Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 5 · Chapter 51

کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

328

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #328

Sahih

۔ (۳۲۸)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْروٍ السُّلَمِیُّ وَحُجْرُبْنُ حُجْرٍ الْکَلَاعِیُّ قَالَ: أَتَیْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَۃَ (ؓ) وَھُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِیْہِ: {وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ} فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَیْنَاکَ زَائِرِیْنَ وَ عَائِدِیْنَ وَمُقْتَبِسِیْنَ، فَقَالَ عِرْبَاضٌ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ ذَاتَ یَوْمٍ، ثُمَّ أقَبْلَ عَلَیْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوْبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کأَنَّ ہٰذِہِ مَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْہَدُ اِلَیْنَا؟ فَقَالَ: ((أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَاِنْ کَانَ حَبَشِیًّا، فَاِنَّہُ مَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرٰی اخْتِلَافًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ، فَتَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ وَاِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد الرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی کہتے ہے: ہم سیدنا عرباض بن ساریہ ؓ کے پاس گئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لیے کچھ بھی نہیں پاتا۔ (سورۂ توبہ: ۹۲) ہم نے ان کو سلام کیا اور کہا: ہم آپ کی زیارت اور تیماری داری کرنے کے لیے اور آپ سے علمی استفادہ کرنے کے لیے آئے ہیں، سیدنا عرباض ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک دن ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور ہمیں اتنا مؤثر و بلیغ وعظ کیا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے، ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے، پس آپ ہمیں کون سی نصیحت کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم کو اللہ کے ڈر اور (امراء کی باتیں) سننے اور ان کی اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی ہو، پس بیشک تم میں سے جو آدمی میرے بعد زندہ رہے گا،وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اِس پر کابند رہو اور سختی کے ساتھ اس پر قائم رہو اور نئے نئے امور سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

329

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #329

Sahih

۔ (۳۲۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وفِیْہِ قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ہٰذِہِ لَمَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْہَدُ اِلَیْنَا، قَالَ: ((قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ، لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا لَا یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْ اِلَّا ہَالِکٌ وَمَنْ یَعِشْ مِنْکُمْ (فَذَکَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِیْہِ) فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ، (وَفِیْہِ أَیْضًا) عَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ فَاِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَیْثُمَا انْقِیْدَ انْقَادَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی و عظ ونصیحت ہے، پس آپ ہمیں کیا نصیحت کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تحقیق میں تم کو ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی رات بھی دن کی طرح ہے، اب اس سے وہی گمراہ ہو گا، جو ہلاک ہونے والا ہو گا، اور جو تم میں سے زندہ رہے گا، (سابقہ حدیث کی طرح روایت کو بیان کیا)، پس تم میری جس سنت کو پہچانتے ہو گے، اس کو لازم پکڑنا، (اور اس میں یہ بھی ہے:) پس تم اس پر سختی سے قائم رہنا، پس مؤمن تو اس نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو جدھر کھینچا جاتا ہے، وہ اُدھر ہی پیچھے پیچھے چل پڑتاہے۔

330

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #330

Sahih

۔ (۳۳۰)۔عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((مَامِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ أُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ مِنْ أُمَّتِہِ حَوَارِیُّوْنَ وَ أَصْحَابٌ یَأْخُذُوْنَ بِِسُنَّتِہِ وَیَقْتَدُوْنَ بِأَمْرِہِ، ثُمَّ اِنَّہَا تَخَلَّفَ مِنْ بَعْدِہِمْ خُلُوْفٌ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَیَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْمَرُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۴۳۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی کسی امت میں مبعوث فرمایا، اس کی امت میں سے اس کے حواری ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جو کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔

331

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #331

Sahih

۔ (۳۳۱)۔عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ (ؓ) فِیْ سَفَرٍ فَمَرَّ بِمَکَانٍ فَحَادَ عَنْہُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ؟ فَقَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ھٰذَا فَفَعَلْتُ۔ (مسند أحمد: ۴۸۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس جب وہ ایک جگہ سے گزرے تو اس سے ایک طرف ہو گئے، پس ان سے سوال کیا گیا کہ انھوں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا، سو میں نے بھی کیا۔

