Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 47 · Chapter 440

امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام

اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے

5 hadiths in this chapter

2575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2575

Zaeef

۔ (۲۵۷۵) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُصَلِّی اِذِ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِیَامٌ ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَصَلّٰی لَنَا الصَّلَاۃَ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنِّی ذَکَرْتُ أَنِّیْ کُنْتُ جُنُبًا حِیْنَ قُمْتُ اِلَی الصَّلَاۃِ لَمْ أَغْتَسِلْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْکُمْ فِی بَطْنِہِ رِزًّا أَوْ کَانَ مِثْلَ مَا کُنْتُ عَلَیْہِ فَلْیَنْصَرِفْ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِہِ أَوْ غُسْلِہِ ثُمَّ یَعُوْدُ اِلٰی صَلَاتِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے، جبکہ ہم قیام کی حالت میں تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور (فراغت کے بعد) فرمایا: جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو مجھے یاد آیا کہ میں جنبی ہوں اور غسل نہیں کیا ،(آئندہ تم یاد رکھو کہ) تم میں جو شخص اپنے پیٹ میں آواز وغیرہ محسوس کرے یا اس کے ساتھ میرا والا یہ معاملہ ہو جائے تو وہ چلا جائے اور اپنی حاجت سے یا غسل سے فارغ ہوکر اپنی نماز کی طرف لوٹے۔

2576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2576

Sahih

۔ (۲۵۷۶) عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ فَکَبَّرَ ثُمَّ أَوْمَأَ اِلَیْہِمْ أَنْ مَکَانَکُمْ ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَصَلّٰی بِہِمْ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَالَ: ((اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَاِنِّی کُنْتُ جُنُبًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز شروع کی، اللہ اکبر کہا، لیکن اچانک نمازیوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں داخل ہو گئے، پھر جب آپ باہر آئے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پس آپ نے ان کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا: بیشک میں بشر ہی ہوں، در اصل میں جنبی تھا۔

2577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2577

Sahih

۔ (۲۵۷۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر کی نماز میں داخل ہوئے اور پھر مذکورہ پوری حدیث بیان کی۔

2578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2578

Sahih

۔ (۲۵۷۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا کَبَّرَ اِنْصَرَفَ وَأَوْمَأَ اِلَیْہِمْ أَیْ کَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَائَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَصَلّٰی بِہِمْ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ((اِنِّی کُنْتُ جُنُبًا فَنَسِیْتُ أَنْ أَغْتَسِلَ۔)) (مسند احمد: ۹۷۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے آئے اور جب اللہ اکبر کہا تو (گھر کی طرف) چل دیئے اور لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی حالت پرقائم رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر چلے گئے اور غسل کر کے تشریف لائے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور جب نماز پڑھ لی تو فرمایا: میں جنبی تھا اور غسل کرنا یاد نہیں رہا تھا۔

2579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2579

Sahih

۔ (۲۵۷۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوْفَہُمْ وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ مَقَامَہُ ثُمَّ أَوْمَأَ اِلَیْہِمْ بِیَدِہِ أَنْ مَکَانَکُمْ فَخَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ وَرَأْسُہُ یَنْطُفُ فَصَلّٰی بِہِمْ۔ (مسند احمد: ۷۲۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)راوی کہتا ہے: نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور لوگوں نے صفیں بنالیں، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوئے تو اپنے ہاتھ سے اُن کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جگہ پرٹھہرے رہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے،غسل کیا اور جب دوبارہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