Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 54 · Chapter 513

نمازِ استسقاء کے ابواب

اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے

1 hadith in this chapter

2943

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2943

Sahih

۔ (۲۹۴۳) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِالْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی اَثَرِ سَمَائٍ کَانَتْ مِنَ اللَّیْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِیْ مُؤْمِنٌ بِی کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ کَافِرٌبِی، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰہِ وَرَحْمَتِہِ فَذَالِکَ مُؤْمِنٌ بِی کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذَلِکَ کَافِرٌ بِیْ مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، یہ رات کو بارش ہونے کے بعد کا موقع تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میرے بعض بندوں نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والے اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں اور بعض ستاروں پر ایمان رکھنے والے اور میرے ساتھ کفر کرنے والے ہیں۔ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ)جس نے کہا: ہم پر اللہ کے فضل و رحمت سے بارش ہوئی ہے، وہ میرے ساتھ ایمان رکھنے والا اور ستاروں کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے یہ کہا: ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی ہے، تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