Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 43 · Chapter 417

سفر میں سنن مؤکدہ کا حکم

فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان

4 hadiths in this chapter

2412

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2412

Zaeef

۔ (۲۴۱۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ فِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ وَھِیَ تَمَامٌ وَالْوِتْرُ فِی الْسَّفَرِ سُنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں دو رکعت نماز مقرر کی ہے اور یہ پوری نماز ہے اور سفر میں وتر پڑھنا سنت ہے۔

2413

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2413

Sahih

۔ (۲۴۱۳) عَنْ جَابِرٍ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُصَلِّیْ فِی السَّفَرِ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ غَیْرَ أَنَّہُ کَانَ یَتَھَجَّدُ مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: کَانَا یُوْتِرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۰)]

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر میں صرف دو رکعت نماز پڑھتے تھے، البتہ رات کو تہجد پڑھتے تھے۔ جابر نے سالم سے پوچھا: کیا (نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سفر میں وتر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

2414

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2414

Sahih

۔ (۲۴۱۴) عَنْ عِیْسَی بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ خَرْجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَصَلَّیْنَا الْفَرِیْضَۃَ فَرَآی بَعْضَ وَلَدِہِ یَتَطَوَّعُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِی الْسَّفَرِ فَلَمْ یُصَلُّوا قَبْلَہَا وَلَا بَعْدَھَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَلَوْ تَطَوَّعْتُ لَأَتْمَمْتُ۔ (مسند احمد: ۴۷۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

حفص بن عاصم کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نکلے اور (ایک مقام پر) فرض نماز ادا کی، پھر سیّدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا کہ ان کے بعض لڑکے سنتیں ادا کر رہے تھے تو کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں، انھوں نے تو پہلے والی اور بعد والی سنتیں ادا نہیں کیں۔ پھر انھوں نے کہا: اگر میں نے یہ نفلی نماز پڑھنی ہی ہوتی تو (فرض نماز کو بھی) پورا پڑھ لیتا۔

2415

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2415

Sahih

۔ (۲۴۱۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَر فِی سَفَرٍ فَصَلَّی الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَامَ اِلٰی طِنْفِسَۃٍ لَہُ، فَرَأَی نَاسًا یُسَبِّحُوْنَ بَعْدَھَا، فَقَالَ: مَا یَصْنَعُ ھٰؤُلَائِ؟ قُلْتُ: یُسَبِّحُوْنَ، قَالَ: لَوْ کُنْتُ مُصَلِّیَا قَبَلَہَا أَوْ بَعْدَھَا لَأَتْمَمْتُھَا، صَحِبْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قُبِضَ فَکَانَ لَایَزِیْدُ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ، وَأَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَتّٰی قُبِضَ فَکَانَ لَا یَزِیْدُ عَلَیْہِمَا، وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۵۱۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند )وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ظہر و عصر کی دو دو رکعتیں ادا کیں، پھر وہ اپنی ایک چٹائی کے لیے کھڑے ہوئے اور یہ دیکھ کر کہ لوگ اس کے بعد نفلی نماز پڑھ رہے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ میں نے کہا: نوافل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے فرض نمازوں سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز پڑھنی ہوتی تو فرائض کو ہی پورا پڑھ لیتا۔ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک ان کی صحبت میں رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات تک ان کے ساتھ بھی رہا، وہ بھی دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی ایسے ہی کرتے تھے۔