Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 55 · Chapter 521

نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں

شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا

2 hadiths in this chapter

2968

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2968

Sahih

۔ (۲۹۶۸) عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ یَجَْمُع لِیَ النَّاسَ لِیَغْزُوْنِی وَہُوَ بِعُرَنَۃَ، فَأْتِہِ فَاقْتُلْہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْعَتْہُ لِی حَتّٰی أَعْرِفَہُ، قَالَ: ((إِذَا رَأَیْتَہُ وَجَدْتَّ لَہُ قُشَعْرِیْرَۃً۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَیْفِی حَتّٰی وَقَعْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ بِعُرَنَۃَ مَعَ ظُعُنٍ یَرْتَادُ لَہُنَّ مَنْزِلاً، وَحِیْنَ کَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُ وَجَدْتُّ مَا وَصَفَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْقُشْعْرِیْرَۃِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَہُ وَخَشِیْتُ أَنْ یَکُوْنَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ مُحَاوَلَۃٌ تَشْغَلُنِیِ عَنِ الصَّلَاۃِ ، فَصَلَّیْتُ وَأَنا أَمْشِی نَحْوَہُ أُوْمِیُٔ بِرَأْسِی الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَلَمَّا انْتَہَیْتُ إِلَیْہِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِکَ وَبِجَمْعِکَ لِہَذَا الرَّجُلِ، فَجَائَ کَ لِہَذَا، قَالَ: أَجَلَ أَناَ فِی ذَالِکَ، قَالَ: فَمَشَیِتُ مَعَہُ شَیْئًا، حَتّٰی إِذَا أَمْکَنَنِیِ، حَمَلْتُ عَلَیْہِ السَّیْفَ، حَتّٰی قَتَلْتُہُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَکْتُ ظَعَائِنَہُ مُکِبَّاتٍ عَلَیْہِ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَآنِی فَقَالَ: ((أَفْلَحَ الْوَجْہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: قَتَلْتُہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((صَدَقْتَ۔)) الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح میرے مقابلہ کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے اور وہ اس وقت عُرَنَہ مقام میں ہے، تم جا ؤ اور اسے قتل کر دو ۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کی کوئی علامت بیان فرمائیں ،تاکہ میں پہچان لوں کہ یہ وہی شخص ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو اس کی وجہ سے ایک دفعہ تم پر جھرجھری طاری ہو گی۔ پس میں نے تلوار لی اور اس کے پاس جا پہنچا۔ وہ واقعی عرنہ مقام میں اپنی عورتوں کے ساتھ تھا اور وہ ان کے لیے جگہ بنا رہا تھا۔ اُدھر نمازِ عصر کا وقت بھی ہو چکا تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کے مطابق مجھ پر جھرجھری طاری ہو گئی، میں اس کی طرف بڑھا۔ مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی ایسا جھگڑا ہو جائے جو نماز سے غافل کر دے۔ اس لیے میں نے اس کی طرف چلتے چلتے ہی نماز پڑھنا شروع کر دی، اشارے سے رکوع و سجود کرتا گیا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا: کون ہو؟ میں نے کہا : ایک عربی ہوں، آپ کے بارے سنا ہے کہ آپ اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )کے مقابلے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہے ہو، اسی لیے میں بھی حاضر ہوا ہوں، اس نے کہا: جی ہاں، میں اسی کوشش میں ہوں۔ پس میں اس کے ساتھ چلتا رہا، جب اس نے مجھے موقع دیا تو میں نے تلوار کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا اور اس حال میں وہاں سے نکل آیا کہ اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: کامیاب رہے ہو۔ میں عرض کیا: اے رسول اللہ! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک کہتے ہو۔ الحدیث۔

2969

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2969

Zaeef

۔ (۲۹۶۹) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ لِسَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: وَتَأْمُرُ أَصْحَابَکَ إِنَّ ہَاجَہُمْ ہَیْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَہُمْ الْقِتَالُ وَالْکَلَامُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّدنا سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا تھا: آپ اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں اگر (دوران نماز) دشمن حملہ آور ہوجائے تو ان کے لیے قتال اور کلام دونوں جائز ہیں۔