Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 51 · Chapter 476

نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب

جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان

18 hadiths in this chapter

2757

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2757

Sahih

۔ (۲۷۵۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ فِی حَدِیْثِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ۔ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ رَاحَ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا، قَالَ اِسْحَاقُ أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ أَقْبَلَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِکَۃُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّکْرَ۔ (مسند احمد: ۹۹۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح کا غسل کیا،پھر وہ مسجد کی طرف چلا، (اور پہلی گھڑی میں پہنچ گیا)تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی پیش کی، جو شخص دوسری گھڑی میں پہنچا، اس نے گویا کہ ایک گائے کی قربانی پیش کی، جو آدمی تیسری گھڑی میں پہنچا تو اس نے گویا کہ سینگوں والے ایک مینڈھے کی قربانی کی، جو شخص چوتھی گھڑی میں مسجد میں پہنچا تو گویا کہ اس نے ایک مرغی کی قربانی کی اور جو پانچویں گھڑی میں پہنچا تو اس نے گویا کہ ایک انڈے کی قربانی پیش کی، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے بھی (آگے) آ کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔

2758

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2758

Sahih

۔ (۲۷۵۸)(وَعَنْہُ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُہَجِّرُ اِلَی الْجُمُعَۃِ کَالْمُہْدِی بَدَنَۃً ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہِ کَالْمُہْدِی بَقَرَۃً، وَالَّذِی یَلِیْہِ کَالْمُھْدِی کَبْشًا‘‘ حَتّٰی ذَکَرَ الدَّجَاجَۃَ وَالْبَیْضَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۲۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کی طرف جلدی جلدی جانے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا۔

2759

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2759

Sahih

۔ (۲۷۵۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلٰی یَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا تَفْزَعُ لِیَوْمِ الْجُمُعَۃِ اِلَّا ھٰذَیْنِ الثَّقَلَیْنِ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَکَانِ یَکْتُبَانِ (وَفِی لَفْظٍ مَلَائِکَۃٌ یَکْتُبُوْنَ) الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ طَائِرًا، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَیْضَۃً، فَاِذَا قَعَدَ الاِْمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند احمد: ۷۶۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج ایسے دن پر طلوع ہوتا ہے نہ غروب، جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، ہر جانور جمعہ کے دن گھبرایا ہوا ہوتا ہے، سوائے ان دو جماعتوں جن و انس کے، اس دن کو مسجدکے دروازوں میں سے ہر دروازے پر لکھنے والے دو فرشتے ہوتے ہیں، جو پہلے پہلے آنے والوں کو لکھتے ہیں، پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا پرندے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو صحائف کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔

2760

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2760

Sahih

۔ (۲۷۶۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ قَعَدَتِ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَیَکْتُبُوْنَ النَّاسَ مَنْ جَائَ مِنَ النَّاسِ عَلٰی مَنَازِلِھِمْ فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُوْرًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ عُصْفُورًا وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَیْضَۃً، قَالَ فَاِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَجَلَسَ الْاِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ طُوِیَتِ الصُّحُفُ وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور (مسجد میں آنے کے لحاظ سے) لوگوں کے مراتب کے مطابق ان کا اندراج شروع کر دیتے ہیں، پس پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی، اس کے بعد آنے والا مرغی کی قربانی، اس کے بعد آنے والا چڑیا کی قربانی اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی پیش کرتا ہے، (یعنی اِن کو ان قربانیوں کے برابر ثواب ملتا ہے) ۔ پھر جب مؤذن اذان کہتا ہے اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ لیے جاتے ہیں اور فرشتے مسجد میں داخل ہو کر (خطبے والا) ذکر سننے لگ جاتے ہیں ْ‘‘

