Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 54 · Chapter 509

نمازِ استسقاء کے ابواب

جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

2931

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2931

Sahih

۔ (۲۹۳۱) عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ھَلْ کَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُ یَدَیْہِ؟ فَقَالَ: قِیْلَ لَہُ یَوْمَ جُمُعَۃٍ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَحِطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ، وَھَلَکَ الْمَالُ، قَالَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَأَیْتُ بَیَاضَ اِبْطَیْہِ فَاسْتَسْقٰی، وَلَقَدْ رَفَعَ یَدَیْہِ وَمَا نَرٰی فِی السَّمَائِ سَحَابَۃً، فَمَا قَضَیْنَا الصَّلَاۃَ حَتَّی اِنَّ قَرِیْبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَیُہِمُّہُ الرُّجُوعُ اِلٰی أَھْلِہِ، قَالَ: فَلَمَّا کَانَتِ الْجُمُعَۃُ الَّتِی تَلِیْہَا، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَہَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ وَاحْتَبَسَتِ الرُّکْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سُرْعَۃِ مَلَالَۃِ ابْنِ آدَمَ، وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔)) فَتَکَشَّطَتْ (وَفِی لفظٍ فَتَکَشَّفَتْ) عَنِ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے؟ انھوں نے کہا: کسی نے جمعہ کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول ! بارش کا قحط پڑ گیا ہے،زمین خشک ہو گئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارش کے لیے دعا مانگی۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے تھے تو آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن ابھی تک ہم نے نماز پوری نہیں کی تھی کہ (اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ) قریب گھر والے نوجوان کے لیے بھی اپنے گھر کو لوٹنا مشکل ہوگیا۔ جب اس کے بعد والا جمعہ آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھر گرنے لگ گئے ہیں اورقافلے رک گئے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آدم کے بیٹے کے جلدی اُکتا جانے پر مسکرانے لگے اور کہا: اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔ یعنی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ، نہ کہ ہمارے اوپر۔ پس مدینہ منورہ سے بادل ہٹ گئے۔

2932

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2932

Sahih

۔ (۲۹۳۲)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: اِنِّی لَقَاعِدٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ اِذْ قَالَ بَعْضُ أَھْلِ الْمَسْجِدِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حُبِسَ الْمَطَرُ فَذَکَرَ نَحْوَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)ثابت کہتے ہیں: سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جمعہ کے دن منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، مسجد والوں میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش روک دی گئی ہے، … …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کی۔

2933

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2933

Sahih

۔ (۲۹۳۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا نَادٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَمْحَلَتِ الْأَرْضُ وَقَحَطَ النَّاسُ، فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّکَ، فَنَظَرَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی السَّمَائِ وَمَا نَرٰی کَثِیْرَ سَحَابٍ فَاسْتَسْقٰی فَنَشَأَ السَّحَابُ بَعْضُہُ اِلٰی بَعْضِ، ثُمَّ مُطِرُوا حَتّٰی سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِیْنَۃِ، وَاطَّرَدَتْ طُرُقُہَا أَنْہَارًا، فَمَا زَالَتْ کَذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ الْمُقْبِلَۃِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذٰلِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَیْرُہُ، وَنَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اُدْعَ اللّٰہَ أَنْ یَحْبِسَہَا عَنَّا، فَضَحِکَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔)) فَدَعَا رَبَّہُ فَجَعَلَ السَّحَابُ یَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِیْنَۃِ یَمِیْنًا وَشِمَا لًا یُمْطِرُ مَا حَوْلَھَا وَلَا یُمْطِرُ فِیْہَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۳۷۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

