Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 50 · Chapter 468

جماعت کے احکامات کے متعلق بیان

جس سے کچھ نماز رہ گئی ہو، وہ کیا کرے؟ اس کا بیان

4 hadiths in this chapter

2691

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2691

Sahih

۔ (۲۶۹۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّاسُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا سُبِقَ الرَّجُلُ بِبَعْضِ صَلَاتِہِ سَأَلَھُمْ فَأَوْمَؤُوْا اِلَیْہِ بِالَّذِی سُبِقَ بِہِ مِنَ الصَّلَاۃِ فَیَبْدَأُ فَیَقْضِیْ مَا سُبِقَ ثُمَّ یَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِی صَلَاتِہِمْ، فَجَائَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ وَالْقَوْمُ قُعُوْدٌ فِی صَلَاتِہِمْ فَقَعَدَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ فَقَضٰی مَا کَانَ سُبِقَ بِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِصْنَعُوا کَمَا صَنَعَ مُعَاذٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں جب کسی آدمی سے کچھ نماز رہ جاتی تو وہ آکر (پہلے والے نمازیوں)سے سوال کر لیتا (کہ کتنی رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں)، وہ اس کو اشارے سے بتا دیتے، پھر وہ شروع ہوتا اور پہلے اُتنی رکعتیں پڑھ کر پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاتا۔ ایک دن یوں ہوا کہ میں (معاذ) آیا اور لوگ نماز (کے تشہد) میں بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی بیٹھ گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو میں کھڑا ہوا جو (رکعتیں) رہ گئی تھیں، وہ پڑھیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس طرح معاذ نے کیا ہے تم بھی (آئندہ) ایسے ہی کیا کرو۔

2692

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2692

Sahih

۔ (۲۶۹۲) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ أَبِیْہِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَتَبَرَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَجَعَ اِلَیَّ وَمَعِی الْاِدَاوَۃُ قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلٰی یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اسْتَنْثَرَ قَالَ یَعْقُوْبُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَغْسِلَ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُخْرِجَہُمَا مِنْ کُمَّیْ جُبَّتِہِ، فَضَاقَ عَنْہُ کُمَّاھَا فَأَخْرَجَ یَدَہُ مِنَ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَمَسَحَ بِخُفَّیْہِ وَلَمْ یَنْزَعْہُمَا، ثُمَّ عَمَدَ اِلَی النَّاسِ فَوَجَدَھُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ یُصَلِّی بِہِمْ، فَأَدْرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ فَصَلّٰی مَعَ النَّاسِ الرَّکْعَۃَ الْآخِرَۃَ بِصَلَاۃِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُتِمُّ صَلَاتَہُ فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِیْنَ فَأَکْثَرُوا الْتَّسْبِیْحَ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ۔)) یَغْبِطُہُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر میری طرف لوٹے، میرے پاس ایک چھوٹا سا برتن تھا، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھوں پر پانی بہایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی ڈال کر ناک صاف کیا، یعقوب راوی نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلی کی، اس کے بعد چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبّہ کی آستینوں سے ہاتھ نکالے بغیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بازوؤں کو دھونا چاہا، لیکن آستینیں تنگ تھیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو جبہ (کے اندر) سے نکال کر پہلے تین دفعہ دایاں اور پھر تین دفعہ بایاں ہاتھ دھویا، پھر موزوں کا مسح کیا اور ان کو نہ اتارا، پھر وہ دونوں لوگوں کی طرف آئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آگے کر دیا تھا، وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، چونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پا لی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے اور کثرت سے تسبیح بیان کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو ان پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا ہے اور درست کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام سے رشک کر رہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اول وقت میں ادا کیا ہے۔

2693

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2693

Sahih

۔ (۲۶۹۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ قَالَ الْمُغِیْرَۃُ:) ثُمَّ لِحَقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَھَبْتُ لِأُوْذِنَہُ فَنَھَانِی (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَصَلَّیْنَا الَّتِیْ أَدْرَکْنَا وَقَضَیْنَا الَّتِی سُبِقْنَا بِہَا (وَفِی لَفْظٍ) فَصَلَّیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی أَدْرَکْنَا وَقَضَیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی سَبَقَتْنَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند، سیّدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:)پھر ہم لوگوں کو جا ملے اور دیکھا کہ نماز کھڑی کردی گئی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کی امامت کرا رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے، میں ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بتانے کے لیے جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منع کردیا، پس ہم نے جتنی نماز پالی اس کو پڑھا اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: جس رکعت کو ہم نے پالیا اس کو پڑھ لیا اور جو رکعت رہ گئی تھی، اس کو (بعد میں) پورا کرلیا۔

2694

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2694

Sahih

۔ (۲۶۹۴)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ أَیْضًا وَفِیْہِ قَالَ الْمُغِیْرَۃُ) فَانْتَہَیْنَا اِلَی الْقَوْمِ وَقَدْ صَلّٰی بِھِمْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ ابْنُ عَوْفٍ رَکْعَۃً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَھَبَ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ أَنْ یُتِمَّ الصَّلَاۃَ وَقَالَ: ((قَدْ أَحْسَنْتَ کَذٰلِکَ فَافْعَلْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

(تیسری سند، اسی طرح حدیث مروی ہے، اس کے مطابق سیّدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:)پس جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کو ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو محسوس کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز کو پورا کریں اور (بعد میں) فرمایا: تونے اچھا کیا ، ایسے ہی کیا کرو۔