332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #332

Sahih

۔ (۳۳۲)۔عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِیْکَرِبَ (ؓ) یَقُوْلُ: حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمَ خَیْبَرَ أَشْیَائَ، ثُمَّ قَالَ: ((یُوْشِکُ أَحَدُکُمْ أَنْ یُّکَذِّبَنِیْ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ عَلَی أَرِیْکَتِہِ یُحَدِّثُ بِحَدِیْثِیْ فیَقُوْلُ: بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، فَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاہُ وَمَا وَجَدْنَا فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاہُ، أَلَا! وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

حسن بن جابر سے مروی ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکربؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے خیبر والے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور پھر فرمایا: قریب ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مجھے جھٹلا دے، جبکہ اس نے اپنے تخت پر ٹیک لگائی ہوئی ہو اور میری حدیث بیان کرنے کے بعد کہے: ہمارے اور تمہارے مابین اللہ کی کتاب کافی ہے، پس جس چیز کو ہم اس میں حلال پائیں، اس کو حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں، اس کو حرام سمجھیں گے، خبردار! اور بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح ہیں۔

333

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #333

Sahih

۔ (۳۳۳)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَ لَا! اِنِّیْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ، أَ لَا! یُوْشِکُ رَجُلٌ یَنْثَنِیْ شَبْعَانَ عَلٰی أَرِیْکَتِہِ یَقُوْلُ: عَلَیْکُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْہُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ، أَلَا! لَا یَحِلُّ لَکُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَہْلِیْ وَلَا کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا! وَلَا لُقْطَۃٌ مِنْ مَالِ مُعَاہِدٍ اِلَّا أَنْ یَسْتَغْنِیَ صَاحِبُہَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَیْہِمْ أَنْ یَقْرُوْہُمْ، فَاِنْ لَمْ یَقْرُوْہُمْ فَعَلَیْہِمْ أَنْ یُعْقِبُوْہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مقدام بن معدیکرب ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز بھی دی گئی ہے، خبردار! قریب ہے کہ ایک آدمی سیر و سیراب ہو کر اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے: تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، پس جس چیز کو اس میں حلال پاؤ، اس کو حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ، اس کو حرام سمجھو، خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھا اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ ذمی کے مال میں سے گری پڑی چیز حلال ہے، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے مستغنی ہو جائے اور جولوگ کسی قوم کے پاس اتریں تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ضیافت کرے، اگر وہ ان کی ضیافت نہیں کرتی تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے مالوں میں سے اپنی میزبانی کے بقدر لے لیں۔

334

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #334

Sahih

۔ (۳۳۴)۔عن أَبِیْ رَافِعٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَأَعْرِفَنَّ مَا یَبْلُغُ أَحَدَکُمْ مِنْ حَدِیْثِیْ شَیْئٌ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ عَلَی أَرِیْکَتِہِ فَیَقُوْلُ: مَاأَجِدُ ھٰذَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو رافع ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں ضرور ضرور جانتا ہوں کہ تم میں سے کسی ایک کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: یہ حکم تو مجھے اللہ کی کتاب میں نہیں ملا۔

335

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #335

Zaeef

۔ (۳۳۵)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ أَتَاہُ عَنِّیْ حَدِیْثٌ وَھُوَ مُتَّکِیئٌ فِیْ أَرِیْکَتِہِ فَیَقُوْلُ: اتْلُوْا عَلَیَّ بِہِ قُرْآنًا، مَا جَائَ کُمْ عَنِّیْ مِنْ خَیْرٍ قُلْتُہُ أَوْ لَمْ أَقُلْہُ فَاَنَا أَقُوْلُہُ وَمَا أَتَاکُمْ مِنْ شَرٍّ فَاَنَا لَا أَقُوْلُ الشَّرَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تم میں سے اس شخص کو جانتا ہوں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: مجھ پر اس کے ساتھ قرآن پڑھو۔ میری حوالے سے تمہیں خیر والی جو بات پہنچے، میں نے وہ کہی ہو یا نہ کہی ہو، پس میں اس کو کہوں گا اور اگر کوئی شرّ والی بات پہنچے تو میں شرّ کہنے والا نہیں ہوں۔