(تیسری سند)سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن ایک آدمی نے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آواز دی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! بارش رک گئی ہے،زمین نباتات سے خالی ہوگئی ہے اور لوگ قحط زدہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش کی دعا کریں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا، ہم کوئی زیادہ بادل نہیں دیکھ رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کی اوربادل منشتر اور زیادہ ہونے لگے، پھر بارش برسنا شروع ہوئی،مدینہ کے ندی نالے بہنے لگے اور اس کے راستے نہروں کی طرح چلنے لگے، اگلے جمعہ تک بارش اسی طرح ہوتی رہی اور نہ رکی ۔ (اگلے جمعہ میں) وہی یا کوئی اور آدمی کھڑا ہوا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش کو روک دے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا)، نہ کہ ہم پر ۔جونہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے رب سے دعا کی، بادل پھٹ کر مدینے سے دائیں اور بائیں ہونے لگ گئے اور مدینے کے ارد گرد بارش برسانے لگ گئے اور جبکہ مدینہ میں کوئی بارش نہیں ہو رہی تھی۔

2934

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2934

Sahih

۔ (۲۹۳۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَۃٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَبَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَامَ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلَکَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِیَالُ فَادْعُ اللّٰہُ أَنْ یَسْقِیَنَا، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَیْہِ وَمَا تُرٰی فِی السَّمَائِ قَزَعَۃٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ یَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِہِ حَتّٰی رَأَیْنَا الْمَطَرَ یَتَحَادَرُ عَلٰی لِحْیَتِہِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

(چوتھی سند)سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، جمعہ کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اتنے میں ایک خانہ بدوش آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!مویشی ہلاک ہو گئے ہیں اور اہل و عیال بھوکے ہیں، اس لیے آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں پانی پلائے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی)، جبکہ آسمان میں بادل کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، پھر تو پہاڑوں کی طرح بادل جمع ہو گئے اور ابھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے نہیں اترے تھے کہ ہم نے بارش کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھا۔ (پھر بقیہ حدیث بیان کی)۔

2935

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2935

Zaeef

۔ (۲۹۳۵) عَنْ شُرَحْبِیْلِ بْنِ السِّمْطِ أَنَّہُ قَالَ لِکَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا کَعْبُ بْنَ مُرَّۃَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاحْذَرْ۔ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ وَجَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اِسْتَسْقِ اللّٰہَ لِمُضَرَ، فَقَالَ: ((اِنَّکَ لَجَرِیئٌ، أَلِمُضَرَ؟)) قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اِسْتَنْصَرْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَنَصَرَکَ وَدَعَوْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَأَجَابَکَ۔ قَالَ: فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَیْہِ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا غَیْثَا مُغِیْثًا مُرِیْعًا مَرِیْئًا طَبَقًا غَدَقًا عَاجِلًا غَیْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍّ۔)) قَالَ: فَأُجِیْبُوا، قَالَ: فَمَا لَبِثُو أَنْ أَتوْہُ فَشَکَوْا اِلَیْہِ کَثْرَۃَ الْمَطَرِ، فَقَالُوا: قَدْ تَہَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ، قَالَ: فَرَفَعَ یَدِیْہِ وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔)) قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ یَتَقَطَّعُ یَمِیْنًا وَشِمَالًا۔ (مسند احمد: ۱۸۲۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

شرجیل بن سمط نے سیّدنا کعب بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے کعب بن مرۃ! ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو اور احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: مضر قبیلے کے لیے اللہ سے بارش کی دعا کیجیے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تو بڑا جرأت مند ہے، کیا مضر کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ نے اللہ سے مدد مانگی تو اس نے آپ کی مدد کی اور آپ نے اللہ سے دعا کی تو اس نے قبول کی، (لہٰذا اب کی بار بھی دعا کر دیں)۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسا، جو سختی و پریشانی کو دور کرنے والی ،زمین کو سر سبز کرنے والی اور اچھے انجام والی ہو اور وہ عام بارش ہو اور زیادہ پانی والی ہو، وہ جلدی آنے والی ہو، دیر کرنے والی نہ ہو، نفع دینے والی ہو، نقصان دینے والی نہ ہو۔ پس لوگوں کا مطالبہ پورا ہو گیا اور وہ جلدی ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس (دوبارہ) پہنچے اور بارش کی کثرت کی شکایت کرتے ہوئے کہنے لگے: گھر گرنے لگ گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، نہ کہ ہم پر۔ بادل پھٹ کر دائیں بائیں ہونا شروع ہو گئے۔