Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 40 · Chapter 407

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان

4 hadiths in this chapter

2332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2332

Sahih

۔ (۲۳۳۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَفَراً مِنْ بَنِیْ ھَاشِمٍ دَخَلُوا عَلٰی أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ فَدَخَلَ أَبُوبَکْرٍ وَھِیَ تَحْتَہُ یَوْمَئِذٍ فَرَآھُمْ فَکَرِہَ ذٰلِکَ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: لَمْ أَرَ اِلَّاخَیْراً۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَرَّأَھَا مِنْ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((لَا یَدَخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ یَوْمِی ھَذَا عَلٰی مُغِیْبَۃٍ اِلَّا وَمَعَہُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسما بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو سیّدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، کے پاس آئے، اتنے میں سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آ گئے، ان کو یہ بات ناگوار گزری، پس انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیااور یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے اس میں خیر ہی نظر آ رہی ہے، (یعنی کسی قسم کا سوئے ظن نہیں ہے)۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے اسماء کو ا س سے بری کردیا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اس عورت کے پاس نہ جائے،جس کا خاوند موجود نہ ہو، مگر اس صورت میں اس کے ساتھ ایک دو افراد ہونے چاہئیں۔

2333

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2333

Zaeef

۔ (۲۳۳۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلِجُوا عَلَی الْمُغِیْبَاتِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنْ أَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِ۔)) قُلْنَا: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((وَمِنِّی، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ۔))(مسند احمد: ۱۴۳۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: جن عورتوں کے خاوند گھر پر نہ ہوں، ان کے پاس نہ جایا کرو، کیونکہ شیطان تم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سے بھی(شیطان کا معاملہ ایسے ہی ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ سے بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی، اس لیے وہ مسلمان ہوگیا ہے۔

2334

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2334

Sahih

۔ (۲۳۳۴) عَنْ أَبِی صَالِحٍ قَالَ: اِسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلٰی فَاطِمَۃَ فَأَذِنَتْ لَہُ، قَالَ: ثَمَّ عَلِیٌّ؟ قَالُوْا: لَا، قَالَ: فَرَجَعَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَیْھَا مَرَّۃً أُخْرٰی، فَقَالَ: ثَمَّ عَلِیٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا، فَقَاَلَ لَہُ عَلِیٌّ: مَا مَنَعَکَ أَنَّ تَدْخُلَ حِیْنَ لَمْ تَجِدْنِی ھٰہُنَا؟ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَی الْمُغِیْبَاتِ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوصالح کہتے ہیں کہ سیّدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے (گھر میں آنے کی ) اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت دے دی، انھوں نے اندر آ کر پوچھا: یہاں سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا:نہیں۔ پس وہ واپس چلے گئے۔ وہ بعد میں پھر ایک دفعہ آئے اور اجازت طلب کی اور پوچھا کہ کیا سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہاں پر موجود ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اندر آ گئے۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا: تم کو (پچھلی دفعہ) میری عدم موجودگی میں کس چیز نے گھر میں آکر (یہاں بیٹھنے سے) منع کیا تھا؟سیّدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ان عورتوں پر داخل ہونے سے منع فرمایا،جن کے خاوند گھر پر موجود نہ ہوں۔

2335

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2335

Zaeef

۔ (۲۳۳۵) عَنِ ابْنِ أَبِی قَتَادَۃً عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَعَدَ عَلٰی فِرَاشِ مُغِیْبَۃٍ قَیَّضَ اللّٰہُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُعْبَانًا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس عورت کے بستر پر بیٹھے جس کا خاوند گھر پر موجود نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس پر ایک سانپ مسلط کرے گا۔