Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 47 · Chapter 436

امامت کا بیان،اماموں کی صفات اور ان سے متعلقہ مزید احکام

نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان

5 hadiths in this chapter

2541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2541

Sahih

۔ (۲۵۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَکْتُوْمٍ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ مَرَّتَیْنِ یُصَلِّی بِہِمْ وَھُوَ أَعْمٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینے پر دو دفعہ اپنا نائب مقرر کیا،وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، جبکہ وہ نابینا تھے۔

2542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2542

Sahih

۔ (۲۵۴۲) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَھَبَ بَصَرُہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّیْتَ فِی دَارِیْ أَوْ قَالَ: فِی بَیْتِیْ لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاکَ مَسْجِدًا، فَجَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی فِی دَارِہِ أَوْ قَالَ فِی بَیْتِہِ ’’الحدیث‘‘ ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیّدنا عتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی نظر ختم ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، تو میں اس جگہ کو مسجد بنالوں۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔

2543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2543

Sahih

۔ (۲۵۴۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا عَلٰی حَاضِرٍ فَکَانَ الرُّکْبَانُ (وَفِی رِوَایَۃٍ فَکَانَ النَّاسُ) یَمُرُّوْنَ بِنَا رَاجِعِیْنَ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَدْنُوْ مِنْہُمْ فَأَسْمَعُ حَتّٰی حَفِظْتُ قُرْآنًا، وَکَانَ النَّاسُ یَنْتَظِرُوْنَ بِاِسْلَامِہِمْ فَتْحَ مَکَّۃَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ یَأْتِیْہِ فَیَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا وَافِدُ بَنِیْ فُلَانٍ، وَجِئْتُکَ بِاِسْلَامِھِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِی بِاِسْلَامِ قَوْمِہِ، فَرَجَعَ اِلَیْہِمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدِّمُوْا أَکْثَرَکُمْ قُرْآنًا۔)) قَالَ: فَنَظَرُوْا، وَاِنَّا لَعَلٰی حِوَائٍ عَظِیْمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِیْھِمْ أَحَدًا أَکْثَرَ قُرْآنًا مِنِّی، فَقَدَّمُوْنِی وَأَنَا غُلَامُ فَصَلَّیْتُ بِہِمْ وَعَلَیَّ بُرْدَۃٌ وَکُنْتُ اِذَا رَکَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُوا عَوْرَتِی، فَلَمَّا صَلَّیْنَا، تَقُوْلُ عَجُوْزٌ لَنَا دُھْرِیَّۃٌ: غَطُّوا عَنَّا اِسْتَ قَارِئِکُمْ، قَالَ: فَقَطَعُوْا لِی قَمِیصًا، فَذَکَرَ أَنَّہُ فَرِحَ بِہِ فَرَحًا شَدِیْدًا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عمرو بن سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم ایسی جگہ پر سکونت پذیر تھے،جہاں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے لوٹنے والے لوگ گزرتے تھے، میں ان کے قریب ہوتا اوران سے سنتا تھا، حتیٰ کہ قرآن کا کافی حصہ مجھے یاد ہو گیا، اُدھر لوگ اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے ۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے شروع ہو گئے، ایک آدمی آتا اور کہتا: میں بنو فلاں کا نمائندہ ہوں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے کے لیے آیا ہوں۔ میرے باپ بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر گئے، جب وہ اُن کی طرف لوٹے تو کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم میں قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اس کو امامت کے لیے آگے کرنا۔ پس انھوں نے دیکھا (کہ کس کو امام بنانا چاہیے) جبکہ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ ایسا آدمی نہ پا سکے، جو مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہوتا، اس لیے انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کردیا اور میں ابھی لڑکا تھا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی اور مجھ پر ایک چادر تھی، جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو کپڑا اوپر اٹھ جاتا تو میری شرمگاہ ننگی ہونے لگتی، جب ہم نے نماز پڑھ لی تو بہت زیادہ عمر والی ایک بوڑھی عورت کہتی ہے: اپنے قاری کا سرین تو ہم سے ڈھانپ لو۔ پھر انہوں نے ایک کپڑاکاٹ کر میرے لیے قمیص بنائی، جس کی وجہ سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔

2544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2544

Sahih

۔ (۲۵۴۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُمْ وَفَدُوا اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا أَرادُوا أَنْ یَنْصَرِفُوْا، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ یَؤُمُّنَا؟ قَالَ: ((أَکْثَرُکُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَکُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا جَمَعْتُ، قَالَ: فَقَدَّمُوْنِی وَأَنَا غُلَامٌ، فَکُنْتُ أَؤُمُّہُمْ وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ لِی، قَالَ: فَمَا شَہِدْتُّ مَجْمَعًا مِنْ جِرْمٍ اِلَّا کُنْتُ اِمَامَہُمْ وَأُصَلِّی عَلٰی جَنَائِزِھِمْ اِلٰی یَوْمِی ھٰذَا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)ان کے باپ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جب ہم نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم میں زیادہ قرآن یاد کرنے والا ہے۔ سیّدنا عمرو بن سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہماری قوم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کو اتنا قرآن یاد ہوتا، جتنا مجھے تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے آگے کر دیا ، جبکہ میں ابھی لڑکا تھا، میں ان کی امامت کرواتا اور مجھ پر ایک چھوٹی سی چادر ہوتی تھی۔ میں جرم (ایک علاقہ کا نام) میں جس مجمع میں حاضر ہوتا تھا، تو ان کا امام ہوتا اور آج تک میں ہی ان کے جنازے پڑھاتا رہا ہوں۔

2545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2545

Zaeef

۔ (۲۵۴۵) عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ قَالَ حَدَّثَتْنِی جَدَّتِی عَنْ أُمِّ وَرَقَۃَ بِنْتِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِیِّ وَکَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ وَکَانَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَھَا أَنْ تَؤُمَّ أَھْلَ دَارِھَا وَکَانَ لَھَا مُؤَذِّنٌ وَکَانَتْ تَؤُمُّ أَھْلَ دَارِھَا۔ (مسند احمد: ۲۷۸۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام ورقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے قرآن مجید یاد کیا ہو ا تھا ، اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کروایا کرے، پس اس کا ایک مؤذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرواتی تھی۔