Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2711
۔ (۲۷۱۱) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((نَحْنُ الْآخِرُوْنَ وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ أَنَّ کُلَّ أُمَّۃٍ أُوتِیَتِ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِینَاہُ مِنْ بَعْدِھِمْ، ثُمَّ ھٰذَا الْیَوْمُ الَّذِی کَتَبَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِمْ فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ، فَھَدَانَا اللّٰہُ لَہُ فَالنَّاسُ لَنَا فِیْہِ تَبَعٌ فَلِلْیَہُوْدِ غَدًا وَلِلنَّصَارَی بَعْدَ غَدٍ۔)) قَالَ أَحَدُھُمَا: بَیْدَ أَنَّ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: بِأَیْدٍ۔ (مسند احمد: ۷۳۹۳)
اردو ترجمہ · Urdu
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم (دنیا میں تو) آخری ہیں، لیکن قیامت والے دن (حساب کتاب میں) پہلے ہوں گے، ہاں یہ بات تو ہے کہ ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد۔ پھر یہ جو دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو ان پر بھی فرض کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑ گئے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی ہدایت دے دی تو لوگ اس بارے میں ہمارے تابع ہیں، اس طرح کہ یہودیوں کو کل ملا اور عیسائیوں کو (اِس سے بھی اگلا دن اتوار) ملا۔ ایک راوی نے بَیْدَ أَنَّ کہا اور دوسرے نے بِأَیْدٍ کہا۔