Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 50 · Chapter 466

جماعت کے احکامات کے متعلق بیان

جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے

7 hadiths in this chapter

2682

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2682

Sahih

۔ (۲۶۸۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ أَوِ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا أَوِ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْہِہِ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلَیْنِ مِنْ وَرَائِ النَّاسِ لَمْ یُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: ((اِئْتُونِیْ بِہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ۔)) فَأُتِیَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا، فَقَالَ: ((مَا مَنَعَکُمَا أَنْ تُصَلِّیَا مَعَ النَّاسِ؟)) قَالَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا کُنَّا قَدْ صَلَّیْنَا فِی الرِّحَالِ۔ قَالَ: ((فَـلَا تَفْعَلَا، اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فِی رَحْلِہ ثُمَّ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ مَعَ الْاِمَامِ فَلْیُصَلِّہَا مَعَہُ فَاِنَّہا لَہُ نَافِلَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ أَحَدُھُمَا: اِسْتَغْفِرْلِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاسْتَغْفَرَ لَہُ، قَالَ: وَنَہَضَ النَّاسُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَہَضْتُ مَعَہُمْ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُہُ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتّٰی وَصَلْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخَذْتُ بِیَدِہِ فَوَضَعْتُہَا اِمَّا عَلٰی وَجْھِی أَوْ صَدْرِی، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُّ شَیْئًا أَطْیَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ یَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا یزید بن اسود کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ادا کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور جب لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے تو دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو آدمی بیٹھے ہیں، انھوں نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ ان دونوں آدمیوں کو لایا گیا، جبکہ ان کے شانوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آئندہ ایسے نہ کرنا اور جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے اور پھر وہ امام کے ساتھ نماز کوپالے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرے، یہ اس کے لیے نفل بن جائے گی ۔ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے استغفار کیا۔ پھر لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اٹھے اورمیں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں بہترین جوان اور قوی تھا، اس لیے میں لوگوں کو ہٹاتا ہوا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچ گیا، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ سے عمدہ اور ٹھنڈی ہو، اس دن آپ (منی میں) مسجد خیف میں تھے۔

2683

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2683

Sahih

۔ (۲۶۸۳) عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَجَلَسْتُ،فَلَمَّا صَلّٰی، قَالَ لِیْ: ((أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟)) قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: قَدْ صَلَّیْتُ فِی أَھْلِی، قَالَ: ((فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: اِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَلَوْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ فِی أَھْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا محجن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن میں بیٹھا رہا (اور نماز نہ پڑھی)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکے رکھا؟ میں نے کہا: جی، میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نماز پڑھا کر۔ اور ایک روایت میں ہے: جب تو آئے تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کر، اگرچہ تو اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو۔

2684

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2684

Sahih

۔ (۲۶۸۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ مِحْجَنًا کَانَ فِی مَجْلِسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأُذِّنَ بِالصَّلَاۃِ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِہِمْ ثُمَّ رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمِحْجَنٌ فِی مَجْلِسِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟)) وَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)سیّدنا محجن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجلس میں تھا، جب نماز کے لیے اذان ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹے تو دیکھا کہ محجن اسی جگہ میں بیٹھا ہوا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے،کیا تو مسلمان نہیں ہے۔ … …۔ (سابقہ حدیث کی طرح)

2685

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2685

Sahih

۔ (۲۶۸۵) عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ عَلِیٍّ الْأَسْلَمِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الدِّیْلِ قَالَ: صَلَّیْتُ الظُّھْرَ فِی بَیْتِی، ثُمَّ خَرَجْتُ بِأَبَاعِرَ لِیْ لِأُصْدِرَھَا اِلَی الرَّاعِی، فَمَرَرْتُ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ الظُّہْرَ فَمَضَیْتُ فَلَمْ أُصَلِّ مَعَہُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِی وَرَجَعْتُ ذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ لِیْ: ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلَانُ! أَنْ تُصَلِّیَ مَعَنَا حِیْنَ مَرَرْتَ بِنَا؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اِنِّی قَدْ کُنْتُ صَلَّیْتُ فِی بَیْتِیْ قَالَ: ((وَاِنْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

