Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 51 · Chapter 472

نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب

جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے

11 hadiths in this chapter

2711

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2711

Sahih

۔ (۲۷۱۱) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَحْنُ الْآخِرُوْنَ وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّ کُلَّ أُمَّۃٍ أُوتِیَتِ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِھِمْ، ثُمَّ ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِی کَتَبَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ، فَھَدَانَا اللّٰہُ لَہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ فَلِلْیَہُوْدِ غَدًا وَلِلنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ۔)) قَالَ أَحَدُھُمَا: بَیْدَ أَنَّ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: بِأَیْدٍ۔ (مسند احمد: ۷۳۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم (دنیا میں تو) آخری ہیں، لیکن قیامت والے دن (حساب کتاب میں) پہلے ہوں گے، ہاں یہ بات تو ہے کہ ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد۔ پھر یہ جو دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو ان پر بھی فرض کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑ گئے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی ہدایت دے دی تو لوگ اس بارے میں ہمارے تابع ہیں، اس طرح کہ یہودیوں کو کل ملا اور عیسائیوں کو (اِس سے بھی اگلا دن اتوار) ملا۔ ایک راوی نے بَیْدَ أَنَّ کہا اور دوسرے نے بِأَیْدٍ کہا۔

2712

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2712

Sahih

۔ (۲۷۱۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) ((فَاخْتَلَفُوا فِیْہِ فَجَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا عِیدًا، فَالْیَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْیَہُوْدِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ نے اس (جمعہ کے دن) کو ہمارے لیے عید بنا دیا۔ پس آج (جمعہ کا دن) ہمارا ہے، کل (ہفتہ کا دن) یہود کے لیے ہے اور پرسوں (اتوار کا دن) عیسائیوں کے لیے ہے۔

2713

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2713

Sahih

۔ (۲۷۱۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْجُمُعَۃَ عَلٰی مَنْ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فِیْہَا وَھَدَانَا اللّٰہُ لَھَا فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہَا تَبَعٌ، غَدًا لِلْیَہُوْدِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارٰی)) (مسند احمد: ۷۲۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

(تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والے لوگوں پر بھی جمعہ فرض تو کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس معاملے میں ہدایت دی، پس لوگ ہمارے تابع ہیں۔ کل (ہفتے کا دن) یہودیوں کے لیے ہے اور پرسوں(اتوار کا دن)عیسائیوں کے لیے۔

2714

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2714

Sahih

۔ (۲۷۱۴)عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا شَہِدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ وَھُوَ عَلٰی أَعْوَادِ مِنْبَرِہِ: ((لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِہِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَیَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَلَیُکْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر اور سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس بات پر شہادت دی کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر کی لکڑیوں پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ضرور ضرور ایسے ہو گا کہ یا تو لوگ جمعہ ترک کرنے سے باز آ جائیں گے، یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے اور غافلوں میں سے لکھ لیے جائیں گے۔

2715

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2715

Sahih

۔ (۲۷۱۵) عَنْ جَعْفَرٍ ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاۃِ فَتُقَامَ ثُمَّ أَخْرُجَ بِفِتْیَانِیْ مَعَہُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ فَأُحَرِّقَ عَلٰی قَوْمٍ فِی بُیُوْتِہِمْ یَسْمَعُوْنَ النِّدَائَ ثُمَّ لَا یَأْتُوْنَ الصَّلَاۃَ۔)) فَسُئِلَ یَزِیْدُ: فِی الْجُمُعَۃِ ھٰذَا أَمْ فِی غَیْرِھَا؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَ یَذْکُرُ جُمُعَۃً وَلَا غَیْرَھَا اِلَّا ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۰۹۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ نماز کا حکم دوں، پس وہ کھڑی کر دی جائے اور میں جوانوں کے ساتھ نکل جاؤں، ان کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، پھر میں ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دوں جو اذان سنتے ہیں، لیکن نماز ادا کرنے کے لیے نہیں آتے۔ یزید راوی سے پوچھا گیا کہ یہ وعید جمعہ کے بارے میں تھی یا دوسری نمازوں کے متعلق؟ انھوں نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور نماز کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔

2716

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2716

Sahih

۔ (۲۷۱۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِقَوْمٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ: ((لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلٰی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ بُیُوْتَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۸۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کی نماز سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے بارے میں فرمایا: میں نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ کسی آدمی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور میں خود ان آدمیوں سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں۔

2717

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2717

Sahih

۔ (۲۷۱۷) عَن ْجَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَـلَاثَ مِرَارٍ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیرتین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔

2718

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2718

Sahih

۔ (۲۷۱۸) عَنْ أَبِی الْجَعْدِ الضَّمْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَرَکَ ثَـلَاثَ جُمَعٍ تَہَاوُنًا مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی قَلْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالجعد ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو صحابی تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیر اور سستی کرتے ہوئے تین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔

2719

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2719

Sahih

۔ (۲۷۱۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔

2720

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2720

Zaeef

۔ (۲۷۲۰) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُحْضُرُوا الْجُمُعَۃَ وَادْنُوا مِنَ الْاِمَامِ، فَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَخَلَّفُ عَنِ الْجُمُعَۃِ حَتّٰی اِنَّہُ لَیَتَخَلَّفُ عَنِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّہُ لَمِنْ أَھْلِہَا)) (مسند احمد: ۲۰۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو، یقینا ایک آدمی جمعہ سے پیچھے رہنا شروع کر دیتا ہے، حتی کہ اسے جنت سے پیچھے کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ جنتی لوگوں میں سے ہوتا ہے۔

2721

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2721

Zaeef

(۲۷۲۱) عَنْ سَمُرَۃَ بِنْ جُنْدُبِ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِّی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : ((مَنْ تَرَکَ جُمُعَۃً فِی غَیْرِ عُزْرِ فَلْیَتَصَدَّقْ بِدِیْنَارِ فَاِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِنِصْفِ دِیْنَارِ .)) (مسند احمد : ۲۰۳۴۷) ۔ (۲۷۲۱) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَّخِذُ أَحَدُکُمُ السَّائِمَۃَ فَیَشْہَدُ الصَّلَاۃَ فِی جَمَاعَۃٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ فَیَقُوْلُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِی مَکَانًا ھُوَ أَکْلَأُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ وَلَا یَشْہَدُ اِلَّا الْجُمُعَۃَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ، فَیَقُوْلُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِی مَکَانًا ھُوَ أَکْلَأُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ فَـلَا یَشْہَدُ الْجُمُعَۃَ وَلَا الْجَمَاعَۃَ فَیُطْبَعُ عَلٰی قَلْبِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’جو عذر کے بغیر جمعہ ترک کر دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے ، اگر اس کے پاس اتنا نہ ہو تو نصف دینار دے دے ۔‘‘ سیّدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے جانور رکھ لیتا ہے اور (شروع شروع میں) نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر جب اس کے جانوروں کو (چرنے کی چیزوں کی) کمی کا شکوہ ہونے لگتا ہے، تو وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے لیے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، سو وہ منتقل ہو کر (دور چلا جاتا ہے) اور صرف جمعہ کی نماز کے لیے حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے جانور(چرنے کی چیزوں کی کمی کا) عذر پیش کرنے لگتے ہیں، پس وہ کہنے لگتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے لیے اس سے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، پھر وہ جگہ بدل لیتا ہے اور (اتنا دور چلا جاتا ہے کہ) جمعہ کے لیے حاضر ہوتا ہے نہ جماعت کے لیے، اس وجہ سے اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