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ جنت میں جائے گا،جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے ایک روزہ رکھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کے چہرے کو چاہنے کے لیے صدقہ کیا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو وہ بھی جنت میں جائے گا۔