حنظلہ بن علی اسلمی،بنو الدیل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے گھر میں نماز ظہر ادا کی، پھر میں اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ ان کو چرواہے کی طرف لے جاؤں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے، میں تو وہاں سے گزرگیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب میں اونٹوں کو آگے بڑھا کر واپس لوٹا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلا دی گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے فلاں! جب تو ہمارے پاس سے گزرا تھا تو کس چیز نے تجھے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے گھر میں نمازپڑھ لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ (تو گھر میں نماز پڑھ چکا تھا، لیکن جب امام کے ساتھ نماز مل جائے تو دوبارہ پڑھ لیا کر)۔

2686

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2686

Sahih

۔ (۲۶۸۶) عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ الْبَرَّائِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِیَادٍ الصَّلَاۃَ فَأَتَانِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَیْتُ لَہُ کُرْسِیًّا فَجَلَسَ عَلَیْہِ فَذَکَرْتُ لَہُ صَنِیْعَ بْنِ زِیَادٍ فَعَضَّ عَلٰی شَفَتِہِ وَضَرَبَ فَخِذِیْ وَقَالَ: اِنِّی سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ کَمَا سَأَلْتَنِیْ فَضَرَبَ فَخِذِی کَمَا ضَرَبْتُ عَلٰی فَخِذِکَ وَقَالَ: اِنِّی سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا سَأَلْتَنِیْ وَضَرَبَ فَخِذِیْ کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ فَقَالَ: ((صَلِّ الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا، فَاِنْ أَدْرَکَتْکَ مَعَہُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ اِنِّی قَدْ صَلَّیْتُ وَلَا أُصَلِّی۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالعالیہ براء کہتے ہیں: ایک دن ابن زیاد نے نماز کو مؤخر کیا، میرے پاس عبد اللہ بن صامت آئے، میں نے ان کے لیے کرسی رکھی اور وہ اس پر بیٹھ گئے، پھرمیں نے ان سے ابن زیاد کی یہ تاخیر ذکر کی، انہوں نے جواباً اپنے ہونٹ پر کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں نے سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا تھا اور انہوں نے بھی میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا، جیسے میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا تھا: بے شک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تیرے سوال کی طرح سوال کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری ران پر مارا تھا جیسے میں نے تیری ران پر مارا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاتھا: اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا، لیکن اگر تو ان (حکمرانوں) کے ساتھ بھی نماز کو پا لے تو پھر نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اس لیے میں نہیں پڑھتا۔

2687

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2687

Sahih

۔ (۲۶۸۷) عَنْ أَبِی أُبَیِّ بْنِ امْرَأَۃِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ ابْنِ الصَّامتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَشْغَلُہُمْ أَشْیَائُ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی یُؤَخِّرُوھَا عَنْ وَقْتِہَا، فَصَلُّوْھَا لِوَقْتِہَا (وَفِی رِوَایَۃٍ: ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَکُمْ مَعَہُمْ تَطَوُّعًا) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنْ أَدْرَکْتُہَا مَعَہُمْ أُصَلِّی؟ قَالَ: ((اِنْ شِئْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے، جن کو دوسرے امور نمازوں سے مشغول کردیں گے یہاں تک کہ وہ اِن کو ان کے اوقات سے مؤخر کر دیں گے، (ایسی صورت میں) تم لوگ نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اورپھر ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفل قرار دینا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! پھر اگر میں ان کے ساتھ نماز پالوں تو (دوبارہ) پڑھ لوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے (تو پڑھ لینا)۔

2688

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2688

Sahih

۔ (۲۶۸۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ نُصَلِّی مَعَہُمْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: قَالَ أَبِی رَحِمَہُ اللّٰہُ: وَھٰذَا ھُوَ الصَّوَابُ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) اسی طرح کی مروی حدیث میں ہے: ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پھر ہم ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ۔عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ (امام احمد علیہ السلام ) نے کہا: اور یہ ہی بات درست ہے۔