2761

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2761

Zaeef

۔ (۲۷۶۱) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ خَرَجَ الشَّیَاطِیْنُ یُرَبِّثُوْنَ النَّاسَ اِلَی أَسْوَاقِہِمْ وَمَعَہُمُ الرَّایَاتُ وَتَقْعُدُ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ مَنَازِلِھِمْ، السَّابِقَ وَالْمُصَلِّیَ وَالَّذِی یَلِیْہِ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْاِمَامٍ وَأَنْصَتَ وَاسْتَمعَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَاٰی عَنْہُ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْاِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ یُنْصِتْ وَلَمْ یَسْتَمِعْ کَانَ عَلَیْہِ کِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ وَمَنْ نَاٰی عَنْہُ فَلَغَا وَلَمْ یُنْصِتْ وَلَمْ یَسْتَمِعْ کَانَ عَلَیْہِ کِفْلٌ مِنَ الْوِزْرَ، وَمَنْ قَالَ صَہْ فَقَدْ تَکَلَّمَ، وَمَنْ تَکَلَّمَ فَـلَا جُمُعَۃَ لَہُ، ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں کی طرف روک دیتے ہیں، جبکہ فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کے مرتبے کے مطابق لکھنا شروع کر دیتے ہیں، یعنی سب سے پہلے آنے والا، پھر دوسرے نمبر پر آنے والا، پھر اس کے بعد آنے والا، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے، پس جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، خاموشی سے اور غور سے خطبہ سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو امام سے دور ہو کر بیٹھا،لیکن اس نے غور سے خطبہ سنا،خاموشی سے بیٹھا رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ اور جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، لیکن لغو کام کیا اور خاموشی سے بیٹھا نہ غور سے خطبہ سنا، تو اس پر دو حصے گناہ ہے، اور جو امام سے دور بیٹھا،لغو کام کیا، خاموشی اختیار کی نہ غور سے خطبہ سنا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ ہے اور جس نے کسی کو کہا کہ خاموش ہوجا پس اس نے کلام کیا اور جس نے کلام کیا اس کا کوئی جمعہ نہیں۔ پھر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح فرماتے سنا۔

2762

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2762

Zaeef

۔ (۲۷۶۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلَی مَنَازِلِھِمْ، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، جَائَ فُلَانٌ فَأَدْرَکَ الصَّلَاۃَ وَلَمْ یُدْرِکِ الْجُمُعَۃَ اِذَا لَمْ یُدْرِکِ الْخُطْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور مراتب کے لحاظ سے لوگوں کا اندراج کرتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی میں اور فلاں فلاں ٹائم پر آیا اور فلاں اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا اور فلاں نے نماز تو پالی لیکن جمعہ نہ پا سکا، کیونکہ اس سے خطبہ رہ گیا تھا۔

2763

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2763

Sahih

۔ (۲۷۶۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ ثَـلَاثَۃٌ، رَجُلٌ حَضَرَھَا بِدُعَائٍ وَصَلَاۃٍ، فَذٰلِکَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّہُ اِنْ شَائَ أَعْطَاہُ وَاِنْ شَائَ مَنَعَہُ، وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِسُکوتٍ وَاِنْصَاتٍ فَذٰلِکَ ھُوَ حَقُّہَا، وَرَجُلٌ یَحْضُرُھَا بِاللَّغْوٍ فَذٰلِکَ حَظُّہُ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں، ایک آدمی (درانِ خطبہ) دعا اور نماز کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، (ایسے شخص کا حکم یہ ہے کہ) اس نے اپنے رب سے دعا کی ہے، اگر اس نے چاہا تو دے دے گا اور چاہا تو نہیں دے گا، دوسرا آدمی سکوت اور خاموشی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی لغو کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، پس اس کا حصہ تو یہی (لغو کام) ہی ہوتا ہے۔

2764

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2764

Sahih

۔ (۲۷۶۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ): وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِاِنْصَاتٍ وَسُکُوتٍ وَلَمْ یَتَخَطَّ رَقَبَۃَ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُؤْذِ أَحَدًا فَھِیَ کَفَّارَۃٌ لَہُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِی تَلِیْہَا وَزِیَادَۃُ ثَـلَاثَۃِ اِیَّامٍ، فَاِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: {مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِھَا‘‘} (مسند احمد: ۷۰۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)اور ایک وہ آدمی ہے، جو خطبہ میں خاموشی و سکوت کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو تکلیف دیتا ہے، تو ایسا جمعہ اس کے لیے اگلے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جو نیکی کرے گا، اس کو دس گناہ اجر ملے گا۔

2765

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2765

Sahih

۔ (۲۷۶۵) عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَہُ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَرَأَی غُلَامًا فَقَالَ لَہُ: یَا غُلَامُ! اذْھَبْ، الْعَبْ، قَالَ: اِنَّمَا جِئْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ، قَالَ: یَا غُلَامُ! اِذْھَبْ! اِلْعَبْ، قَالَ: اِنَّمَا جِئْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَتَقْعُدُ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَجِیْئُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَتَقْعُدُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَیَکْتُبُونَ السَّابِقَ وَالثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالنَّاسَ عَلٰی مَنَازِلِھِمْ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو ایوب کہتے ہیں: میں جمعہ کے دن سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا اور اسے کہا: اے لڑکے! جاؤ اورکھیلو، لیکن اس نے کہا: میں تو مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پھر کہا: لڑکے! جاؤ اور کھیلو، لیکن اس نے پھر کہا: میں مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پوچھا: تو امام کے نکلنے تک بیٹھا رہے گا؟اس نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ فرشتے جمعہ کے دن آکر مسجدوں کے دروازوں پربیٹھ جاتے ہیں اورسب سے پہلے آنے والے، پھر دوسرے نمبر پر اورپھر تیسرے نمبر پر آنے والے لوگوں کو ان کے مرتبوں کے مطابق لکھتے ہیں، حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے۔ جب امام نکل آتاہے تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔

