Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 55 · Chapter 519

نماز خوف اور اس کی کئی صورتیں ہیں

نماز خوف کی پانچویں صورت امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے

4 hadiths in this chapter

2963

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2963

Sahih

۔ (۲۹۶۳) عَنْ أَبِی بَکْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّہُ قَالَ: صَلّٰی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَصَلّٰی بِبَعْضِ أَصْحَابِہِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَتَأَخَّرُوْا، وَجَائَ آخَرُوْنَ فَکَانُوْا فِی مَکَانِہِمْ فَصَلّٰی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَصَارَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے آ کر ان کے مقام پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔

2964

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2964

Sahih

۔ (۲۹۶۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَاتَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحَارِبَ خَصَفَۃَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ غِرَّۃً، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتّٰی قَامَ عَلٰی رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالسَّیْفِ، فَقَالَ: مَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی، قَالَ: ((اَللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) فَسَقَطَ السَّیْفُ مِنْ یَدِہِ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ یَمْنَعُکَ مِِنِّیْ؟)) قَالَ: کُنْ کَخَیْرِ آخِذٍ، قَالَ: ((أَتَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ؟)) قَالَ: لَا، وَلٰکِنِّی أُعَاہِدُکَ أَنْ لَا أُقَاتِلَکَ وَلَا أَکُوْنَ مَعَ قَوْمٍ یُقَاتِلُوْنَکَ، فَخَلّٰی سَبِیْلَہُ، قَالَ: فَذَہَبَ إِلٰی أَصْحَابِہِ، قَالَ: قَدْ جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ خَیْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا کَانَ الظَّہْرُ أَوْ الْعَصْرُ صَلّٰی بِہِمْ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فَکَانَ النَّاسُ طَائِفَیَتْنِ، طَائِفَۃٌ بِإِزَائِ عَدُوِّہِمْ وَطَائِفَۃٌ صَلَّوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلَّی بِالطَّائِفَۃِ الَّذِیْنَ کَانُوْا مَعَہُ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوْا فکَانُوْا مَکَانَ اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِإِزَائِ عَدُوِّہُمْ وَجَائَ أُوْلٰئِکَ فَصَلّٰی بِہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَکَانَ لِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ، وَلِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعُ رَکْعَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی نخل میں محارب خصفہ کے لوگوں سے لڑائی کے لیے تشریف لے گئے۔ جب ان لوگوں نے مسلمانوں میں غفلت کا مشاہدہ کیا تو ایک دشمن غورث بن حارث موقعہ پا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر تلوار لیے آ پہنچا اور بولا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ۔ اتنے میں تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، اب کی بار رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ وہ بولا: آپ اس تلوار کو پکڑنے والے بہترین آدمی بن جائیں (یعنی مجھ پر احسان کریں)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ البتہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ کے مقابلے میں آؤں گا اور نہ آپ کے ساتھ لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اور جا کر کہا: میں بہترین آدمی کے پاس سے آیا ہوں۔ پھر جب ظہر یا عصر کا وقت ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی۔ لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ دشمن کے مقابلے میں رہا اور دوسرا گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر یعنی دشمن کے بالمقابل کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ نماز کے لیے آ گئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار۔

2965

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2965

Sahih

۔ (۲۹۶۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ کُنَّا إِذَا أَتَیْنَا عَلٰی شَجَرَۃٍ ظَلِیْلَۃٍ تَرَکْنَاہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رََجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکُوْنَ، وَسَیْفُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعَلَّقٌ بَشَجَرَۃٍ فَأَخَذَ سَیْفَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاخْتَرَطَہُ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَتَخَافُنِی؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: فَمَنْ یَمْنَعُکَ مِنِّی؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَمْنَعُنِی مِنْکَ)) فَتَہَدَّدَہُ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَغْمَدَ السَّیْفَ وَعَلَّقَہُ، فَنُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ، فَصَلّٰی بِطَائِفَۃٍ رَکْعَتَیْنِ وَتَأَخَّرُوْا وَصَلّٰی بِالطَّائِفَۃِ الْأُخْرٰی رَکْعَتَیْنِ فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔

2966

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2966

Sahih

۔ (۲۹۶۶) عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ہَلْ صَلَّیْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: نَعَمْ، فَقَالَ: مَتَی؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَۃِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَہُ طَائِفَۃٌ وَطَائِفَۃٌ أُخْرَی مُقَابِلَۃَ الْعَدُوِّ ظُہُوْرُہُمْ إِلَی الْقِبْلَۃِ، فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَبَّرُوْا جَمِیْعًا، اَلَّذِیْنَ مَعَہُ وَالَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ رَکَعَتْ مَعَہُ الطَّائِفَۃُ الَّتِی تَلِیْہِ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی تَلِیْہِ والآخَرُوْنَ قِیَامٌ مُقَابِلَۃَ الْعَدُوِّ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَامَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی مَعَہُ إِلَی الْعَدُوِّ فَذَہَبُوْا إِلَی الْعَدُوِّ فَقَابَلُوْہُمْ، وَأَقَبْلَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی کَانَتْ مُقَابِلَۃَ الْعَدُوِّ فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمٌ کَمَا ہُوَ، ثُمَّ قَامُوْا فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکَعَۃً أُخْرَی رَکَعُوْا مَعَہُ وَسَجَدُوْا مَعَہُ، ثُمَّ أَقْبْلَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِی کَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوْا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعِدٌ وَمَنْ تَبِعَہُ، ثُمَّ کَانَ التَّسْلِیْمُ، فَسَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَلَّمُوْا جَمِیْعًا کَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَانِ وَلِکُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَیْنِ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ۔ (مسند احمد: ۸۲۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

مروان بن حکم نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیاکہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے پوچھا: کب؟ انھوں نے کہا: غزوہ نجد کے موقع پر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے، اِس گروہ کی پشت قبلہ کی جانب تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی۔ لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ والی صف نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع کیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدے کئے تو انہی لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سجدے کئے۔ اس دوران دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدوں کے بعد (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو یہ لوگ سجدوں سے اٹھ کر دشمن کے سامنے چلے گے اور وہ گروہ اِ س گروہ کی جگہ پر (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے) آ گیا، اِن لوگوں نے آ کر (پہلی رکعت کے) رکوع اور سجدے کیے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے رہے، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت ادا کی اور ان لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رکوع اور سجدے کیے، پھر دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والا گروہ آیا اور (دوسری رکعت) کے رکوع و سجود ادا کیے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھ والے نمازی بیٹھے رہے، پھر سلام تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بھی دو رکعتیں تھیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کی بھی دو دو رکعتیں تھیں۔