Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 40 · Chapter 410

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے

14 hadiths in this chapter

2357

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2357

Sahih

۔ (۲۳۵۷) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِی السِّمْطِ اَنَّہُ أَتٰی أَرْضًا یُقَالُ لَھَا دَوْمِیْنُ، مِنْ حِمْصَ عَلٰی رَأْسِ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ مِیلًا فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ لَہُ: أَتُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ؟ فَقَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، فَسَأَلْتُہُ، فَقَالَ: اِنَّمَا أَفْعَلُ کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ: کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن نفیر کہتے ہیں: جناب ابو سمط دو مین نامی جگہ پر آئے، جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے کہا: کیا تو دو رکعت نماز پڑھ رہا ہے؟اس نے کہا: میں نے تو سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ذی الحلیفہ دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: میں تو اسی طرح کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

2358

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2358

Sahih

۔ (۲۳۵۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَافَرَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِی رِوَایَۃٍ سِرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ) لَا یَخَافُ اِلَّا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا (اور ایک روایت میں ہے: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان کا سفر کیا) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر تھا، لیکن پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آنے تک دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے۔

2359

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2359

Sahih

۔ (۲۳۵۹) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ وَھْبِ نِ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنًی أَکْثَرَ مَا کَانَ النَّاسُ وَآمَنَہُ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناحارثہ بن وہب خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ منیٰ میں ظہر وعصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی اور امن بھی بہت تھا۔ ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ قصر کا تعلق دشمن کے خوف یا صرف جہادی سفر سے نہیں ہے، بلکہ ہر سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی، اس میں امن ہو یا خوف۔

2360

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2360

Sahih

۔ (۲۳۶۰) عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَکَّۃَ، فَقُلْتُ: اِذَا کُنَّا مَعَکُمْ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا، وَاِذَا رَجَعْنَا اِلٰی رِحَالِنَا صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔

2361

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2361

Sahih

۔ (۲۳۶۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِذَا لَمْ تُدْرِکِ الصَّلَاۃَ فِی الْمَسْجِدِ کَمْ تُصَلِّی فِی الْبَطْحَائِ قَالَ رَکْعَتَیْنِ سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: جب تم مسجد میں نماز (باجماعت) نہیں پاتے توبطحاء میں کتنی رکعتیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھتا ہوں اور یہی ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔

2362

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2362

Sahih

۔ (۲۳۶۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: اِنِّی أَکُوْنُ بِمَکَّۃَ فَکَیْفَ أُصَلِّی؟ فَقَالَ: رَکْعَتَیْنِ سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

(تیسری سند)میں نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا:جب میں مکہ میں ہوتا ہوں تو وہاں کیسے نماز پڑھوں؟ انھوں نے جواب دیا: دو رکعتیں اور یہی ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔

2363

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2363

Sahih

۔ (۲۳۶۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ سِتَّ سِنِیْنَ بِمِنًی فَصَلَّوْا صَلَاۃَ الْمُسَافِرِ۔ (مسند احمد: ۴۸۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اور سیّدناعثمان کے ساتھ چھ سال تک منی میں نماز پڑھی، وہ مسافر والی نماز پڑھتے تھے۔

2364

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2364

Sahih

۔ (۲۳۶۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فِی مَسْجِدِہِ بِالْمَدِیْنَۃِ أَرْبَعَ رَکْعَاتٍ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ آمِنًا لَا یَخَافُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مدینہ میں مسجد نبوی میں ظہر کی نماز کی چار رکعت پڑھائی، اور ذو الحلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی، یہ حجۃ الوداع کا (سفر تھا) ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امن کی حالت میں تھے اور کسی سے نہیں ڈر رہے تھے۔

2365

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2365

Sahih

۔ (۲۳۶۵) عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَزِیْدَ الْھُنَائِیِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاۃِ، قَالَ کُنْتُ أَخْرُجُ اِلَی الْکُوْفَۃِ فَأُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی أَرْجِعَ، وَقَالَ أَنَسُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ مَسِیْرَۃَ ثَـلَاثَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ ثَـلَاثَۃِ فَرَاسِخَ شُعْبَۃُ الشَّاکُّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

یحی بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ میں کوفہ کی طرف جاتا ہوں اور واپس لوٹنے تک دو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک نکلتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔

2366

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2366

Sahih

۔ (۲۳۶۶) عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: اُنْطُلِقَ بِنَا اِلَی الشَّامِ اِلٰی عَبْدِالْمٰلِکِ وَنَحْنُ أَرْبَعُوْنَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِیَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَکُنَّا بِفَجِّ النَّاقَۃِ صَلّٰی بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَہُ وَقَامَ الْقَوْمُ یُضِیْفُوْنَ اِلَی رَکْعَتَیْہِ رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللّٰہُ الْوُجُوہَ، فَوَاللّٰہِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّۃَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَۃَ، فَأَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((اِنَّ أَقْوَامًا یَتَعَمَّقُوْنَ فِی الدِّیْنِ یَمْرُقُوْنَ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم چالیس انصاری لوگوں کو شام میں عبد الملک کے پاس بھیجا گیا، تاکہ وہ ہمارے لیے کچھ مقرر کرے۔ جب وہ (انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) لوٹے اور ہم فَجُّ النَّاقَۃِ مقام تک پہنچے ، تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیرکر اپنے خیمے میں چلے گئے۔لیکن ہوا یوں کہ وہ (مقتدی) کھڑے ہو گئے اور ان دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، اس پر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ ان چہروں کا برا کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے سنت کو نہیں پایا اور نہ رخصت کو قبول کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک کچھ قومیں دین میں مبالغہ اور تشدد کی حد تک گھسیں گی، لیکن پھر دین سے یوں نکل جائیں گی، جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔

2367

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2367

Sahih

۔ (۲۳۶۷) عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی اِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی مَکَّۃَ فَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُہُ: ھَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَامَ بِمَکَّۃَ عَشْرًا۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔

2368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2368

Sahih

۔ (۲۳۶۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی رَکْعَتَیْنِ، وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْراً مِنْ اَمَارَتِہِ ثُمَّ أَتَمَّ۔ (مسند احمد: ۵۱۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے منی میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی دور میں دو دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہاں سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پوری پڑھا کرتے تھے۔

2369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2369

Sahih

۔ (۲۳۶۹) عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْأَبْطَحِ الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ (وَفِی لَفْظٍ) الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) ثُمَّ لَمْ یَزَلْ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی أَتَی الْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوجحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ابطح مقام پر عصر کی یا ظہر وعصر دونوں کی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

2370

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2370

Sahih

۔ (۲۳۷۰) عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ عَبَّادٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی (بْنَ أَبِی سُفْیَانَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَہُ مَکَّۃَ، قَالَ فَصَلّٰی بِنَا الظُّھْرَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی دَارِ النَّدْوَۃِ، قَالَ: وَکَانَ عُثْمَانُ حِیْنَ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ اِذَا قَدِمَ مَکَّۃَ صَلّٰی بِہَا الْظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَائَ الْآخِرَۃَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، فَاِذَا خَرَجَ اِلٰی مِنًی وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاۃَ، فَاِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنًی أَتَمَّ الصَّلَاۃَ حَتّٰی یَخْرُجَ مِنْ مَکَّۃَ، فَلَمَّا صَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ (یَعْنِی مُعَاوِیَۃَ) نَھَضَ اِلَیْہِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَہُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّکَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَہُ بِہِ، فَقَالَ لَھُمَا: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: فَقَالَا لَہُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّہُ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ بِمَکَّۃَ؟ قَالَ: فَقَاَلَ لَھُمَا: وَیْحَکُمَا، وَھَلْ کَانَ غَیْرَ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّیْتُہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ قَالَا: فَاِنَّ ابْنَ عَمِّکَ قَدْ کَانَ أَتَمَّہَا، وَاِنَّ خِلَافَکَ اِیَّاہُ لَہُ عَیْبٌ، قَالَ فَخَرَجَ مَعَاوِیَۃُ اِلَی الْعَصْرِ فَصَلَّاھَا بِنَا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

عباد کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ میں آئے، انھوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر دار الندوہ میں چلے گئے۔ جب سیّدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ میں آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ منی اور عرفات میں جاتے تو قصر نماز پڑھتے، پھر جب حج سے فارغ ہو جاتے اور منی میں اقامت اختیار کرتے تو پوری نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چلے جاتے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کے پاس گئے اور کہا: تو نے اپنے چچا زاد (سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) پر قبیح ترین عیب لگایا ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا؟ ان دونوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، جو عمل میں نے کیا ہے، کیا اس کی کوئی اور صورت بھی ہے؟ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ یہی نماز پڑھی ہے۔ لیکن ان دونوں نے پھر کہا: تیرے چچا زاد نے تو پوری پڑھی ہے اور یہ ان پر عیب ہے کہ تو ان کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عصر کے لیے آئے تو چار رکعتیں پڑھائیں۔