2766

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2766

Sahih

۔ (۲۷۶۶) عَنْ أَبِی غَالِبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَقْعُدُ الْمَلَائِکَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، مَعَہُمُ الصُّحُفُ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! لَیْسَ لِمَنْ جَائَ بَعْدَ خُرُوْجِ الْاِمَامِ جُمُعَۃٌ؟ قَالَ: بَلٰی وَلٰکِنْ لَیْسَ مِمَّنْ یُکْتَبُ فِی الصُّحُفِ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوغالب کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، ان کے پاس صحیفے ہوتے ہیں، وہ ان میں لوگوں کا اندراج کرتے ہیں، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ !جو شخص امام کے نکلنے کے بعد آئے اس کا جمعہ نہیں ہوتا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا، جو صحیفوں میں لکھے جاتے ہیں۔

2767

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2767

Sahih

۔ (۲۷۶۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ قَالَ: لَحِقَنِیْ عَبَایَۃُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ وَأَنَا رَائِحٌ اِلَی الْمَسْجِدِ اِلَی الْجُمُعَۃِ مَاشِیًا وَھُوَ رَاکِبٌ، قَالَ: اَبْشِرْ فَاِنِّی سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَہُمَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۶۰۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن ابی مریم کہتے ہیں:میں جمعہ کے لیے مسجد کی طرف پیدل جا رہا تھا،مجھے عبایۃ بن رافع ملے، جبکہ وہ سواری پر تھے، وہ کہنے لگے: خوش ہوجا، میں نے سیّدنا ابوعبس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کے قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوئے، اللہ ان کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔

2768

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2768

Sahih

۔ (۲۷۶۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ فِی الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَلْیَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ اِلٰی غَیْرِہِ)) (مسند احمد: ۴۸۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کے دن تم میں سے کسی کو مسجد میں نیند آنے لگے تو وہ اس جگہ سے منتقل ہو کر کسی اور مقام پر بیٹھ جائے ۔

2769

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2769

Sahih

۔ (۲۷۶۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُقِیْمُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ثُمَّ یُخَالِفُہُ اِلَی مَقْعَدِہِ وَلٰکِنْ لِیَقُلِ افْسَحُوا۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے، کہ وہ خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے، اسے چاہیے کہ وہ یوں کہہ دے کہ کھلے ہو جاؤ۔

2770

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2770

Zaeef

۔ (۲۷۷۰) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِی الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الَّذِی یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیُفَرِّقُ بَیْنَ الْاِثْنَیْنِ بَعْدَ خُرُوجِ الْاِمَامِ کَالْجَارِّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۵۵۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ارقم بن ابی ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابی تھا، بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک وہ شخص جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اور امام کے نکلنے کے بعد دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق ڈالتا ہے تو وہ شخص ایسے شخص کی طرح ہے جو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہو۔

2771

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2771

Zaeef

۔ (۲۷۷۱) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیْہِ (مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَخَطَّی الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اُتُّخِذَ جِسْرًا اِلٰی جَہَنَّمَ)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن مسلمانوں کی گردنیں پھلانگی، اس کو جہنم کی طرف ایک پل بنا دیا جائے گا۔

2772

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2772

Sahih

۔ (۲۷۷۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ’’زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ‘‘ وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَقَالَ: ((اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ وَآنَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: بیٹھ جا، تو نے لوگوں کو تکلیف دی ہے اور تاخیر سے آیا ہے۔

2773

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2773

Sahih

۔ (۲۷۷۳) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ نَھٰی عَنِ الْحَبْوَۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کے دن حبوہ سے منع فرمایا ہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو۔

2774

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2774

Sahih

۔ (۲۷۷۴) عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ أَبَاہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَقَعَدَ فِی الشَّمْسِ، قَالَ: فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ أَوْ قَالَ فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یَتَحَوَّلَ اِلَی الظِّلِّ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو حازم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ آیا اور دھوپ میں بیٹھ گیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کیا یا حکم دیا کہ وہ سائے کی طرف منتقل ہو جائے۔